پی ٹی آئی کے پرامید کارکنان
16 جولائی 2020 (15:19) 2020-07-16

آپ پی ٹی آئی کے کارکنوں کو بطور مثال لے لیجئے ۔ ان کے ساتھ آپ کے ہزار اختلافات ہو سکتے ہیں ان کی باتوں پر لعنت بھیج سکتے ہیں۔ ان کے ساتھ علمی باتیں نہ ہونے کے برابر ہیں اور دلیل جس چیز کا نام ہے یہ لوگ ان کے قریب سے بھی نہیں گزرتے۔ آپ یقین کیجیئے یہ لوگ بحث کے دوران لڑنے پر اتر آتے ہیں اور کبھی کبھار تو لاتوں ، گھونسوں اور مکوں سے بھی کام چلا لیتے ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا ان کا سوشل میڈیا پر خاص طور پر مذاق بھی اڑایا جاتا ہے یہ اس مذاق کا جواب بھی دلیل کے بغیر دیتے ہیں۔ نوجوانوں کی شرح پاکستان میں پوری دنیا کے مقابلے میں بہت ذیادہ ہے اور یہاں کوئی کچھ بھی کہہ لیں لیکن پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ نوجوانوں کی بہت ذیادہ تعداد ہے۔ ان کے پاس پچھلے کئی سالوں سے صرف ایک ہی بحث ہے اور وہ ہے سیاست۔ یہ سیاسی میدان میں خود کو ارسطو بھی سمجھتے ہیں اور کایا پلٹنے میں خود کو جدید دنیا کا نیلسن منڈیلا بھی۔ بات اخلاقی اقدار کی ہو ، معیشت کی ہو ، سماج کی ہو ، کھیل کی ہو ، فن کی ہو یا سیاست کی یہ ہر موضوع پر دلیل سے بات کرنے کا ملکہ خاص رکھتے ہیں۔ ان کے ساتھ آپ جس بات پر بھی بحث کریں گے یہ اس بحث میں عمران خان کی شخصیت کو لازمی طور پر شامل کریں گے اور اس کے بعد یہ زمین و آسمان کی قلابیں ملائیں گے اور آپ کے سامنے یہ ثابت کرکے ہی رہیں گے کہ عمران خان ہی وہ واحد انسان اور نجات دہندہ ہے جو ہماری حالت بدل سکتا ہے۔

لب لباب یہ ہے کہ آپ ان کے ساتھ ہر بات میں اختلاف رکھ سکتے ہیں ، ان کی مذمت کرسکتے ہیں ، ان کو ملک و قوم کے تمام نقصانات کا ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں لیکن آپ ان کے خلوص پر ، ان کے جذبے پر اور ان کے اپنی قیادت پر اعتماد پر شک نہیں کرسکتے۔ آپ بے شک ان کو تاریخ کے کوڑا دان میں پھینک دیجئیے لیکن آپ کو ان کی چند بنیادی خوبیوں کو تسلیم کرنا ہوگا۔

ان لوگوں نے ایک خواب دیکھا تھا جس میں ایک پوری اجتماعیت کو شامل کیا تھا۔ آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن اس خواب کو دیکھتے وقت ان لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ کبھی ایسے حالات بھی پیدا ہوجائیں گے جن کی وجہ سے ان کی اعلیٰ قیادت کو لوگ کوسیں گے۔ آپ کو یاد ہوگا ان کی قیادت نے جب بھی ان کو بلایا جہاں بھی بلایا یہ وہاں پہنچ گئے۔ ان لوگوں نے موسم کی سختیوں کا خیال کیا نہ ذاتی مسائل کا رونا رویا۔ ملک کی تمام شاہراہوں پر ان کے قدموں کے نشانات موجود ہیں ان ساری کوششوں کے پیچھے ان تمام ورکروں نے کوئی انفرادی فائدہ شامل نہیں کیا تھا۔ آپ یقین کیجیئے ان لوگوں نے ذاتی روزگار کے لئے ذاتی فائدوں کے لئے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ ان کے پیچھے بس ایک ہی موٹیویشن تھی جب آئے گا عمران سب کی جان بڑھے گی اس قوم کی شان بنے گا نیا پاکستان۔

ان کے قائد کی پکار تھی کہ میرے علاوہ سب چور ہیں انہوں نے سر تسلیم خم کیا۔ ان کے قائد نے جب کہا کہ میں وہ واحد انسان ہوں جسے اس قوم کے لئے آخری امید سمجھا جاسکتا ہے ان لوگوں نے سوال نہیں اٹھایا بلکہ سر جھکایا اور اسی کو حرف آخر سمجھنے لگے۔ میں اب بھی بے شمار پی ٹی آئی ورکروں کو دیکھتا ہوں جو بے روزگار ہیں ، بھوکے ہیں ، پیاسے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ خان صاحب کے خلاف ایک لفظ تک برداشت نہیں کرتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ امید کا دامن نہیں چھوڑتے۔ آپ کو پتا ہے انتہائی سخت حالات میں بھی یہ پر امید رہتے ہیں۔ ان کو جب کہا جاتا ہے کہ تبدیلی کہاں ہے۔ ادارے دم توڑ رہے ہیں عوام در بہ در ہیں تو یہ سادہ انداز میں جواب دیتے ہیں۔ خان صاحب کو تھوڑا وقت چاہئے ان شاء اللہ ایک دن آئے گا جب پورا پاکستان جھوم اٹھے گا۔

ان ساری خوبیوں کے بعد میں ببانگ دہل کہتا ہوں کہ یہ لوگ بے شمار خامیوں کے باوجود نیت کے صاف ہیں۔ اس بڑی اجتماعیت کے پاس بس ایک ہی سوچ ہے کسی طرح پاکستان عالمی دنیا میں اپنا مقام پیدا کریں اور اسی وجہ سے یہ لوگ اپنے قائدین کی ہر بات کو سپورٹ کرتے رہتے ہیں لیکن میرے ذہن میں ایک کنفیوڑن ہے اگر اس بڑی اجتماعیت کو مایوس کیا گیا تو نتیجہ کیا ہوگا۔ پہلے پہلے جب حکومت آئی تو ان لوگوں کا اعتماد آسمان کی بلندیوں کو چھو رہا تھا لیکن پھر رفتہ رفتہ ان کے اعتماد میں کمی آئی اور پٹرول کرائسز میں جب یہ لوگ خود قطاروں میں خوار ہو رہے تھے تو ان کے اپنے ان کو کوس رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان کے پاس یہی امید ہی واحد چیز ہوتی ہے جس کو لے کر یہ دوسروں کو یہی کہہ رہے ہوتے ہیں خان صاحب رفتہ رفتہ چیزوں کو ٹھیک کرلیں گے۔

خان صاحب ان لوگوں کے بل بوتے پر بڑے بڑے مافیاز کو پکارتے رہے۔ الیکشن کے دنوں میں یہ جنون شدت اختیار کرگیا اور خان صاحب اقتدار کے تخت پر براجمان ہوگئے۔ خان صاحب اگر صرف ان لوگوں کی محبت کی یاد تازہ کریں تو مجھے یقین ہے ان کے سامنے کوئی مافیا ٹھہر نہیں سکے گا۔ آپ کو یاد ہوگا خان صاحب ایک جلسے کے دوران سٹیج سے گر کر زخمی ہوئے تھے میں نے بے شمار ایسے ورکرز دیکھے تھے جو کئی دن روتے رہے ۔ اس محبت کا تقاضہ کیا ہے آسان سی بات ہے ان لوگوں کی امید کو زندہ رکھنا۔ آپ یقین کیجیئے ایسے مخلص لوگ جس بھی پارٹی کے پاس ہونگے وہی کامیابی کی طرف جائے گی۔

خان صاحب اور اس کی حکومت کو جس دن پی ٹی آئی کے ورکروں کا جنون حقیقت میں نظر آجائیگا آپ یقین کیجیئے اسی دن سے حقیقت میں یہ لوگ تبدیلی کی طرف اس ملک کو لے جاسکیں گے۔ ایسا اگر ہوا تو ٹھیک ورنہ یاد رکھئیے ایک بڑی اجتماعیت جن کے نیت کم سے کم صاف ہیں مایوسی کی طرف بڑھ رہی ہے اور خان صاحب اگر اس مایوسی کے آگے بندھ نہ باندھ سکے تو تاریخ کبھی ان کو معاف نہیں کرے گی۔


ای پیپر