سولجر آف پاکستان، شہیدِ پاکستان سراج رئیسانی
16 جولائی 2018 2018-07-16

بلوچستان کے ضلع مستونگ خودکش حملے میں شہید ہونے والے بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سراج رئیسانی اور دیگر افراد کو آبائی علاقوں میں سپردخاک کردیا گیا ہے۔ اس موقع پر سوگ کی فضا رہی ہر آنکھ اشکبار رہی۔ نگران وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے آج ملک بھر میں یوم سوگ منانے کا اعلان کردیا ہے۔سانحہ مستونگ کا مقدمہ لیویز صدر تھانہ میں درج کر لیا گیا۔ مقدمہ نائب تحصیلدار کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ مقدمے میں قتل، اقدام قتل، دہشت گردی کی دفعات شامل ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق سانحہ مستونگ میں 129 افراد شہید اور 177 افراد زخمی ہوئے۔ مستونگ خودکش حملہ کئی گھروں کو ویران کر گیا، ایک ہی خاندان کے 13 افراد کی شہادت پر کہرام، دوسرے خاندان کے 7 افراد منوں مٹی تلے سو گئے۔سانحے میں جاں بحق ہونیوالوں کے گھر تعزیت کرنیوالوں کا تانتا بندھا رہا، فاتحہ خوانی کی جا تی رہی، ہر کوئی اپنے پیاروں کے بچھڑنے پر غمزدہ تھا۔ اس اندوہناک واقعے نے درجنوں گھروں کے چراغ گل کئے جبکہ ایک ہی خاندان کے 13 افراد کی شہادت بھی ہوئی۔اس دلخراش واقعہ میں ایک بوڑھی ماں کے 7 لخت جگر شہید ہوئے۔ ایک خاندان کے 20 افراد جو آپس میں رشتے دار تھے شہید ہوئے جب کہ ایک اور خاندان سے 15 افراد کی شہادت کی اطلاع ہے وہ بھی آپس میں رشتے دار بتائے جاتے ہیں۔ بلوچستان میں ایک رپورٹ کے مطابق 12 مئی 2017ء کے بعد یہ دوسرا بڑا خودکش دھماکہ ہوا۔واقعہ میں شہید ہونیوالے افراد میں سے بڑی تعداد پرکانی قبائل سے تعلق رکھتی ہے جنہوں نے نوابزادہ سراج رئیسانی کی انتخابی مہم کے سلسلے میں کارنر میٹنگ کا اہتمام کیا تھا۔ جن کا ذریعہ معاش مال داری ہے اور یہ بلوچستان کا غریب ترین قبیلہ ہے۔یہ قبیلہ مستونگ کے پہاڑی علاقہ آماچ کے دامن میں پڑاؤ ڈالے ہوا تھا۔ الیکشن کمیشن نے سانحہ مستونگ اور سراج رئیسانی کی شہادت کے بعد حلقے میں الیکشن ملتوی کردیا ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علا ؤالدین مری نے مستونگ میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’ دہشت گردی کا یہ انسانیت سوز واقعہ انتخابی عمل اور بلوچستان کے پرامن ماحول کو خراب کرنے کی مذموم سازش ہے‘۔ نگران وزیراعلیٰ بلوچستان علاؤ الدین مری نے سانحہ مستونگ کے شہدا کے لواحقین کیلئے پندرہ پندرہ لاکھ روپے، شدید زخمیوں کیلئے پانچ پانچ لاکھ اور عام زخمیوں کیلئے دو دو لاکھ روپے کے معاوضے جبکہ شہداء کے ورثا کے لیے ایک ایک سرکاری ملازمت کا اعلان کیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کے اعلانات کسی دہشت گردی اور خودکش حملے کے واقعہ میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں کے ورثاء کے دکھوں کا مداوا اور زخموں کی مسیحائی ہوسکتی ہے۔
ادھر مستونگ دھماکے میں شہید ہونے والے سراج رئیسانی کے بھائی لشکری رئیسانی نے واقعے پر ٹرتھ کمیشن بنانے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا کہ’ ’ملکی پالیسیاں بنانے والے سانحہ مستونگ کے جواب دہ ہیں، اگر اس واقعے پر سنجیدہ ہیں تو ٹرتھ کمیشن بنایا جائے جو روز اول سے ضیا دور سے آج تک کے معاملات کی تحقیقات کرے اور حقائق سامنے لائے تاکہ جو پاکستان کے لوگ بھگت رہے ہیں وہ سامنے آئے‘‘۔ نجی ٹی وی کے مطابق خودکش حملہ آور دھماکے سے دو روز قبل افغانستان سے چاغی پہنچا۔ چاغی میں سہولت کاروں نے مبینہ خودکش حملہ آور کو اپنے پاس
ٹھہرایا، سراج رئیسانی کے جلسے میں مبینہ دہشت گرد پہلی صف میں بیٹھا تھا۔ سہولت کاروں سے تفتیش جاری ہے۔ ایک قومی روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے علاقے درینگڑھ میں سانحہ مستونگ کے واقعہ سے قبل ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے۔اس واقعے کی جو ویڈیو سامنے آئی اس میں یہ نظر آتا ہے کہ نواب زادہ سراج رئیسانی کے خطاب کے آغاز کے ساتھ ہی دھماکہ ہوتا ہے جب سٹیج سیکریٹری نوابزادہ سراج رئیسانی کو خطاب کے لیے بلاتا ہے تو لوگ کھڑے ہو کر ان کا استقبال کرتے ہیں۔ نوابزادہ سراج رئیسانی کے خطاب کے آغاز کے 15 سے 20 سیکنڈ کے بعد دھماکہ ہوتا ہے دھماکے سے قبل نوابزادہ میر اج سراج رئیسانی نے بسم اللہ پڑھی اور براہوی زبان میں وہ صرف اتنا بول سکے کہ’’ بلوچستان کے بہادر لوگو؟‘‘۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ نوابزادہ سراج رئیسانی حال ہی میں بننے والی بلوچستان عوامی پارٹی کی طرف سے حلقہ پی بی 35 مستونگ سے الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔ حلقہ پی بی 35مستونگ سے چیف آف ساراوان اور بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی اور ان کے بھائی نوابزادہ میر سراج رئیسانی جو بلوچستان عوامی پارٹی کے نامزد امیدوار تھے، دونوں اس حلقے سے مد مقابل تھے اور یہ انتخابی حلقہ دیگر حلقوں کے مقابلے میں بڑی اہمیت کا حامل تھا۔
سراج رئیسانی شہید کی نماز جنازہ موسیٰ سٹیڈیم میں ادا کی گئی جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔انہو ں نے ہفتہ کو کوئٹہ میں شہید نوابزادہ سراج رئیسانی کے اہل خانہ سے ملاقات اور سی ایم ایچ کوئٹہ میں زخمیوں کی عیادت کی اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا ۔ چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ کا دورہ کیا اور سراج رئیسانی کے اہلخانہ سے تعزیت کی۔ نوابزادہ سراج رئیسانی شہید کی میت کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر موسیٰ سٹیڈیم لایا گیا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ’ ’شہید سراج رئیسانی پاکستان کے سپاہی تھے جن کی شہادت سے ہم نے بہادر اور محب وطن پاکستانی کو کھو دیا ہے، امن کی جانب ہمارا سفر ابھی جاری ہے، پاکستانی قوم نے دشمن کے ناپاک عزائم اور دہشت گردی جیسے چیلنجز کا بہادری سے مقابلہ کیا ہے، سراج رئیسانی خاندان کے تین نسلوں سے قربانیاں دی ہیں‘‘۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سراج رئیسانی شہید کو سولجر آف پاکستان کا لقب دیتے ہوئے کہا کہ’’ شہید سراج رئیسانی کی شہادت سے ہم نے ایک محب وطن اور بہادر پاکستانی کو کھو دیا ہے جن کی پاکستان کیلئے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، پاکستانی قوم نے دہشت گردی اور شرپسندی جیسے چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور ہم ہر صورت میں دشمن قوتوں کو شکست دیں گے۔
یہ تو طے ہے کہ سراج رئیسانی پر حملہ آرمی پبلک سکول کے بعد دوسرا ہولناک دہشت گردانہ واقعہ ہے۔ 13جولائی2018 پاکستانیوں کیلئے ایک الناک ، کربناک اور غم ناک دن تھا۔ دریں چہ شک کہ سراج رئیسانی محب وطن پاکستانی اور سچے بلوچ تھے جنہوں نے دہشت گردی کی جنگ میں اپنے جوان سال بیٹے کی قربانی دینے کے باوجود کبھی دہشت گردوں سے ہار نہیں مانی اور دہشت گردی کے خلاف اپنے موقف پر سختی سے ڈٹے رہے اور بہادری کے ساتھ دہشت گردوں کی بھرپور مخالفت کرتے رہے۔ یہ کیسا مقام بلند ہے کہ نوابزادہ سراج رئیسانی ایک شہید باپ کے بیٹے اور ایک شہید بیٹے کے باپ اور خود بھی شہید ہیں ۔ ان کے بڑے صاحبزادے میراکمل رئیسانی بھی31جولائی 2011 کو مستونگ سٹیڈیم میں ایک بم دھماکے میں شہید ہوگئے تھے۔ شہید کے خون سے بلوچستان کی سیاست میں ایک بڑا انقلاب آئے گا۔ جس جماعت کو ایک نوزائیدہ اور نومولود جماعت قرار دیاجا رہا ہے اس کے امیدوار بلوچ سیاست کے بزعم خویش اجارہ دار برجوں کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکے گا۔ شہیدِ پاکستان سراج رئیسانی کی شہ رگ سے پھوٹنے والا خونِ شہادت وفاقِ پاکستان کے ان مخالفین کے لئے ایسا سیلابِ بلاخیز بنے گا کہ انہیں خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گا۔ وہ پاکستان کے دشمن جو نہیں چاہتے کہ ملک میں پرامن ماحول میں انتخابات کا انعقاد ہو،وہ اپنے ان ناپاک عزائم کی تکمیل کے لئے دہشت گردی کے ذریعہ خوف وہراس اور بدامنی کی فضا قائم کرنا چاہتے ہیں ، اب ان کی کتابِ سیاست پر بلوچستان کے 130 پاکستان دوست شہیدوں کے خون سے تمت لکھا جائے گا ۔ سلام ہے اس پاکستانی قوم پر جو دہشت گردی کے خلاف متحد ہی نہیں بلکہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے اپنی بہادر افواج کے شانہ بہ شانہ کھڑی ہے۔ محب وطن عوام کا مطالبہ ہے کہ سراج رئیسانی شہید کے خون کا قصاص لیا جائے ، بلوچستان میں مودی سرکار کے پروردہ علیٰحدگی پسند قوم پرست عناصر اور ان کے حامیوں سے ۔ میرا مطالبہ تو یہ بھی ہے کہ کلبھوشن کو بلاتاخیر پھانسی دی جائے اور این ڈی ایس، را اور ایم آئی سکس کے گماشتوں کی پناہ گاہوں اور جولانگاہوں کے خلاف بے رحمانہ اور ٹارگیٹڈ کریک ڈاؤن کیا جائے۔


ای پیپر