بتایا گیا تھا کہ دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ،سانحہ مستونگ کسی المیہ سے کم نہیں
16 جولائی 2018 (22:25) 2018-07-16

کوئٹہ:پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہاہے کہ ہمیں بتایاگیاتھاکہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے تاہم الیکشن مہم کے دوران بڑے سانحات رونما ہوئے جو المیہ سے کم نہیں ،افغانستان اور عراق میں ایسے ہی حالات میں انتخابات کاانعقاد ہوسکتاہے تو پاکستان میں کیوں نہیں؟ ہمیں امید ہے کہ 25جولائی کو عوام ووٹ کی طاقت سے دہشت گردوں کو شکست دیںگے ۔

عمران خان کی لفاظی کو عوام جانتے ہیں ،عوام کو صرف نعروں اور تقاریر سے نہیں ورغلایاجاسکتا،نواب زادہ میر سراج رئیسانی ،ہارون بلور اور ورکرز کی شہادت پر افسوس ہے ،ان خیالات کااظہار سراوان ہاﺅس میں نواب زادہ میر سراج رئیسانی کے بیٹے جمال رئیسانی اوردیگر سے تعزیت کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے بات چیت اور بعد ازاں مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ میڈیا بات چیت کے موقع پر ان کاکہناتھاکہ ہمیں بتایاگیاتھاکہ دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی ہے لیکن الیکشن مہم کے دوران بڑے سانحات رونما ہوئے جو ہمارے لئے سوالیہ نشان ہے ،انہوں نے کہاکہ عراق اور افغانستان میں انتخابات ہوسکتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں پاکستانی بہادر قوم ہے اور مجھے امید ہے کہ 25جولائی کو عوام بلاخوف وخطر ووٹ کاسٹ کرنے کیلئے نکل کر دہشتگردوں کو شکست دینگے ،انہوں نے کہاکہ حکومت کی پہلی ترجیح عوام کی جان ومال کاتحفظ ہوناچاہےے اس حوالے سے انتظامیہ کو کوئی کوتاہی نہیں بھرتنی چاہےے ،انہوں نے کہاکہ وہ نواب زادہ میر سراج رئیسانی کی تعزیت کیلئے آئے ہیں اس لئے وہ کوئی سیاسی بات نہیں کرینگے ،تاہم ائیرپورٹ یا اپنی رہائش گاہ پر سیاست سے متعلق ضرور رائے دے سکتے تھے انہوں نے کہاکہ 2018ءکے انتخابات خوف کے ماحول میں ہورہے ہیں ،انہوں نے کہاکہ غیور پاکستانی دہشت گردوں کو ووٹ کاسٹ کرکے شکست دیںگے ۔

انہوں نے کہاکہ ملک کا آئینی جمہوری آزادی دیتاہے جس کے ہم بھی حق میں ہے ،ہر کسی کو انتخابی مہم کے حوالے سے مکمل آزادی حاصل ہونی چاہےے ۔بعدازاں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کاکہناتھاکہ قومی ایکشن پلان پر فوری طرح عملدرآمد نہیں ہوسکا جس کے باعث وہ ایک کاغذی منصوبہ لگتاہے ،انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرسکتی ہے ،انہوں نے کہاکہ عمران خان دوسروں پر بہت زیادہ تنقید کرتے ہیں لیکن اب عوام ان کی باتوں سے مزیدورغلائے نہیں جاسکتے اور وہ ان کی باتوں پر نہیں چلتے کیونکہ وہ ہر ورز نئی بات کہتے ہیں بلکہ کسی بھی وقت وہ یوٹرن لے لیتے ہیں انہوں نے کہاکہ عمران خان نے خیبرپشتونخوا میں کرپشن اور دہشت گردی کے خاتمے کے دعوے کئے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا انہوں نے کہاکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ قومی اتفاق رائے کے ذریعے درپیش مشکلات اور چیلنجز کا مقابلہ کیاہے ،انہوں نے کہاکہ احتساب کا قانون سب کیلئے ہوناچاہےے ہم نے پہلے بھی احتساب کی بات کی ہے انہوں نے پاکستان مسلم لیگ(ن) پر تنقید کی اور کہاکہ انہوں نے ہمیشہ دھوکہ دیاہے ۔

انہوں نے کہاکہ کالعدم تنظیموں کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دیدی بلکہ این ایف سی وارڈ پر عملدرآمد بھی نہیں کیا جاسکا انہوں نے کہاکہ قومی ایکشن پلا ن پر نہ صرف عملدرآمد وقت کی ضرورت ہے بلکہ اس کو مزید وسیع کرناپڑے گا،انہوں نے کہاکہ ہم انتہاپسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کیلئے انتہائی سنجیدہ ہے انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پیپلزپارٹی عوامی مسائل کے حل پر توجہ دے گی بلکہ اس سلسلے میں فوری طور پر اقدامات اٹھائے جائینگے ،انہوں نے کہاکہ ہم صوبوں میں معاشی انصاف کیلئے پیپلزپارٹی کے منشور میں پروگرام موجود ہے ،انہوں نے کہاکہ پانی کی کمی اور زراعت کے مسائل کے حل کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے انہوں نے کہاکہ انتخابات بروقت ہونگے اور مجھے یقین ہے کہ عوام ووٹ کی طاقت سے دہشت گردوں کو شکست سے دوچار کریںگے ۔


ای پیپر