جانے کہاں گئے وہ دن ؟!
16 جولائی 2020 2020-07-16

میں اپنے گزشتہ کالم میں اپنے سینماﺅں کے زوال پر بات کررہا تھا۔ سینما گری کا رجحان ختم یا کم شاید اس لیے ہوا اچھی فلموں یا ایسی فلمیں بننا بند ہوگئیں جن کی وجہ سے سینما گھروں میں ”کھڑکی توڑ رش“ ہوا کرتا تھا، لوگوں کو ٹکٹوں کی ایڈوانس بکنگ کروانا پڑتی تھی، جیسا کہ گزشتہ کالم میں بھی عرض کیا تھا کسی اچھے سینما میں لگی اچھی فلم کی ٹکٹیں حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ سفارشیں ڈھونڈنا پڑتی تھیں، ممتاز کامیڈین منورظریف (مرحوم) اُس دور کی فلموں میں چھائے ہوئے تھے، وہ ”پیدائشی کامیڈین“ تھے، اکثر بچے روتے ہوئے پیدا ہوتے ہیں، مجھے یقین ہے وہ اِس انداز میں روتے ہوئے پیدا ہوئے ہوں گے اُن کے پاس کھڑے لوگ مسکرا دیئے ہوں گے، میرے والد محترم اُن کے بڑے عاشق تھے۔ اُن کا ایک ایک ڈائیلاگ ، ایک ایک جملہ ، خاص طورپر وہ مزاحیہ جملے جو وہ سکرپٹ سے ہٹ کر فی البدیہہ بولتے تھے وہ اتنے یادگار جملے ہوتے تھے اُن جملوں یا ڈائیلاگ کی وجہ سے فلم ہٹ ہوجایا کرتی تھی، .... ابوجی نے پہلی فلم جو کسی سینما میں (شاید مبارک سینما تھا) ہمیں لے جاکر دکھائی وہ منورظریف کی ”بنارسی ٹھگ“ تھی ،....اُس زمانے میں چونکہ ہمارے حکمران، سیاستدان، افسران اور دیگر شعبوں کے لوگ لُوٹ مار نہیں کرتے تھے چنانچہ ہم جب ”بنارسی ٹھگ“ دیکھنے جارہے تھے ذہن کے کسی کونے یا گوشے میں نہیں تھا یہ فلم کسی سیاستدان یا حکمران پر بنائی گئی ہے، .... آج اس نام (بنارسی ٹھگ) سے کوئی فلم بنائی جائے فوراً ذہن میں خیال آئے گا یہ شاید شریفوں، زرداریوں، ترینوں یا چودھریوں وغیرہ پر بنائی گئی ہے، .... بنارستی ٹھگ بڑی کمال کی فلم تھی، منورظریف کو اس میں ایک ”ٹھگ“ کے روپ میں دکھایا گیا تھا، فلم میں وہ ایسے ایسے کمال طریقوں سے لوگوں کو ٹھگتا اُسے یا اُس کی ”ٹھگیوں“ کو پکڑنا پولیس کے لیے ایک بڑا امتحان بن جاتا، اِس فلم کے سارے گانے بڑے ہٹ ہوئے، خاص طورپر ایک گانا بہت ہی ہٹ ہوا اور آج بھی ہمارے پرانے لوگ ملکہ ترنم نور جہاں کا یہ گانا (اکھ لڑی بدوبدی، موقع ملے کدی کدی، کل نئیں کسے نے ویکھی ، مزالیئے اج دا) سنتے ہیں ایک ایسی کیفیت اُن پر طاری ہوجاتی ہے جیسے ابھی تک وہ اُسی زمانے میں جی رہے ہوں، اُس زمانے میں لوگ واقعی جیتے تھے، اب بس زندگی بسر کرتے ہیں، جینے میں زندگی بسر کرنے میں فرق ہوتا ہے، یہ فرق کوئی کوئی سمجھتا ہے، .... ہم نے پہلی بار اتنی بڑی سکرین دیکھی تھی، گھر میں ایک بلیک اینڈ وائٹ ٹیلی وژن تھا، یہ شاید آرجی ای کمپنی کا تھا، اُس کی سکرین کے آگے باقاعدہ ایک کھڑکی تھی، اُس کے دوپٹ تھے جو دونوں اطراف سے کھلتے تھے، اُس زمانے میں ٹیلی وژن جس کے گھر میں ہوتا اُسے ”کھاتا پیتا گھرانا“ سمجھا جاتا تھا، ٹیلی وژن ، فریج، ٹیلی فون ( پی ٹی سی ایل) اور وی سی آر جن گھروں میں ہوتے، محلے میں اُن کی بڑی اہمیت ہوتی تھی، ٹیلی فون گھر یا دکان پر لگوانے کے لیے کئی کئی برس پہلے درخواست جمع کروانی پڑتی تھی، کل میں اپنے اکلوتے صاحبزادے راحیل بٹ کو بتارہا تھا اور وہ آگے سے حیرانی سے ” نہ کریں بابا، نہ کریں بابا“ کہتا جارہا تھا کہ ہمارے گھر میں ٹیلی فون (پی ٹی سی ایل) درخواست جمع کروانے کے چودہ برس بعد بھی ایک تگڑی سفارش سے لگاتھا۔ سرگودھا کے ملک نورحیات نون اُس وقت وفاقی وزیر مواصلات تھے پی ٹی سی ایل کا محکمہ اُن کے انڈر تھا۔ اُن کے ایک کزن ملک خدابخش ٹوانہ پنجاب کے وزیر اوقاف تھے، وہ ایک بار گورنمنٹ کالج لاہور کی ایک تقریب میں آئے، یہ شاید ایک محفل مشاعرہ تھی، جس میں میرا کلام سن کر وہ بڑے متاثر ہوئے، جاتے ہوئے اپنا وزٹنگ کارڈ مجھے دے گئے، کچھ دن بعد میں اپنے عزیز دوست دلاور ڈار (حال مقیم آسٹریلیا) کے ساتھ اُن سے ملنے گیا، ہم نے اُن سے گزارش کی وہ اپنے کزن (وفاقی وزیرمواصلات) سے سفارش کردیں کہ ہمارے گھروں میں فون ترجیحی بنیادوں پر لگا دیئے جائیں، انہوں نے فوراً اپنے کزن کے نام ہمیں ایک ”رقعہ “ (خط ) لکھ دیا، اُس زمانے میں اکثر سفارش خط کے ذریعے ہی کی جاتی تھیں جسے شاید ” ڈی اولیٹر“ کہتے تھے، اِس لیٹر کی بڑی اہمیت ہوتی تھی، آج تو کوئی وزیر کسی جائز کام کے لیے کسی کو دس دس بار فون کرے تب بھی کام نہیں ہوتے، اُس زمانے کے وزیروں کا بڑا دبدبا ہوتا تھا ، وہ آج کے وزیروں کی طرح ” ٹکے ٹوکری“ نہیں ہوتے تھے، .... ہم جب وہ لیٹر لے کراسلام آباد وفاقی وزیر مواصلات کے گھر پہنچے سٹاف لیٹر دیکھ کر بڑی عزت دی، اُس کے بعد ہمیں چائے وغیرہ پلا کر وزیر صاحب سے ملوایا گیا، ہم چودہ پندرہ برس قبل جمع کروائی جانے والی درخواستوں کی وصولی کی رسیدیں ساتھ لے گئے تھے ، وزیر صاحب نے وہ رسیدیں دیکھیں، اُن کے اُوپر ہی جی ایم ٹیلیفون لاہور کو تحریری ہدایت فرما دی "This Telephone Commection may be given immidiatly" ہم لاہور واپس آگئے، اگلے روز ایجرٹن روڈ پر واقع ٹیلی فون لاہور کے ہیڈ آفس میں جاکر وہ رسیدیں جی ایم ٹیلی فون کو دکھائیں اُنہوں نے فوری طورپر ڈیمانڈ نوٹس تیار کرنے کا حکم جاری کردیا، اُس کے چند ہفتوں بعد ہمارا فون لگ گیا، مجھے یاد ہے پورے محلے میں ہم نے مٹھائی تقسیم کی ، محلے کے بے شمار لوگ مبارک دینے ہمارے گھر بھی آئے۔ تب محلوں میں ایک دوسرے سے لوگ خونی رشتوں سے زیادہ محبت کرتے تھے، محلے دار کی اتنی حیثیت ہوتی تھی وہ خاندان کا باقاعدہ فرد سمجھا جاتا تھا، سو کسی کے گھر میں فون لگتا وہ اُس کا نمبر سارے محلے کو دے دیتا۔ مقصد یہ ہوتا تھا کسی نے فون کرنا ہو، یا سننا ہو، بلا جھجھک کرسکتا ہے یا سُن سکتا ہے۔ کسی محلے دار کے کسی عزیز کی کال آجاتی اُن کا گھر چاہے کتنے فاصلے پر کیوں نہ ہوتا امی یا ابو کی طرف سے ہمیں حکم جاری ہوتا جاکر اُنہیں بلاکر لائیں، وہ آکر بیٹھ جاتے، بعض اوقات کتنی کتنی دیر تک اُن کی کال نہ آتی، وہ بیٹھے رہتے، اُن کی خاطر تواضح کی جاتی، اور ذرا بیزاری کا اظہار نہ کیا جاتا، اسی طرح محلے میں جن کے گھروں میں ٹیلی وژن نہیں ہوتے تھے جس دن کوئی فلم یا ڈرامہ وغیرہ لگنا ہوتا وہ ٹیلی وژن والے گھروں میں آجاتے۔ ہفتے میں ایک بار فلم لگتی تھی، اُس زمانے کے ڈرامے فلموں سے زیادہ اہمیت کے حامل ہوتے تھے، اُن میں کوئی نہ کوئی سبق ہوتا تھا، کہانی اور کرداروں میں جان ہوتی تھی، رائٹرز محنت کرتے تھے خصوصاً اس بات کا خیال رکھتے تھے اُن کے ڈراموں سے سوسائٹی میں کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو، آج کے اکثر رائٹرز کی طرح اُن کی سوچ کمرشل یا کاروباری نہیں ہوتی تھی، آج کے کچھ بلکہ اکثر ڈراموں نے معاشرے میں اتنا بگاڑ پیدا کردیا ہے خونی رشتوں کی پامالی اور بے حرمتی معمول کا ایک عمل بن گیا ہے، اس کے بغیر رائٹرکو لکھنے کا مزا آتا ہے نہ لوگوں کو دیکھنے کا آتا ہے۔ (جاری ہے)


ای پیپر