گوگل کے خلاف غداری کی تحقیقات ہونی چاہیے، امریکی صدر ٹرمپ
16 جولائی 2019 (22:47) 2019-07-16

نیویارک : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ انتظامیہ سے انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل کے خلاف تحقیقات کروانا چاہتے ہیں کہ گوگل چینی حکومت کے ساتھ کام کررہا ہے یا نہیں۔

فرانسیسی میڈیا رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے پیٹر تھائیل کی جانب سے غیرمصدقہ بیان دیا کہ گوگل چینی حکومت یا فوج کے ساتھ کام کررہا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کرنے والے پیٹیر تھائیل کا موقف تھا کہ گوگل کے خلاف غداری کے تحقیقات ہونی چاہیے۔

امریکی صدر نے کہا کہ یہ بات ایک عظیم اور بہترین شخص نے کہی ہے جو ٹیکنالوجی کو کسی سے بھی زیادہ بہتر طریقے سے جانتے ہیں، ٹرمپ انتظامیہ اس معاملے کو دیکھے گی اس حوالے سے گوگل نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور تحقیقات سے متعلق پیٹر تھائیل کے مقاصد پر سوال اٹھایا جو ایک طویل عرصے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی ہیں۔

گوگل نے بیان میں کہا کہ جیسا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں ہم چینی فوج کے ساتھ کام نہیں کرتے۔2010 میں چین کی جانب سے سرچ کے نتائج کو سینسر کرنے کی کوششوں کی وجہ سے گوگل نے چین سے سرچ انجن کا خاتمہ کردیا تھا۔

حال ہی میں گوگل نے چین کے لیے ترمیم شدہ ورڑن پر تحقیق کا آغاز کیا تھا لیکن اس سرچ انجن کو بیجنگ میں استعمال کی اجازت دینے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ گوگل چین میں اپنا کاروبار محدود کرچکا ہے لیکن رواں سال جاری کی گئی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ اس کے ایک سائنسدان نے ایک تحقیقی منصوبے میں شرکت کی تھی جس میں شہری اور ملٹری دونوں ایپلیکیشنز موجود ہوسکتی ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی صدر مختلف مواقع پر گوگل پر تنقید کرتے رہے ہیں اور گوگل کو خود سمیت اپنے حامیوں کے خلاف تعصب پسندی کا الزام بھی عائد کیا تھا۔رواں سال کے آغاز میں ٹرمپ نے پینٹاگون کے کمپیوٹنگ کانٹریکٹ کی بولی سے دستبردار ہونے پر گوگل پر تنقید کی تھی بعدازاں گوگل کے چیف ایگزیکٹو سندر سے ملاقات کے بعد امریکی صدر نے نرم لہجہ اختیار کیا تھا۔

گزشتہ برس اگست میں ڈونلڈ ٹرمپ نے گوگل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ گوگل نیوز سرچ میں دھاندلی کے ذریعے ان کے خلاف خبریں دکھائی جارہی ہیں۔


ای پیپر