مجبوری کا سودا: عمران خان
16 جولائی 2018 2018-07-16

میجر صاحب کو میں نے فون کیا اور پوچھا کہ سر آپ کہاں ہیں ۔کہنے لگے میں گھر پر ہوں۔ میں نے کہا ملنے کو جی چاہ رہا ہے، کہنے لگے تو پھر آ جاؤ۔ میجرصاحب میرے سیکریٹری رہے ہیں۔
وہ پنجاب حکومت میں ایک سے زیادہ محکموں کے سیکریٹری رہے ہیں۔صاف ستھرے اور کھرے آدمی۔جونہی میں ان کے گھر میں داخل ہوا تو میری نظر ان کے پورچ میں کھڑی ایک کارپر پڑی جس کی بیک سکرین پر عمران خان کی تصویر اور تحریک انصاف کا جھنڈا بنا ہوا تھا۔ میجر صاحب کے سامنے آتے ہی میں نے پوچھا کہ سر آپ کا خاندان بھی تحریک انصاف کا سپورٹرہے تو ہنس کے کہنے لگے آپ ہی بتاؤ اور چوائس کیا ہے۔یہ جواب چونکہ میں کئی لوگوں سے سن چکا ہوں اس لیے اسے ہی مکمل جواب جانا۔سچ پوچھیں اپنی قوم پر ترس بھی آتا ہے اور غصہ بھی۔ سوچتا ہوں کیا یہ اتنی نااہل اور گئی گزری قوم ہے کہ اس کے پاس کوئی لیڈر ہی نہیں ہے۔آپ اسی دنیا میں ترقی یافتہ اقوام پر نگا ہ ڈالیں، لیڈروں کی قطاریں نظر آتی ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ کسے نمبر 1 گردانیں اور کسے نمبر 2اور 3۔اعلیٰ تعلیم یافتہ ، انتہائی
ذہین ،شاندار کردار اور ماضی کے حامل افراد کی لائینیں لگی ہوتی ہیں۔ لیکن ہم ہیں کہ کوئی چوائس نہ ہونے کی بنا پر کسی کو لیڈر مانے پھرتے ہیں۔ آج کے دور میں پاکستان کی پڑھی لکھی فیملیز اور نئی نسل تحریک انصاف اور عمران خان کا ساتھ دینے کو تیار لگتی ہیں۔اس ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دہائیوں اس ملک پر حکمرانی کربیٹھی ہیں اور انکی لیڈرشپ عوام کے سامنے مکمل طور پر expose ہوچکی ہے۔ میرا دوست عارف حیات کہا کرتا ہے کہ سیاسی لیڈران کو عوام کے سامنے کم سے کم expose ہونا چاہیے اور خصوصاً ہمارے ملک کے سیاسی لیڈران کو کیونکہ بیشتر کھوکھلی شخصیت کے مالک ہوتے ہیں۔ جب ان کی شخصیت کھل کر لوگوں کے سامنے آتی ہے تووہ بڑے کوتاہ قداور بونے نظر آتے ہیں۔ ہمارے یہی دوست کہتے ہیں کہ دنیا میں بڑی اور متاثرکن شخصیات بہت تھوڑی ہوتی ہیں ۔ بہت کم شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کے مکمل expose ہونے پر لوگ ان کی شخصیت سے پہلے سے زیادہ متاثر ہو جاتے ہیں اور پھر ان کی چاہت کے گرداب میں مستقلاً پھنس جاتے ہیں۔اب کسی نے آصف علی زردار ی، نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی شخصیت سے کیا متاثر ہونا ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں سب سے قد آور شخصیت محمد علی جناح ہیں جنہیں قائد اعظم کہا جاتا ہے۔
ان کے بعد متاثر کن شخصیت ذوالفقاعلی بھٹو کی تھی۔یہ دونوں شخصیات بہت پڑھی لکھی تھیں اور اپنا ایک وژن رکھتی تھیں لیکن قدرت نے انہیں اپنے اپنے وژن کو عملی جامہ پہنانے کاموقع نہ دیا۔ بے نظیر بھٹو بھی ایک پڑھی لکھی خاتون تھیں لیکن ان کا مقابلہ اوپر دی گئی دو شخصیات سے نہیں کیا جا سکتا۔ ملک کی موجودہ سیاسی لیڈرشپ میں واحد عمران خان ہی ہیں جن سے لوگ attractہوتے ہیں۔وہ بھی ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ایک charismatic شخصیت ہیں۔اب یہ charismaبھی ایک عجیب سی چیز ہے جسے واضح کرنا خاصا مشکل ہے۔بس کچھ شخصیات ہوتی ہیں جن کی طرف لوگ کشش محسوس کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر دنیا بھر کے لوگ برطانیہ کی کوئین کی طرف اس طرح کشش محسوس نہیں کرتے جس طرح وہ لیڈی ڈیانا کی طرف محسوس کرتے تھے۔ عمران خان بھی اگرچہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے گریجوایٹ ہیں لیکن ان کی شخصیت سے کبھی بھی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہونے کا تاثر نہیں ابھرا اور نہ ہی وہ کوئی بڑے وژینری نظر آتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ان کی ساری صلاحتیں کھیل پر مرکوز رہیں۔ بلاشبہ عمران خان اس ملک کے پاپولر سیاستدان ہیں لیکن ان کے مداحوں کی ایک واضح تعداد ان کی شخصیت کے کچھ پہلووں سے خاصی آزردہ خاطر نظر آتی ہے۔مثلاً یہی میجر صاحب کہہ رہے تھے کہ میں ان کی دھرنے کے دنوں میں ریحام خان سے شادی سے خاصا اپ سیٹ ہوا ۔ اس شخص کو ان دنوں شادی کی اٹھکھلیاں سوجھ رہی تھیں جب قوم ان کی خاطر گھر بار چھوڑ کر سڑکوں پر آنسو گیس اور تشدد کی مختلف صعوبتیں برداشت کر رہی تھی ۔ ان پرجس طرح قوم اپنی محبت نچھاور کر رہی تھی انہیں تو اب ان چیزوں سے above ہو جانا چاہیے تھا۔ لیکن سچ پوچھیں اگر ان کی شخصیت کا آپ بغور جائزہ لیں تو بڑا واضح نظر آتا ہے کہ خانصاحب بہت ہی بے حس اور خود غرض شخصیت کے مالک ہیں ۔ویسے تو ان کی شخصیت کے بہت سے منفی پہلو ہیں جن کی وجہ سے ان کی popularity میں وہ پھیلاؤ نہ آ سکا جس کی توقع کی جارہی تھی۔ وہ اپنے نعرہ کے مطابق عوام کا سونامی سامنے نہ لا سکے۔ ہاں ذوالفقارعلی بھٹو کی شخصیت نے یہ کر دکھایا تھا،اس لیے ان کی ذات سے یہ محاورہ منسوب ہوا تھا کہ بھٹو نے اگر کسی کھمبے کو اپنی پارٹی کا ٹکٹ دے دیا تو لوگوں نے الیکشن والے دن اس کھمبے کے ڈبوں کو بھی اپنے ووٹوں سے بھر دیا۔لیکن عمران خان کی شخصیت کے flaws نے اسے اس مقام پر نہ پہنچنے دیا۔ اسی لیے اسے الیکٹے ایبل(electables) کی ضرورت پڑگئی۔اب اگر خانصاحب کی شخصیت کے منفی پہلووں کا ذکر چل ہی نکلا ہے تو پھر ہو جائے کچھ ذکر ا س پری وش کا ۔خانصاحب کو اپنی زبان پہ کوئی کنٹرول نہیں ہے۔کچھ بولنے سے پہلے تولنے والی صلاحیت تو سرے ہی سے ان کی شخصیت میں نا پید ہے۔ان کے بہی خواہ ہمیشہ یہی خواہش کرتے ہیں کہ وہ جتنا کم بولیں اسی میں ان کا اور پارٹی کا مفاد ہے۔لیکن خانصاحب میں ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے آپ ہی کو عقل کل سمجھتے ہیں اس لیے کسی خیر خواہ کا مشورہ انھوں نے کیا سنناہے ۔ بلکہ مشورہ سے وہ الجھتے ہیں۔ خانصاحب نئے نئے محاذ کھولنے میں بھی خاصی مہارت رکھتے ہیں۔ ہمارے ایک لیجنڈ ( legend) آفیسر احمد صادق صاحب تھے جو بے نظیر بھٹو کے وزارت عظمیٰ کے دوران ان کے پرنسپل سیکریٹری رہے ، وہ صوبہ سندھ کے چیف سیکریٹری بھی رہے تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ بیک وقت کئی محاذ نہیں کھولنے چاہیں یہ بڑا مہلک (fatal) ہوتا ہے۔ایک محاذ جو کھولا ہوا ہے اسی پر اپنا فوکس رکھو اور جب اس دشمن پر مکمل قابو پا لو تو پھر کسی نئے محاذ کا سوچو۔ لیکن خانصاحب اپنی چاروں اور محاذ کھول کر تشفی اور خوشی محسوس کرتے ہیں۔ ماشااللہ اب تو پورے ملک میں کوئی ایک بھی سیاسی پارٹی نہیں رہ گئی جس کیساتھ خانصاحب کی محاذ آرائی نہ چل رہی ہو۔صاف نظر آتا ہے کہ اگر ان کی پارٹی پورے ملک میں اکثریتی نشستوں والی پارٹی بن بھی گئی تو ان کی اس ملک کی کسی سیاسی پارٹی سے حکومت بنانے کے لیے شراکت داری نہیں ہو سکے گی اور ان کی حکومت نہیں بن سکے گی ۔لیکن خانصاحب کاایک اور بھیdistinguished traitہے کہ وہ ابنارمل حد تک خوش فہم شخصیت ہیں۔
مثلاً اگر آپ ان کی آجکل کی تقاریر اور بیانات کا جائزہ لیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کچھ دنوں میں وہ اس ملک کے وزیراعظم ہونگے اور اگلی حکومت ان کی پارٹی کی ہوگی۔حالانکہ اس ملک کی سیاسی اور مجموعی صورت حال سے باخبر حلقوں کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ وہ کبھی بھی اس ملک کے وزیراعظم نہیں بن پائیں گے، بلکہ کچھ کا تو یہ بھی خیال ہے کہ اسی میں ارض پاک کی بہتری پنہاں ہے کیونکہ ان کا بے لچک رویہ کسی قومی نقصان پر بھی منتج ہوسکتا ہے۔اوپر دی گئی تمام باتوں کے باوجود خانصاحب کو اس بات کا کریڈٹ نہ دینا صریحاً بد دیانتی ہو گی کہ انہوں نے اس ملک کے کرپٹ اور طاقتور حکمرانوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور پھر ان کے قدموں میں ذرا سی لغزش بھی کسی نے نہ دیکھی اور وہ ڈٹے رہے۔تیسری دنیا میں طاقت اور حکمرانی کے نشہ میں چور حکمرانوں کے خلاف جنگ کبھی افراد کو راس نہیں آتی، بلکہ ان کی مثال بنا دی جاتی ہے تاکہ دوسروں کو عبر ت حاصل ہو۔خانصاحب ایک غنی صفت انسان ہیں۔ قوم کو اس بات کی تسلی ہونی چاہیے کہ وہ غریبوں کی کمائی نہیں لوٹیں گے۔ان پہ دولت لٹانے کے لیے زلفی بخاری جیسے کئی فین ان کے ارد گرد گھومتے رہتے ہیں۔


ای پیپر