”ضمیر پہ بوجھ“
16 جولائی 2019 2019-07-16

حالیہ ریلوے کے تازہ ترین حادثے پہ شیخ رشید نے کہا ہے، کہ یہ حادثہ میرے ضمیر پہ بوجھ نہیں ہے، جب بھی آئندہ کبھی میں بوجھ محسوس کروں گا تو استعفیٰ دے دوں گا۔

اللہ تعالیٰ نہ کرے، ان کے بیان سے تو یہ محسوس ہوتا ہے، کہ جیسے وہ کسی بڑے حادثے کے منتظر ہوں، پاکستان کے عوام تو جب بھی خبریں سنیں، تو خداگواہ ہے کہ کبھی کوئی خیر کی خبر سننے کو نہیں ملتی۔ حکمرانوں کے ضمیر اگر سوجائیں یا ضمیر مرجائیں، تو اس کا وبال قدرتی طورپر اور قانون قدرت کے مطابق عوام پہ پڑتا ہے۔

اگر معصوم و بے قصور بچیوں کا قصور سے لے کر خیبرپختونخوا میں بے حرمتی کے اور انسانیت کے قتل کے بعد بھی حکمرانوں کا ضمیر نہ جاگے تو پھر ان کے ضمیر کو عوام کے بس کی بات نہیں، تاآنکہ ملک میں ”انارکی“ کی صورت حال نہ پھیل جائے، جس کے آثار بتدریج ہویدا ہورہے ہیں کہ جب روٹی کی دسترس عوام کے نصیب میں نہ رہے، تو پھر وہ اپنی زندگی کی توانائیاں اور جوانی کی رعنائیوں کو بھی داﺅپہ لگادیتے ہیں۔ اور ذرا ان والدین سے پوچھیں کہ جن کے بچے بھوک سے تڑپتے ہوئے، اور سسک سسک کر رونے کے بعد مرنے کو بھی تیار ہو جائیں، اور جن کی مائیں نہروں میں بچوں کو لے کر کود جائیں، کئی پنکھوں سے لٹک کر مرجائیں اور کئی غریب شوہر کے ہاتھوں کلہاڑیوں کا شکار ہو جائیں چند بدنصیب ایسے ہیں کہ پورے کے پورے خاندانوں کا صفایا کرکے بھی اپنے ضمیر کو مطمئن کرکے اپنی نیند کو خراب نہیں کرنا چاہتے۔ شاید ان کا ضمیر بھی شیخ رشید جیسا ہے، کہ جو شخص خوشامد پسندی اور انتہا کی چاپلوسی کا شکار ہوکر ضمیر سے ہی ہاتھ دھو بیٹھا ہے، اور اپنی سیاسی خودکشی کا مرتکب بن بیٹھا ، ان سے شاکی عوام ہی نہیں بلکہ ان کے اپنے محکمے کے ہزاروں کارکن ہیں، جو آئے دن، اور خصوصاً تنخواہ کے لیے آج کل ہڑتالوں اور مظاہروں پرہیں، مگر شیخ صاحب ہیں کہ مجال ہے کہ ان کے لیے دل میں ذرہ برابر دکھ ہو، جوان کے ضمیر پہ بوجھ ہو، کیونکہ جھنجوڑا اس چیز کو جاتا ہے، جو زندہ ہو، شاید وہ تو ان دنوں ہی داغ مفارفت دے گیا تھا، کہ جب انہوں نے چمچہ گیری کو وطیرہ بناکر اپنا نصب العین بنالیا تھا۔

مجھے اس لیے بھی ان سے گلہ ہے کہ ایک سال میں ریلوے کے بڑے 74حادثات ہو جانے کے باوجود وہ ذمہ داری قبول کرنے سے مسلسل انکار کرتے نظر آتے ہیں، اپنے پچھلے دور حکومت میں بھی وہ اسی محکمہ ریلوے کے وزیر تھے، وہاں بھی انہوں نے حادثہ ہونے کے بعد یہ جواب دیا تھا کہ میں کوئی ڈرائیور تو نہیں ہوں کہ حادثہ میری وجہ سے ہوا ہے، میں تو ریلوے کا وزیر ہوں اور یہ حادثہ چھوٹے ملازمین کی غلطی کی وجہ سے سرزد ہوا ہے، لہٰذا میں استعفیٰ کیوں دوں؟

قارئین کرام، یہکتنی حیرت کی بات ہے، کہ بھارت کا ہندووزیر ریلوے لالو پرشاد تو محض چھوٹے حادثے کی صورت میں استعفیٰ دے کر گھر چلا جاتا ہے، اور اپنی ذمہ داری قبول کرلیتا ہے، مگر ایک مسلمان میں اتنی جرا¿ت اور احساس ذمہ داری نہیں کہ وہ خدا کو کیا جواب دے گا، جبکہ اس کا نہ آگا ہے، نہ پیچھا ہے مگر اس کو اپنی نوکری کی اتنی فکر ہے کہ وہ بے روزگار نہیں ہونا چاہتا، لال حویلی پہ قابض ، روح قبض ہونے تک تمیز حق وسچ شاید نہ کرسکے، کہ اس کی گھٹی میں ہی کلمہ حق شامل نہیں ہے ، کیونکہ بقول اس کے وہ اللہ کا پسندیدہ ہے حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں

مذہب میں بہت تازہ پسند اس کی طبیعت

کرلے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد!

تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا!

ہو کھیل مریدی کا تو ہوتا ہے، بہت جلد !

تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگادے !

یہ شاخ نشیمن سے اُترتا ہے بہت جلد

شیخ رشید کو اپنا منصب سنبھالے ہوئے ایک سال ہونے کو ہے، جو یہ کہتے ہیں کہ عمران خان نے مجھے اس وزارت پر تعینات کیا ہے، ان حادثات کی یہ ذمہ داری پچھلی حکومتوں پہ عائد ہوتی ہے، اور ریلوے افسران کو تبدیل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، کیونکہ یہ رہیں گے تو اسی محکمے میں، لہٰذا اس کا ایک حل میرے ذہن میں ہے کہ سی ایس پی حضرات کو دوسرے محکموں سے لے کر محکمہ ریلوے میں لگایا جائے کیونکہ محکمہ ریلوے کے سینئر افسران کام نہیں کرتے کام تو موصوف خود بھی نہیں کرتے، آئی ایم ایف کا قصہ ہو، یا عبدالحفیظ شیخ کامرثیہ ہو یا حماد اظہر کا کوئی تصفیہ ہو، سپیکر سینٹ صادق سنجرانی کو ہٹانا ہو، یا اسد عمر کو دوبارہ کابینہ کا ممبر بنانا ہو، فردوس عاشق اعوان کا واویلہ ہو، یا فاروق چوہان جیسا کوئی چیلہ ہو، بجلی گیس کی قیمتوں کا بڑھنا ہو، یا معیشت کا گھٹنا ہو، ڈالر کی قیمت کا اضافہ ہو، یا چین، سعودی عرب اور دبئی کی امداد سے زرمبادلہ کو کچھ افاقہ ہو، وانا مالاکنڈ کا کوئی تنازع ہو، یا بھارت کی طرف سے کوئی ایل او سی متنازعہ ہو، پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کسی ملک سے ہار ہو، یا روز بروز روپے کی قدر کو پڑتی مار ہو، امریکہ بھارت یا افغانستان کا اشرف غنی یار ہو، یا غیرملکی اور ملکی بینکوں سے لیا گیا ادھار ہو، رانا ثناءاللہ یا نواز شریف بیمار ہو، یا ملکی داخلہ و خارجہ پالیسی کا گرتاوقار ہو، ٹرمپ اور مودی کا پاکستان کے خلاف کوئی افکار ہو یا ایران اور سعودی عرب میں کوئی بگاڑ ہو، یا تحریک انصاف کے وزیروں میں کوئی اختلاف ہو، روزمرہ اشیاءکی قیمتوں میں بڑھتا ہوا اضافہ ہو، یا فردوس عاشق اعوان کو بیمار ہونے کے بعد کچھ افاقہ ہو، حماد اظہر کا والد بزرگوار ہو، یا اعظم سواتی جیسا یار ہو، بول چینل کے مقتول، اینکر کا قاتل مکار ہو، یا مودی وٹرمپ کا کوئی یار ہو۔

الغرض حکومتی معاملات میں وزیراعظم عمران خان، یا متعلقہ وزیر سے پہلے شیخ رشید کا بیان آجانا ،ایک معمول بن گیا ہے اور مختلف چینلز والے بالخصوص عدالتی اور سیاسی معاملات تقرر اور تبادلوں کے بارے میں شیخ رشید کو بلاکر ضرور پوچھتے ہیں، اور قارئین بلامبالغہ ان کی بات سوفی صدر درست ہوتی ہے، وہ کیوں صحیح ہوتی ہے، یہ اب آپ کے سوچنے کا کام ہے، حتیٰ کہ آئندہ ہونے والی گرفتاریوں اور ملنے والی سزاﺅں کا بھی پتہ ہو یہی وجہ ہے کہ ان کا دھیان اپنی وزارت سے ہٹ کر دوسروں کے معاملات کی طرف چلا جاتا ہے، اور اس کا ایک ہی حل ہے کہ عمران خان، ان کو ڈپٹی پرائم منسٹر لگادیں، وہ بھی تو عمران خان کے لیے ہرمہینے ایک نئی ٹرین میانوالی چلانے کا افتتاح کرالیتے ہیں، آئے روز ریلوے کے اس انگریزوں کے زمانے کی ٹریک پہ حادثات ہوجاتے ہیں، مگر شیخ رشید کہتے ہیں کہ میں چین سے انجن منگوا کر دنیا کی تیز ترین ٹرین چلاﺅں گا ، یہ ہوئی نا تبدیلی سرکار ۔


ای پیپر