ووٹ دو عزت لو
16 جولائی 2018 2018-07-16

پاکستانی عوام کو ووٹ دینے پر کس طرح مائل کیا جائے ؟ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر انتخابات سے چند ہفتوں پہلے بات شروع ہوتی ہے اور چند دنوں میں لوگ بھول بھال جاتے ہیں کہ پاکستان میں ووٹ دینے والوں کی شرح شرمناک حد تک کم ہوتی ہے۔ یہ ایسی قوم کی علامت ہے جسے اپنی ریاست کے انتخابی عمل پر اعتماد نہ ہو۔ اس کی وجوہات بے شمار ہیں اور نقصانات اس سے کہیں زیادہ۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ عوام میں مایوسی ہے کہ اقتدار صرف خواص ہی کی منزل ہے اور خواص کا شرمناک مطلب جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اس ملک میں غلط العام ہے وہ ہے امیر زادے و جاگیر دار یا پھر رسہ گیر لٹیرے لوٹ کھسوٹ کے نت نئے طریقوں سے کروڑ ہا روپے کے مالک جو پارٹی کو فنڈ بھی دے سکیں اور انتخابی عمل پر کروڑوں روپے لگا بھی سکیں۔ اقتدار میں جب عام آدمی آ نہیں سکتا تو ووٹ کیوں ڈالے ؟ مگر ایک بڑی وجہ بے شعور عوام بھی ہیں۔ اگر عوام میں شعور ہو کہ ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کا تدارک چند مرتبہ زیادہ سے زیادہ ووٹ زات برادری ، قیمے والے نان اور بریانی کو بالائے طاق رکھ کر سوچ سمجھ کر اس شخص کو دینا ہے جو دیانت دار ہو اور ان کے انتخاب کا صحیح حق دار تو ووٹ کے اس نظام پر عوام کا اعتماد بھی بحال ہوگا اور عوام کے مسائل بھی کم ہونا شروع ہو جائیں گے۔
عوام کی مایوسی انتخاب کے دن فیصلہ سناتی ہے کہ زیادہ ووٹ لے کر منتخب ہونے والا اس نظام کے تحت اقتدار میں آیا ہے جسے عوام کی اکثریت نے مسترد کر دیا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے الیکشن کمیشن میں NOTAکا خانہ بیلٹ پیپر میں رکھنے کی تجویز دی گئی تھی جس کا مطلب تھا کہ ‘ان میں سے کوئی نہیں ’ گویا نوٹا پر مہر لگائیے اور بتا دیجئے کہ میرے حلقے میں انتخاب لڑنے والوں میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں کہ اسے ووٹ دیا جائے۔ مگر پھر شاید اس ڈر سے کہ اس سہولت پر عوام جو ووٹ دینے آئیں گے ان کی اکثریت نوٹا پر مہر لگائے گی اور یہ بات ریکارڈ کا حصہ بن جائے گی کہ عوام نے باقائدہ طور پر موجودہ انتخاب میں حصہ لینے والے تمام سیاسی جماعتوں ہی کو مسترد کر دیا ہے تو پھر عوام میں یہ تاثر غالب رہے گا کہ ہمارے منتخب کردہ نمائندے مجموعی طور پر مسترد شدہ نمائندے ہیں۔ لہاٰزا الیکشن کمیشن پر دباؤ بڑھا اور انھوں نے اس بیلٹ پیپر میں اس خانے کے اضافے سے گریز کیا۔ نتیجہ پھر وہی رہا۔ عوام نے مجموعی طورپر انتخابات کو مسترد کر دیا بائیس کروڑ عوام میں سے چھیاسی اعشاریہ انیس ملین ووٹ رجسٹر کروائے اور اس میں سے آدھے سے بھی کم لوگوں نے ووٹ ڈالے گویا اس ملک میں جتنے فاتر العقل اور بچوں کی تعداد ہے اس سے بھی کم افراد ووٹ کی زمہ داری پوری کرنے گئے یعنی صرف 53.19 فیصد۔ اس مرتبہ رجسٹرڈ ووٹروں میں 23 فیصد کا اضافہ ہوا
لیکن خدشہ ہے کہ اس مرتبہ بھی 2013 کی نسبت ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوگا جس کافائدہ فرسودہ نظام کے مرکزی کردار ایلکٹ ایبلز اٹھائیں گے اور عوام کو ایک مرتبہ پھر شکست ہوگی۔
ووٹ کی شرح بڑھانے کے لیے مختلف ممالک میں مختلف طریقے رائج ہیں جو پاکستان میں انتخابات کی چوری اور دھاندلی کی عفریت کو سامنے رکھا جائے تو نا ممکن ہے کہ ان طریقوں پر عمل کیا جائے۔ جیسا کہ ووٹ ڈالنے والے ووٹ ڈالنے کے لیے باقاعدہ اپنی مرضی سے وقت لے سکتے ہیں اور اس وقت انھیں ووٹ ڈالنے کے لیے قطاروں میں کھڑا نہیں ہونا پڑتا جبکہ کچھ ممالک میں تو خط کے زریعے ووٹ ڈالنے کا طریقہ بھی وضع کیا گیا ہے تا کہ وہ شہری جو ووٹ ڈالنے نہ آنا چاہئے وہ بھی ووٹ کے عمل میں شامل ہو سکے۔ کچھ ممالک می ووٹ ڈالنے والوں کی سہولت کے مطابق ووٹ ڈالنے کے اوقات کا تعین کردیا جاتا۔ جبکہ اکثر ممالک میں ووٹ ڈالنے کی اہمیت اور کس کو ووٹ دیا جائے اور کیوں اس حوالے سے بچوں کو تعلیم کا لازمی جزو کی حیثیت سے پڑھایا جاتا ہے۔ ووٹ دینے آنے والوں کہ چہروں پر خوبصورت اسٹیکر لگا دیے جاتے ہیں جس پر میں نے ووٹ دیا درج ہوتا ہے اور وہ اس اسٹیکر کو دکھا کر مختلف کھانے کے ریسٹورنٹ سے کم قیمت پر کھانے کا لطف اٹھا سکتے ہیں اور بڑی فوڈ چینز انتخابات میں بہتر ووٹ ٹرن آوٹ کے لیے اپنا حصہ بخوشی ڈالتی ہیں۔ دنیا کے اکتیس ممالک ایسے ہیں جس میں ووٹ ڈالنا لازمی ہے اور ان ممالک میں ووٹ کا ٹرن آوٹ اکانوے فیصد سے زیادہ ہے مگر پاکستان میں شعور و آگہی کی کمی اور سسٹم کی کمزوری کی بدولت ان میں سے کوئی طریقہ بھی قابل عمل نہیں۔
پاکستان میں ووٹ کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالنے پر آمادہ کرنے کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات کئے جا نے اس کے لیے پاکستان کی حکومت بھی ووٹ ڈالنے والوں کے لیے ٹیکسوں میں نرمی ، بغیر سود کے چھوٹے قرضے ، ووٹ ڈالنے والے کو بہتر شہری قرار دے کراس کے لیے سہولیات کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں اسے پانچ سال بہتر پیکچ دیا جاسکتا ہے۔ اگر ووٹ ڈالنے والوں کے شناختی کارڈ کی لسٹ میں سے قرعہ اندازی کے زریعے حج عمرے کے ٹکٹ یا پھر دیگر انعامات کا اعلان کردیا جائے تو اگرچے ہے تو قدرے غیر سنجیدہ بات مگر یقین کیجئے جتنا اس عوام کو قرعہ اندازی اور انعام کے لالچ میں غیر معیاری پینٹ خریدتے اور دیگر اشیا پر ٹوٹ کر پڑتے دیکھا ہے شاید عوام اس ناکارہ اور غیر معیاری سسٹم پر بھی ٹوٹ پڑیں اور حق رائیدہی کے زیادہ استعمال سے مافیا قوتوں کو شکست ہو اور عوام جیت جائیں اور بہتر پڑھے لکھے با شعور نمائندے اسمبلیوں میں پہہنچ جائیں۔ اس مرتبہ چند ایک مثالیں بھی قائم ہوئیں تو آئندہ انتخابات میں باشعور پڑھے لکھے عام غریب آدمی کو انتخاب لڑنے کا حوصلہ ملے گا اور روائتی سیاست کرنے والے کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ چونکہ جمہوریت ہی واحد راستہ ہے جس پر چل کر دنیا میں قوموں نے ترقی کی ہے۔ اور عوام کے حق رائے دہی سے جب نظام پر فرق پڑتا ہے تو عوام کی زندگیوں پر براہ راست اچھے اثرات نمایاں ہو جاتے ہیں۔


ای پیپر