پنجاب مزاحمتی سیاست کے ساتھ ہے
16 جولائی 2018 2018-07-16

تین جماعتوں کی انتخابی مہم پر دہشتگرد حملوں کے بعد ملک میں خوف کی فضا چھائی ہوئی ہے ۔ کیا انتخابات ہونگے؟ ہونگے تو وہی نتائج کا اعلان کیا جائے گا؟ باقی انتخابی مہم کیسے چلے گی؟ جس میں پہلے بھی کوئی گہماگہمی نہیں تھی اور ہر سطح پر اس کی مانیٹرنگ کی جاتی رہی۔

ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں نے ایک بار پھر انتخابات کی شفافیت پر شبہ ظاہر کیا ہے ۔ پہلے ان کو شکایات تھی کہ ان کے بندے توڑے جارہے ہیں ان پر مختلف طریقوں سے دباؤ ڈالا جارہاہے۔ سابق چیئرمین سینیٹ ایوان بالا کے اجلاس میں کہہ چکے ہیں کہ انتخابات میں دھاندلی ہو چکی ہے ۔اب بات آگے بڑھ گئی ہے ،جو ہر ایک کو نظر بھی آرہی ہے ۔نواز شریف کی وطن واپسی پر ان کا استقبال کرنے والوں کو روکنے اور ان کے ساتھ ’’ناروا سلوک‘‘ نے نگرانوں کی غیرجانبداری پر سوالات اٹھائے ہیں۔ راجا ظفرالحق، شاہد خاقان عباسی، مشاہد حسین ، جاوید ہاشمی جیسے مسلم لیگ کے سینئر رہنماؤں کے خلاف انسداد دہشتگردی کے قانون کے تحت مقدمات دائر کر کے ان کو دہشتگرد ’’قرار‘‘ دیا گیا ہے ۔فیض احمد فیض کا مصرع یاد آرہا ہے : ’’ہم کہ ٹھرے اجنبی‘‘۔ ان رہنماؤں پر عائد الزامات پر کون یقین کرے گا ؟ مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کو تو چھوڑیئے عام تاثر یہ بن رہا ہے کہ نگراں جو کچھ کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں وہ درست نہیں۔ اس طرح کے اقدامات اور فیصلوں نے مجموعی طور پرنگرانوں کی ساکھ کو مجروح کردیا ہے ۔لگتا ہے کہ ان کے صحیح فیصلوں کو بھی لوگ غلط سمجھنے لگیں۔

مسلم لیگ نواز اور پیپلزپارٹی کہتی ہیں کہ ان کو مساوی مواقع نہیں دیئے جار ہے ۔ پہلے جے یو آئی (ایف) کے رہنما اکرام درانی پر حملہ ہوا جس سے جمیعت علمائے اسلام کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ ہارون بلور کی شہادت پر اے این پی کو سوگ میں اپنی انتخابی سرگرمیاں معطل کرنی پڑیں۔ بعد میں مستونگ کا سانحہ ہوا جس میں سراج رئیسانی سمیت ڈیڑھ سو سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔بلوچستان میں انتخابی جوش و خروش ٹھنڈا پڑ گیا۔ یہ واقعہ صرف بلوچستان میں ہی نہیں ملک بھر میں انتخابی مہم کے لئے خطرے کا سائرن تھا۔ انتخابی سرگرمیاں انتہائی نچلی سطح پر چلی گئیں۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تین روز تک سوگ منانے کا اعلان کیا۔ان واقعات کے باجود عمران خان واحد رہنما ہیں جو ان واقعات کا اثر نہیں لے رہے ہیں اور اپنی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ میاں شہباز شریف نے سراج رئیسانی کے بھائی نوابزادہ لشکری رئیسانی کے سچائی کمیشن کے مطالبے کی حمایت کردی ہے ۔ مسلم لیگ نواز کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف نے کہا ہے ’’ الیکشن کو متنازع بنایا گیا تو ملک کونقصان پہنچے گا، ایک جماعت کو سرگرمیوں کی اجازت،باقیوں کو مشکلات کا سامنا ہے ، اگر الیکشن شفاف نہ ہوئے تو المیہ ہوگا۔‘‘ پیپلز پارٹی کے چیئر مین

بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ شفاف الیکشن کے بغیر پارلیمنٹ متنازع ہوگی، (ن) لیگی کا رکنوں کی گرفتاریاں ناقابل فہم ہیں،چند سیاسی جماعتوں کو الیکشن لڑنے سے روکا جارہا ہے پیپلزپارٹی کے اوچ شریف اور ملتان میں جلسے منسوخ کر دیئے گئے۔ ہم کب تک یہ برداشت کریں گے؟ ان دونوں پارٹیوں کے ایک جیسے موقف سے لگتا ہے کہ وقت پڑنے پرایک ساتھ کھڑی ہو جائیں۔

پنجاب میں تو یہ ہوا کہ نواز لیگ پارٹی کی پر امن ریلیوں کو روکنے کے لیے انتظامی اقدامات، سیاسی کارکنوں کی گرفتاری، کریک ڈاؤن پنجاب بھر میں سڑکیں بند، راستوں پر رکھے کنٹینرز اور میڈیا پر کنٹرول ہر چیز ہوئی۔ سوشل میڈیا جوپاکستان میں ایک مسقبل کے میڈیا کے طور پر ابھرا ہے وہ معلومات اور اطلاعات کا واحد ذریعہ رہا۔ جس میں نگران وزیراعلیٰ پنجاب پر تنقید کی گئی۔ اس طرح بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے نگرانوں پر بھی سوالات ہیں۔صورتحال سے لگتا ہے کہ عنقریب یہ سوالات سندھ کی نگران حکومت پر بھی اٹھائے جائیں گے۔نوازشریف کی وطن واپسی نے گیم پلٹ دی ہے ۔ اس جرائت مندانہ فیصلے اور اس پر عمل نے نواز لیگ کو ایک زندگی بخش دی ہے ۔ یہی وجہ ہے نواز لیگ کے سب سے بڑے حریف پریشان ہیں۔ ان کی اس پریشانی کا اندازہ ان کے لب و لہجے سے لگایا جا سکتا ہے کسی نے خوب کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت نے 70سال کی مسافت کو ایک جست میں طے کیا ہے ۔میڈیا پر پابندیاں، مسلم لیگ کے حامیوں کی ایئر پورٹ پہنچنے تک راستہ روکنا اپنی جگہ پر لیکن پنجاب نے ایک بار پھر یہ پیغام دیا کہ وہ نواز لیگ کے ساتھ ہیں۔ اور نواز شریف کا جمہوریت اور سویلین بالادستی والا بیانیہ مقبول ہے ۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ ضروری نہیں کہ پنجاب اسٹبلشمنٹ کی لائین پر چلے۔ایک حقیقت جس کو چھپایا جا رہا ہے عملی طور پر پنجاب مزاحمتی سیاست کا ہی ساتھ دیتا ہے ۔ پیپلزپارٹی بھی جب تک مزاحمتی سیاست کرتی رہی اس نے پنجاب میں تین انتخابات جیتے۔ پھر جیسے جیسے اس میں مزاحمت کم ہوئی اس کی انتخابی جیت کم ہوتی گئی۔ نواز شریف کی 2013 کی جیت بھی ایک طرح سے مزاحمت کی جیت ہے ۔ ابھی اگر پیپلزپارٹی پنجاب کے سیاسی منظر نامے پر نظر نہیں آتی، اس کی وجہ اس میں مزاحمتی عنصر کی عدم موجودگی ہے ۔ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے برطرفی سے لیکر ان پر مقدمات قائم ہونے اور ایک مقدمے میں سزا ہونے تک اور بعد میں ان کی وطن واپسی پر پنجاب کی رائے عامہ نواز شریف کے ساتھ کھڑی رہی۔ نواز لیگ کو مزاحمتی سیاست کا کوئی زیادہ تجربہ نہیں۔چھوٹے یا بڑے بزنس کلاس کی اس جماعت کے سیاسی کیڈر خواہ اس کے ووٹرز میں مزاحمتی عنصر نہیں۔ اس کمی کو مریم نواز نے ایک حد تک کامیابی کے ساتھ پورا کرنے کی کوشش کی۔ نتیجے میں مریم نواز پارٹی میں نواز شریف کے بعد متبادل لیڈر کے طور پر ابھری۔اور اب نظر آرہا ہے کہ وہ نواز شریف کی سیاسی وارث ہیں۔

اگرچہ میڈیا کے ایک حصہ اور سیاسی مخالفین نواز شریف اور شہباز شریف کو ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ شہباز شریف کا نقطہ نظر مصالحت کا رہا ہے ۔ لیکن انہیں بعض چیزوں کا اندازہ ہو چکا ہے کہ انتخابات مزاحمتی نعرے پر ہی جیتے جاسکتے ہیں۔ وہ نواز شریف اور مریم نواز کی گرفتاری کے بعد اس مزاحمتی تحریک کو روکنے کے حق میں نہیں بلکہ جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ روز کہا کہ ’’عام لوگوں پر لاٹھی چارج اور شیلنگ کی، دہشت گردی کی دفعات بھی لگادی گئیں، جلد ملک گیر یوم سیاہ کی کال دوں گا، پورے ملک میں ہمارے انتخابی جلسوں اور دفاتر میں سیاہ پٹیاں باندھی جائینگی اور پرامن احتجاج کیا جائیگا۔ نوازشریف اور مریم نواز پر بھی کچھ مقدمات چلنے باقی ہیں۔ یہ مقدمات چاہے جیل میں چلیں، لیکن باپ بیٹی دونوں خبروں میں رہیں گے۔ خبروں میں رہیں گے تو سیاسی بیانیے میں بھی رہیں گے۔ شہباز شریف کو اس بات کا اندازہ ہے ۔ لہٰذا نہوں نے کہا ہے کہ جیل میں ٹرائل انصاف کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے ۔شہباز شریف چاہیں نہ چاہیں انہیں کم از کم آئندہ چند ماہ تک نواز شریف کی حکمت عملی پر چلنا پڑے گا۔


ای پیپر