ویڈیو لیکس کو دیکھنے کی ضرورت ہے : چیف جسٹس
16 جولائی 2019 (19:43) 2019-07-16

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے احتساب عدالت اسلام آباد نمبر دو کے جج محمد ارشد ملک کی مبینہ متنازع ویڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے بعد اٹارنی جنرل انور منصور خان سے اس معاملے پر تجاویز طلب کرلیں جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ نے کہا ہے کہ کوئی شک نہیں کہ معاملے میں غیر معمولی باتیں بھی ہیں، اس بات سے مکمل اتفاق ہے معاملے کودیکھنے کی ضرورت ہے، ہمارے سامنے مسئلہ اور ہے کہ یہ معاملہ کس کو اور کب دیکھنا چاہیے، یہ معاملہ پہلے ہی ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے،اصل معاملہ عدلیہ کی ساکھ ہے، لوگوں کو عدلیہ پر اعتماد نہیں ہوگا تو انصاف کیسے ہوگا، بنیادی مسئلہ ہی عدلیہ کے اعتماد کا ہے،اگر کوئی توہین کا مرتکب ہوا ہے تو اس کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل تین رکنی بینچ نے وکیل اشتیاق احمد مرزا کی جانب سے اپنے وکیل چوہدری منیر صادق کے ذریعے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی۔عدالت عظمیٰ نے معاملے کے حقائق کی مکمل تحقیقات کیلئے ایڈووکیٹ سہیل اختر کی طرف سے اپنے وکیل محمد اکرام چوہدری کے توسط سے دائر درخواست جبکہ ایڈووکیٹ طارق اسد کی جانب سے خود دائر کی گئی الگ الگ درخواستوں پر بھی سماعت کی۔

سماعت کے موقع پر محمود خان اچکزئی ، طارق فضل چوہدری، جاوید ہاشمی اور رفیق رجوانہ بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔عدالت میں سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے کہاکہ پہلے اشتیاق مرزا کے وکیل کو سْن لیتے ہیں۔درخواست گزار اشتیاق مرزا کے وکیل منیر صادق نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ مریم نواز نے چھ جولائی کو پریس کانفرنس کی، پریس کانفرنس میں جج ارشد ملک پر سنگین الزامات لگائے گئے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ میڈیا بریفنگ کہاں ہوئی ۔ وکیل نے جواب دیا کہ میڈیا بریفنگ لاہور میں ہوئی ۔

انہوں نے کہاکہ ویڈیو لیکس اسکینڈل کے ذریعے عدلیہ پر سوالات اٹھائے گئے، یہ عدلیہ کی آزادی اور وقار کے حوالے سے ایک اہم اور حساس معاملہ ہے، لہٰذا عدالت اس معاملے کی تحقیقات کروا کر ذمہ داران کا تعین کرے۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ یہ مقدمہ مفاد عامہ کا ہے، مریم نواز نے 6 جولائی کو لاہور میں پریس کانفرنس کی، جس میں کچھ الزامات لگائے گئے، جس میں کہا گیا کہ عدلیہ دباؤ میں کام کر رہی ہے۔وکیل نے کہا کہ یہ سنگین الزامات ہیں، اس کی انکوائری ہونی چاہیے، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ چاہتے کیا ہیں، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میں سچ کی تلاش چاہتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور وکلا نے ویڈیو اسکینڈل کی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور چیف جسٹس سے ازخود نوٹس لینے کا کہالہٰذا ایک کمیشن بنایا جائے، بے شک یہ کمیشن ایک رکنی ہی کیوں نہ ہو۔وکیل کے جواب پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس کمیشن کا سربراہ کون ہو جس پر وکیل نے کہا کہ جج کمیشن کے سربراہ ہو اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ ایسا کلچر بن گیا ہے کہ ایک کے خراب ہونے پر سب کو ایسا سمجھا جاتا ہے، کہا جاتا ہے کہ سارے جج ایسے ہیں، سارے سیاستدان ایسے ہیں۔

چیف جسٹس نے پوچھا کہ یہ بتائیں کہ کمیشن کیا دیکھے، اس پر وکیل نے کہا کہ کمیشن سچائی کو دیکھے کہ اگر الزام ثابت ہو تو ان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہونی چاہیے۔دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج نے بیان حلفی کے ذریعے کچھ حقائق بیان کیے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس معاملے پر عدلیہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی اور امیر جماعت اسلامی نے بھی عدلیہ سے اس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، سیاسی جماعتوں کا موقف ہے کہ عدلیہ تحقیقات کرے، اس کے علاوہ پاکستان بار کونسل (پی بی سی) نے بھی یہی مطالبہ دہرایا۔

وکیل کے دلائل پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ لوگوں کے کہنے پر کوئی کام کریں گے تو کیا ہم آزاد ہوں گے، ازخود نوٹس کسی کے مطالبے پر لیں تو پھر وہ ازخود نوٹس نہیں ہوا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب سے بنی نوع انسان کی پیدائش ہوئی ہے، سچ کی تلاش جاری ہے، اگر یہ سچ تلاش کرنا ہے تو پھر جن ججوں نے مرکزی اپیل سنی ہے وہ کیا کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کوئی فیصلہ دیا تو ہائی کورٹ پابند ہو جائے گی، پھر ہائی کورٹ کیسے کارروائی کرے گی۔اس پر وکیل صفائی نے کہا کہ فیصلہ سپریم کورٹ کا نہیں بلکہ کمیشن کی فائنڈنگ پر ہو جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ میں آپ کو اسی طرف لے کر آنا چاہ رہا تھا، کمیشن کی فائنڈنگ پر کوئی عدالت نوٹس نہیں لے سکتی۔ دور ان سماعت وکیل نے کہاکہ پانامہ کیس میں بھی جے آئی ٹی بنائی گئی۔

چیف جسٹس نے کہاکہ وہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی معاونت کے لئے تھی۔ وکیل نے کہاکہ کسی کی ہمت نہیں ہونی چاہیے کہ جج ک بلیک میل کرے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ بے شک آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ہم نے آپ کی تجویز نوٹ کر لی۔دور ان سماعت وکیل نے میموگیٹ کیس کا حوالہ دیا ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ یہ تو عدالت کا اختیار ہے کہ وہ جس سے انکوائری کرائے۔ اس دوران درخواست گزار اشتیاق مرزا کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر دوسرے درخواست گزار سہیل اختر کے وکیل اکرام چوہدری نے دلائل دینا شروع کیے۔اکرام چوہدری نے دلائل دئیے کہ مریم نواز کا بیان ہے کہ نواز شریف کے خلاف دباؤ پر فیصلہ کیا گیا، ساتھ ہی انہوں نے عدالت میں نواز شریف کا بیان اور جج ارشد ملک کا بیان حلفی بھی پڑھا۔وکیل نے کہا کہ کسی ادارے پر سے اعتبار اٹھنا بذات خود بنیادی حقوق کا معاملہ ہے، ان جج کے بیان کو انتہائی احتیاط سے دیکھنا چاہیے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو جج نے کہا وہ انتہائی غیر معمولی باتیں ہیں، ہمیں بتائیں ہم کیا کر سکتے ہیں کیا نہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ وکیل نے جج کو کرسی ماری یہ بھی غیرمعمولی معاملہ ہے لیکن ایک جج نے وکیل کو پیپرویٹ مارا تو کیا یہ غیر معمولی معاملہ نہیں؟۔اس پر وکیل نے جواب دیا کہ اگر عدلیہ سے متعلق بیانات جاری رہے تو پھر ہائیکورٹ کو فیصلہ کرنے میں دباؤ ہوگا۔نجی ٹی وی کے مطابق جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ پہلا نقطہ ادارے کا معاملہ ہیں، دوسرا سوال فیصلہ درست ہونے یا نہ ہونے کا ہے، تیسرا سوال جج کے کنڈکٹ کا ہے، جج کے کنڈکٹ پر قانون موجود ہے، نواز شریف کے خلاف فیصلہ درست ہے یا غلط فیصلہ اعلی عدلیہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسی تجویز چاہتے ہیں جس سے جذبات کے بغیر فیصلہ کیا جاسکے، اس پر وکیل صفائی نے کہا کہ سپریم کورٹ توہین عدالت کی کارروائی کا آغاز کرے۔اس پر چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جو الزامات جج پر لگائے گئے ہیں، اس معاملے کو کون دیکھے گا، کیا وہ جج خود دیکھے گا جس پر الزامات ہیں۔سماعت کے دوران وکیل نے استدعا کی فوجداری اور سائبر قوانین کے تحت عدلیہ معاملے کی تحقیقات کروائے جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ ملک میں جتنے مقدمات درج ہوتے ہیں، جتنی تفتیش ہوتی ہے، کیا سپریم کورٹ کے حکم سے ہوتی ہیں۔وکیل اکرام چوہدری نے کہا کہ بیانات اور پھر جوابی بیانات کی وجہ سے عدلیہ کی تضحیک ہورہی ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم اسی وجہ سے اس مقدمے کو سن رہے ہیں۔بعد ازاں دونوں درخواست گزاروں کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر کیس کی سماعت میں مختصر وقفہ کردیا گیا۔

وقفے کے بعد سماعت کا آغاز ہوا تو تیسرے درخواست گزار طارق اسد نے دلائل دینا شروع کیے اور کہا کہ ویڈیو کو فورنزک کے ذریعے جانچا جائے، جج کبھی جاتی امرا جارہے ہیں تو کبھی عمرے پر ملاقاتیں کررہے ہیں۔طارق اسد نے کہا کہ جج اتنے اہم مقدمات سننے کے باوجود ملاقاتیں کرتے رہے، حکومت اور ایجنسیاں کہاں تھیں، یہ مقدمہ عدلیہ کی خود مختاری سے متعلق ہے، کچھ اور اس ادارے بھی دخل اندازی کر رہے ہیں۔اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ادارے کے دخل اندازی کی بات کر رہے ہیں ، ساتھ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ادارے دخل دیں، جس پر وکیل نے کہا کہ ادارے دخل اندازی کر رہے ہیں لیکن اپنا کام نہیں کر رہے ہیں۔وکیل نے کہا کہ ارشد ملک کا طریقہ کار یہ بات ثابت کرتا ہے کہ وہ بدعنوان سرگرمیوں میں ملوث رہے ہیں، ایک غیر ملکی فیصلے میں قرار دیا گیا جج کے تعصب پر دوبارہ ٹرائل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ٹی وی چینلز پر جس طرح کے ٹاک شوز ہوتے ہیں میں کمرے سے باہر چلا جاتا ہوں، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کمرہ چھوڑنے کے بجائے ایک بٹن ہوتا ہے اسے دبا کر ٹی وی بند کر دیا کریں۔ چیف جسٹس کے اس ریمارکس پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔سماعت کے دوران درخواست گزار نے سپریم کورٹ کے جج پر مشتمل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا، اس پر عدالت نے کہا کہ حکومت کو بھی کمیشن بنانے کا اختیار ہے لیکن آپ کہہ رہے ہیں کہ عدلیہ کمیشن بنائے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ احتساب عدالت کے جج لاہور ہائی کورٹ کے ماتحت تھے، وفاقی حکومت نے ڈیپوٹیشن پر ان کا تقرر کیا تاہم یہ ویڈیو کی ساخت کا معاملہ ہے فورم کو کونسا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ دوسری باتیں عوامی باتیں ہیں، کسی کی نجی ویڈیو کیسے بنائیں، کیسے عوام کے سامنے آئی اس کو دیکھنا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جب سب کچھ سپریم کورٹ کرتی ہے تو اعتراض ہوتا ہے لیکن جب ہم ہاتھ کھینچتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کرے، ہم نے فیصلہ کرنا ہے معاملے میں کہاں ہاتھ ڈالنا ہے کہاں نہیں۔

انہوں نے کہا کہ جج کے مس کنڈکٹ (غلطی) کو بھی جاننا ہے، ہم نے دیکھنا ہے کہاں مداخلت کرنی ہے، عنقریب ہم کچھ چیزیں طے کریں گے۔دور ان سماعت چیف جسٹس نے کہاکہ وڈیو درست یا نہیں اس بات کا یقین ہونا چاہئے۔ انہوںنے کہاکہ وڈیو اور آڈیو کے قابل قبول ہونے کے کئی پہلو دیکھنے ہوتے ہیں ، اس میں بہت سے لوگ ملوث ہیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ جج صاحب کے مس کنڈکٹ کا معاملہ بھی ہے ،توہین عدالت کا معاملہ بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سب کچھ ہمارے سر پر ڈال دیا گیا۔انہوںنے کہاکہ جب ہم کچھ کرتے ہیں تو کہتے ہیں سپریم کورٹ نے یہ کر دیا،اب ہم نے ہاتھ روک دیا تو کہا جا رہا ہے سپریم کورٹ ہی کچھ کرے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ ہم سب پہلوئوں کو دیکھیں گے، تمام تجاویز ہمارے پاس ہیں ہم ان پر غور کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کہا گیا کہ فیصلے سے قبل جج پر دبائوڈالا گیا، یہ بھی کہا گیا فیصلے کے بعد بھی دبائو ڈالا گیا ، یہ تمام پہلو بھی ہم دیکھیں گے۔بعد ازاں عدالت نے اس معاملے پر اٹارنی جنرل سے تجاویز طلب کرتے ہوئے تجاویز طلب کریں ، کیس کی مزید سماعت 23جولائی تک ملتوی کر دی گئی ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ٹارنی جنرل آکر اپنا موقف دیں گے۔ قبل ازیں چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل کہاں ہیں جس پر بتایاگیاکہ وہ کلبھوشن کیس کے لئے ملک سے باہر ہیں ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ہم اٹارنی جنرل کی تجاویز بھی سننا چاہتے ہیں ۔


ای پیپر