ذرا اڈیالہ جیل تک۔۔۔!
16 جولائی 2018 2018-07-16

تین ہزار سے زائد اسیران اور زیرِ حراست افراد کی بستی اڈیالہ جیل ایک بار پھر پاکستانی میڈیا میں ہی نہیں عالمی میڈیا میں جگہ بنائے ہوئے ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے اس پر آگے چل کر بات ہو گی۔ پہلے تھوڑا سا ذکر اڈیالہ جیل کا۔ راولپنڈی کے جنوب مغرب میں اڈیالہ روڈ پر داہگل گاؤں کے نزدیک ، زرعی بارانی انسٹی ٹیوٹ داہگل راولپنڈی کے بالمقابل جس مقام پر اڈیالہ جیل واقع ہے وہ راولپنڈی کچہری سے تقریباً 12کلو میٹر کے فاصلے پرہے اور اڈیالہ گاؤں یہاں سے مزید 6 کلو میٹر آگے ہے۔ درمیان میں گورکھ پور(گورفر ) بڑا قصبہ اور دوسری کئی آبادیاں بھی آتی ہیں۔ اس کے باوجود اسے اڈیالہ جیل کا نام دیا گیا ہے تو اس کی یہی وجہ سامنے آتی ہے کہ اڈیالہ روڈ پر واقع ہونے کی وجہ سے اسے یہ نام دیا گیا ہوگا۔ پچھلی صدی کی اسی کی دہائی کے آخری برسوں میں یہ جیل قیدیوں سے آباد ہوئی تو مجھے بلا شبہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں بار اس کے سامنے سے گزرنے کا اتفاق ہوا ہے کہ اڈیالہ روڈ ، اڈیالہ جیل ، گورکھ پور، اڈیالہ ، خصالہ ، ڈھلہ، چھاوڑیاں، سُوداور راولپنڈی سے تقریباً 34 کلو میٹر کے فاصلے پر میرے گاؤں چونترہ کو چھوتی ہوئی آگے ادھوال اور جوڑیاں تک جاتی ہے جہاں پر یہ راولپنڈی چک بیلی خان روڈ یا جوڑیاں چکری روڈ سے مل جاتی ہے۔ مجھے تقریباً ہر ہفتے ہی اور بعض اوقات ہفتے میں ایک سے زائد بار اپنے گاؤں جانا ہوتا ہے تو میں اڈیالہ جیل کے باہر سے گزرتا ہوں۔ جیل میں بند قیدیوں اور حوالاتیوں کے ملاقات کے لیے آنے والے عزیز و اقارت کھانے پینے کے سامان اور دوسری اشیاء کے ساتھ اکثر جیل کے ملاقاتیوں کے لیے مختص کمپاؤنڈ کو جانے والے راستے پر قطاریں بنائے کھڑے ہوتے ہیں۔ اتوار کے علاوہ باقی دنوں میں شام کو گاؤں سے واپسی پر اکثر جیل کے باہر سڑک پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں دیکھائی دیتی ہیں جن میں جیل سے رہائی پانے والے افراد کو اُن کے عزیز اقارب لینے کے لیے آئے ہوتے ہیں۔ ہفتہ کی صبح مجھے ایک قریبی عزیزہ کے جنازے میں شرکت کے لیے گاؤں جانا ضروری تھا کہ ایک دن قبل میری یہ قریبی عزیزہ جو ایک سکول ٹیچر تھیں اور الیکشن ڈیوٹی میں حاضری کے لیے اپنے بیٹے کے ساتھ موٹر سائیکل پر راولپنڈی کچہری میں آئی ہوئی تھیں ۔ واپسی کے سفر میں ڈھلہ کے مقام پر المناک حادثے کا شکار ہوئیں ۔ اُن کے بُرقعے کا پلو موٹر سائیکل کے پہیے میں پھنس گیا ۔موٹر سائیکل رُکا تو وہ چکرا کر گریں اور سر پر شدید چوٹیں آئیں ۔ انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکیں اور بے ہوشی کے عالم میں ہی اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ میں تقریباً صبح ساڑھے سات بجے اڈیالہ روڈ پر اڈیالہ جیل کے سامنے سے گزرا تو میں نے دیکھا کے اڈیالہ جیل کے جنوبی گیٹ جہاں جیل کی اُونچی دیواروں کے باہر احاطے میں اڈیالہ پولیس چوکی قائم ہے کے بالمقابل پرائیویٹ چینلز کی ڈش اینٹینا والی کم و بیش چھ ، سات وینز (Vans) کھڑی تھیں۔ کچھ نوجوان فوٹو گرافر اپنے کیمروں کی سمت درست کر رہے تھے اور کچھ رپورٹر اور فوٹو گرافر ذرا آگے ہوٹل سے ناشتہ کرنے کے بعد واپس آ رہے تھے ۔ اُن کے چہروں سے نیند اور تھکاوٹ کے اثرات حویدا تھے۔ لگتا تھا کہ کسی بڑی خبر یا سکوپ کے انتظارمیں رات بھر یہاں پر ہی رہے ہیں۔ دوپہر کو جب میں گاؤں سے واپس آیا تو اڈیالہ جیل کے باہر نیوز چینلز کی وینز کی تعداد میں اضافہ ہو چکا تھا ۔ میں سوچ رہا تھا کہ میاں محمد نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی کو اُن کی گرفتاری کے حوالے سے ساری قانونی کاروائی مکمل کرنے کے بعد پچھلی رات کو اڈیالہ جیل میں منتقل کیا جا چکا ہے ۔ اس کی تفصیلی خبریں بھی نشر ہو چکی ہیں تو پھر چینلز کی یہ وینز اور اُن کے فوٹو گرافر اور رپورٹرز پتہ نہیں کونسی اہم خبر یا سکوپ کے انتظار میں یہاں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ خیر رات کو اس کا بھی پتہ چل گیا جب یہ خبر آئی کہ میاں محمد نواز شریف کی والدہ محترمہ شمیم بیگم نے میاں شہباز شریف اور دیگر اہلِ خانہ کے ہمراہ میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کی ہے ۔ میاں محمد نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی والدہ محترمہ شمیم بیگم کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بیٹے میاں نواز شریف اور پوتی مریم نواز سے لاہور ائیر پورٹ پر اُن کی فلائیٹ کی آمد پر اُن کی گرفتاری سے قبل ملاقات کریں لیکن بوجوہ ایسا نہ ہو سکا ماں کی مامتا کو اپنے بیٹے سے ملے بغیر قرار کیسے آ سکتا تھا لہٰذا ہفتہ شام کو خصوصی اجازت سے اُن کی اور میاں شہباز شریف سمیت دیگر قریبی عزیزوں کی میاں محمد نواز شریف اور مریم نواز سے ملاقات کر ادی گئی۔
اُوپر بات ہوئی ہے کہ اڈیالہ جیل کا ذکر پاکستانی اور عالمی میڈیا میں جگہ بنائے ہوئے ہے۔ یقیناًایسا ہی ہے ۔ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف اور اُن کی حوصلہ مند بیٹی محترمہ مریم نواز لندن میں ہی تھے کہ پچھلے ہفتے انہیں احتساب عدالت اسلام آباد کی طرف سے ایون فیلڈ ریفرنس میں طویل قید اور بھاری جرمانوں کی سزائیں سنائی گئیں۔ کچھ حلقے اس خیال کا اظہا ر کر رہے تھے کہ میاں محمد نواز شریف اور اُن کی صاحبزادی مریم نواز کیلئے محترمہ کلثوم نواز کی شدید علالت اور لندن کے ہارلے کلینک میں تقریباً پچھلے ایک ماہ سے بیہوشی کی عالم میں پڑے ہونے کا بڑا جواز موجود ہے شاید وطن واپس نہ لوٹیں اور اس طرح وقتی طور پر سزاؤں کا سامنا کرنے سے اپنے آپ کو بچائے رکھیں۔ لیکن میاں محمد نواز شریف نے احتساب عدالت کے جج سے ملنے والی سزاؤں کے فیصلے سے کئی دن قبل ہی اپنے قریبی اور بااعتماد ساتھیوں جن میں محترم عرفان صدیقی سر فہرست ہیں سے مشاورت کے بعد فیصلہ کرلیا تھا کہ اُن کی اہلیہ محترمہ کلثوم نواز کی بیماری کی کیفیت کیسی ہی کیوں نہ ہو وہ احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کی صورت میں سزا کا سامنا کرنے کے لیے فوری طور پر وطن واپس لوٹیں گے۔ چنانچہ محترم عرفان صدیقی احتساب عدالت کے جج کے ایون فیلڈ ریفرنس میں فیصلے کے اعلان کے بعد اگلے ہی دن لندن روانہ ہو گئے اور وہاں تین چار دن قیام کے بعد میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز کے ہمراہ ہی واپس وطن لوٹے۔ یقیناًیہ ایک بڑا جرات مندانہ فیصلہ تھا ۔
جمعتہ المبارک کی رات کو میاں محمد نواز شریف اور محترمہ مریم نواز اتحاد ائیر لائنز کی فلائیٹ سے ابوظہبی کے راستے لندن سے لاہور پہنچے اور پنجاب صوبائی حکومت سمیت وفاقی حکومت کے لیے بڑی کشمکش اور گو مگو کی کیفیت تھی کہ انہیں کیسے گرفتار کیا جائے اور گرفتاری کے بعد کہاں رکھا جائے۔ اس کے ساتھ مسلم لیگی کارکنوں کے احتجاج اور بیرون لوہاری گیٹ مسلم مسجد سے میاں محمد شہباز شریف کی قیادت میں شروع ہونے والے احتجاجی ریلی سے کیسے نپٹا جائے۔ صوبائی حکومت نے لاہور آنے والے راستوں کو بھاری کنٹینر لگا کر بند نہیں رکھا تھا بلکہ لاہو رکی سڑکوں پر بھی جا بجا بھاری رکاوٹیں کھڑی کر رکھی تھیں۔ اس کے باوجود مسلم مسجد لوہاری گیٹ کے باہر ہزاروں کی تعداد میں مسلم لیگی کارکن جمع ہو چکے تھے جنہوں نے میاں شہباز شریف کی قیاد ت میں لاہور کے علامہ اقبال ائیر پورٹ کا رُخ کرنا تھا۔ اس ریلی کی روانگی میں باوجوہ تاخیر ہوئی ۔ میاں محمد نواز شریف کا طیارہ لاہور ائیر پورٹ کے حج ٹرمینل پر لینڈ کر گیا تو یہ ریلی ابھی مال روڈ پر گورنر ہاؤس تک پہنچ سکی تھی اور اس کا پچھلا سرا چئیرنگ کراس تک پھیلا ہوا تھا۔ میاں محمد نواز شریف کا مسلم لیگی کارکنوں کے لاہور ائیر پورٹ پر پہنچنے کے بعد اُن سے خطاب کرنے کا پروگرام تھا یا نہیں اس بارے میں کوئی حتمی بات نہیں کی جاسکتی لیکن اتنی بات واضح ہے اور جس کا ثبوت بھی سامنے آ چکا ہے کہ مسلم لیگی قیادت احتجاج ضرور کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اپنے احتجاج کو ہر صورت میں پُر امن رکھنا چاہتی تھی ۔ میاں محمد نواز شریف بھی شاید یہی چاہتے تھے کہ وہ انتظامیہ کو کسی بڑی آزمائش میں ڈالے بغیر گرفتاری دینے کے بڑے مقصد جس کے تحت وہ لندن سے آئے تھے کو پورا کر دیں۔ چنانچہ وہ بغیر کسی بڑی پس و پیش کے اپنی گرفتاری قبول کر تے ہوئے اُس خصوصی طیارے میں سوار ہو گئے جو اُن کو لے کر اسلام آباد انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر آ گیا۔ محترمہ مریم نواز کو ہیلی کاپٹر میں سوار کر کے سہالہ ریسٹ ہاؤس (جسے سب جیل قرار دیا گیا تھا) لے جانے کا قصد کیا گیا لیکن باہمت باپ کی بہادر بیٹی نے مقابلتاً پُر آسائش اس آپشن کو قبول نہ کیا اور اپنے والد میاں محمد نواز شریف کے ہمراہ اڈیالہ جیل میں جانے اور سزا بھگتنے کو ترجیح دی۔ میاں محمد نواز شریف کو اڈیالہ جیل میں B کلا س دے دی گئی ہے جبکہ محترمہ مریم نواز نے B کلا س کی سہولتیں لینے کے لیے سپرنٹنڈنٹ جیل کو درخواست دینے سے انکار کر دیا ہے اُن کا اسرار ہے کہ وہ عام قیدیوں کی طرح جیل میں رہیں گی ۔ اڈیالہ جیل یقیناًایک بار پھر میڈیا کی نگاہوں کا مرکز بن چکی ہے اور مجھے اپنے گاؤں آتے جاتے اڈیالہ جیل کے سامنے سے گزرتے ہوئے نیوز چینلز کی وینز کے ساتھ کچھ دوسرے غیر معمولی اقدامات اور انتظامات دیکھنے کو ملتے رہیں گے۔


ای پیپر