دھاندلی اب قبول نہیں
16 جولائی 2018 2018-07-16

ایسے ماحول میں انتخابی مہم اختتام پذیر ہو رہی ہے۔ جب چوٹی کے دو صوبائی امیدواروں پر خود کش حملوں نے پورے ملک کو المناک اور سوگوار کر دیا۔ سانحہ مستونگ تو دل ہلا دینے والا ہے جس میں 150 سے زائد افراد دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں۔ نگران وزیر اعظم سے سپہ سالار پھر سیاسی قیادت رئیسانی خاندان سے یکجہتی کے لیے پہنچی۔ دہشت گردی اور سیاسی قتل بلوچستان کی تاریخ کا المناک باب ہے۔ ملک گیر سوگ یوم سیاہ ، پرچم سرنگوں رکھنا سراج رئیسانی اور 150 شہید ہونے والوں کے سوگ کی علامتیں ضرور ہیں، یہ ایک سبق ضرور ہے کہ زندہ رہ جانے والے اور خاص طور پر چیدہ چیدہ امیدواروں کی سکیورٹی کا انتظام کیجیے۔ چیف جسٹس کے حکم پر خطرات کی زد میں آئے امیدواروں کی سیکورٹی واپس لے لی گئی تھی۔ امیدواروں سے کہا گیا کہ وہ اپنا انتظام خود کریں ، اہم سوال تو یہ ہے کیا چیف جسٹس کا کارواں پروٹوکول کے حوالے سے کم ہو گیا ہے۔ جواب ہے نہیں خود مشاہدہ ہوا جب چیف جسٹس صاحب میو ہسپتال گئے۔ ٹی وی چینلوں کی قطاریں ان کے پیچھے وہی ہٹو بچو کی صدائیں تھیں۔ چیف جسٹس آئین کی ایک خاص شق کے تحت ڈیم بنانے اور صحت کے شعبے کو درست کرنا اپنا اصل مقصد بیان کرتے ہیں۔ مگر ان کا اصل کام تو انصاف دینا ہے۔ ستر سال سے لوگ انصاف کے شعبے میں جس بے انصافی کی دہائی دے رہے ہیں۔ آخر ان کی بات کون سنے گا۔ صرف ایک عدالت پر چھاپہ مارنے کے بعد وکلاء اور سول سوسائٹی کی طرف سے جو ردعمل آیا وہ کام کیوں رک گیا ہے نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصر الملک نے کوئٹہ میں سانحہ مستونگ کی تعزیت کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ امیدواروں کی حفاظت کریں گے اور سیاست دانوں کو اعتماد میں لیں گے۔ مگر وزیر اعظم صاحب ’’ یہاں تو امیدواروں پر جلوس نکالنے پر دہشت گردی کے مقدمات درج ہو رہے ہیں‘‘پولنگ اسٹیشن پر پنجاب کے عسکری کیا اودھم مچائیں گے یہ بات تو آگے چل کر ہو گی ۔ مسلم لیگ (ن) کا شو کیسا رہا ہے اس کو نا کام کہنے والے درست نہیں کہہ رہے یہ جھوٹ کچھ چینلز پر بھی بولا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پارٹی میں شہباز شریف کا لہجہ کارکنوں کو قبول نہیں اگر وہ پارٹی پر اپنا کنٹرول رکھنا چاہتے ہیں تو ان کو ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے کے نیچے آنا پڑے گا ۔ اس اعتراض کے باوجود کہ شہباز شریف نے ریلی کا رخ علامہ اقبال ایئر پورٹ کی طرف کیوں نہیں موڑا، پنجاب انتظامیہ نے نگران وزیر اعلیٰ عسکری کی ہدایت پر راستے بلاک کر دیے۔ نواز شریف کے حق میں جو ریلی شہباز شریف کی قیادت میں نکالی گئی تھی۔ بمشکل رات 9 بجے تک گورنر ہاؤس پہنچ سکی۔ یہ شو کامیاب تھا یا ناکام البتہ اس میں عسکری صاحب ضرور ناکام ہوئے ہیں جو کچھ ہوا اس کے بعد دھاندلی کا شور اٹھنا نمایاں تھا تمام سیاسی جماعتیں سینیٹ میں شیری رحمان کی اس تحریک سے متفق ہیں کہ دھاندلی کو روکنے کے لیے تمام ایوان پر مشتمل جائزہ کمیٹی بنائی جائے جو دھاندلی پر کڑی نظر رکھے۔ تحریک انصاف جو پورے 5 سال سے دھاندلی کے خلاف شور مچا تی رہی ہے اب یہ جماعت شیری رحمان کی تحریک کا ساتھ نہیں دے رہی جس سے اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کپتان اب دھاندلی کے عمل کو جائز سمجھ رہے ہیں۔ مگر کپتان کو خبر ہو چکی ہے کہ تحریک انصاف کا سکور قومی اسمبلی کے ایوان میں 45 سے اوپر جانے والا نہیں ۔ مسلم لیگ کا ووٹر خاموش ہے اور وہ پی ٹی آئی کے جو شیلے کارکنوں کی طرح بڑ بولا نہیں جو صرف سوشل میڈیا پر الیکشن جیت چکا ہے ۔ اتوار کے روز کپتان نے جھنگ میں جو خطاب کیا اس کی نا کامی کا اندازہ اس سے لگا سکتے ہیں ۔ لگائی گئی کرسیاں ہی خالی نہیں بلکہ اس حلقے کا تو امیدوار بھی غائب تھا۔ سنٹرل پنجاب میں ہی نہیں کپتان کی جنوبی پنجاب میں بھی ہوا اکھڑ گئی ہے۔ اکثریت والا کام تو ختم ہو گیا اب وہ مخلوط حکومت کا وزیر اعظم بننے سے انکار کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار کو تیر کے نشان پر ٹھپہ لگا کر ڈپٹی چیئر مین سینیٹ بنوایا تھا۔ اب پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے تعلقات کو بریک لگ گئی ہے۔ بلکہ خراب ہو گئے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا اگلا آپشن (ن) لیگ، اور متحدہ مجلس عمل ہے۔ یہ اتفاق ہوتا ہوا نظر آ بھی رہا ہے۔ حیرت انگیز طور پر بلاول اور زرداری کے جو بیانات سامنے آئے ہیں۔ تو یہ اتحاد دو سو کے ہندسے کو عبور کر جائے گا۔ دو تہائی اکثریت سینیٹ میں تو تھی جو ہے مرکز میں بھی ایسا ہو گیا تو سب سے پہلے دو کام ہوں گے اس کے راستے میں عدالت عظمیٰ یا کسی اور نے رکاوٹ کھڑی کی تو ایسا سیاسی بحران پیدا ہو گا جس کی پاکستان میں مثال نہیں ملے گی اور کئی ادارے اس کی لپیٹ میں آئیں گے سب سے پہلے نیب کا موجودہ قانون یکسر بدل دیا جائے گا۔ کیونکہ نیب کا ادارہ نواز شریف کو اور مشرف کے مخالف سیاست دانوں کو کچلنے کے لیے بیایا گیا تھا پارلیمنٹ اب نیا احتساب کا ادارہ بنائے گی۔ دوسرا کام پارلیمنٹ چیف جسٹس کے اختیارات کے بارے میں قانون سازی کرے گی۔ جو کہ پارلیمنٹ کا حق بھی ہے آئین کے آرٹیکل کا سہارا لے کر سول انتظامیہ کو جس انداز سے بے بس کیا گیا ماضی میں ایسا نہیں ہوا ہے اہم قانون سازی عدلیہ کے بارے میں ہی ہو گی اگست 2018 ء ہی شروع ہونے والا ہے۔ کپتان انتخابی مہم کے آخری ہفتے میں پریشان دکھائی دے رہے ہیں۔ جھنجلاہٹ میں پہلے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو گدھا قرار دیا بلکہ کئی بار قرار دیا وہاں کے پی کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے جلسے میں کسی کارکن نے پیپلز پارٹی کا جھنڈا لہرا دیا تو خٹک صاحب نے اسے طوائف کا بچہ قرار دے دیا۔ بد تمیزگی کے اس طوفان میں کپتان جو دو تین چینلز کو دیکھتے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے ایسا کریں۔ صحافت کو تصویر کے دونوں رخ دکھاتے ہیں ۔ اب وہ بھی ان کے لیے ایسا کریں، نواز شریف کا نام سنتے ہی کپتان کو ابکائیاں شروع ہو جاتی ہیں اب انہوں نے ایسے صحافیوں کو جو سچ لکھ یا بول رہے ہیں ان کو بے ضمیر قرار دے دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے جسے اپوزیشن لاڈلا قرار دے رہی ہے ہمارے نزدیک وہ میکا ولی کا شہزادہ ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر اس شہزادے کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ روزانہ وزیر اعظم بن کر سوتا ہے مگر منزل ابھی کافی دور ہے۔ مریم نواز کا جیل سے پہلا بیان حیران کر دینے والا ہے مریم نے اپنے والد کی کمزوری نہیں بننا چاہا وہ تو نواز شریف سے بھی زیادہ پر عزم ہے۔ مولانا عطا اللہ بخاری کہا کرتے تھے کہ جیل اور ریل ان کی زندگی کا حصہ ہے۔ جیل جانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے مگر سفر ریل کے زریعے پہلے بھی کرتے تھے۔ نواز شریف تقریباً ایک سال سے زیادہ کا عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں۔ ان کے ہمراہ شہباز بھی تھے جو ایک بار جیل جاتا ہے وہ زیرو نہیں ہوتا نواز شریف کا جیل سے پہلا
وڈیو پیغام اپ لوڈ ہوا ہے انہوں نے وہاں سے بھی ڈوریں ہلانے والوں کو بتایا ہے کہ جیل سے کارکنوں اور عوام سے اپیل کی ہے اٹھو ایک تحریک بن کر پھیل جاؤ عظیم فتح آپ کی منتظر ہو گی۔ جیل جاتے ہی مسلم لیگ ن نے انگڑائی لی ہے۔ نگرانوں کو ساچنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ نیب کے چیئر مین نے الیکشن سے پہلے جو کچھ کارنامہ سر انجام دے دیا بغیر ثبوت کے سزا دلوا کر اس نے کس کو خوش کیا ہے۔ نواز شریف مریم اور صفدر کی اپیلیں دائر ہو چکی ہیں۔ سارا بوجھ اپیل میں واجد ضیا پر ڈال دیا ہے۔ کہ وہی ذمہ دار ہے۔ جب استغاثہ ثابت ہی کچھ نہیں کر سکا تو سزا کیسی۔ یہ عدالتی کارروائی نئے سرے سے شروع ہو گی۔ایک بار پھر ذکر پنجاب نگرانوں کا ہو جائے انہوں نے یہ کیوں کیا؟ چینل پر بیٹھے ہوئے لوگ بنی گالہ کا نمک حلال کر رہے تھے کہ لاہوریوں نے مسلم لیگ ن کی کال پر کان نہیں دھرا۔بلکہ وہ تو مسلم لیگ ن کا قصہ صاف کر کے ہی بیٹھ گئے۔ سپیکر ایاز صادق کا ردعمل تھا کہ پنجاب کے وزیر داخلہ تحریک انصاف کا منشور تیار کرنے والوں میں شامل تھے وزیر اعلیٰ تو ایک ٹی وی پروگرام پر موروثی سیاست کے خلاف بولتے رہے ہیں۔ مگر جب انہیں خود نگران وزیر اعلیٰ بننے کا موقع ملا ایاز صادق کے مطابق انہوں نے اپنے ماموں کو بھی نگران وزیر بنا لیا۔ پنجاب کی نگران حکومت جو لگا ہے کہ کسی اور جگہ سے کنٹرول کی جا رہی ہے۔ خود نواز شریف نے ان
کے بارے میں لندن سے چلتے ہوئے کافی سخت باتیں کی تھیں ایک انتخابی ریلی کے خلاف انہوں نے جو اعتراض اٹھائے اور جو الزامات لگائے وہ کافی حد تک درست تھے۔ یہ بات تو پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے بھی کہہ دی کہ نواز شریف کی گرفتاری حکومت کا درست اقدام ہے مگر ریلی نکالنے میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ، کارکنوں کی گرفتاریاں کرنا جمہوری عمل سے انکارہے اب تو بلاول بھٹو کھل کر کہنے لگے ہیں کہ ان کے کارکنوں کو ڈرایا اور دھمکایا جا رہا ہے۔ انہیں پارٹی بدلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ مگر یہ کام تو پنجاب میں ہو چکا ہے کہ کس طرح لوگوں نے راتوں رات پارٹیاں تبدیل کر لیں بڑی تعداد نے آخری روز جب امیدواروں کی فائل لسٹ اگلے روز آویزاں ہونی تھی مسلم لیگ ن اور شیر کے نشان کے ٹکٹ واپس کر دیے تا کہ (ن) لیگ اپنے متبادل امیدوار کو شیر کا نشان الاٹ نہ کر سکے یہ سب کچھ منصوبے کے مطابق ہو رہا ہے کوئی تو ہے جو اس کو کنٹرول کر رہا ہے۔


ای پیپر