بھٹو، بی بی اور ریٹائرنگ روم
16 جولائی 2018 2018-07-16


بھائیوں کی طرح عزیز وزیر آباد کے ظفر اللہ اسد ہمدم دیرینہ خواجہ جمیل ایڈووکیٹ کو فون کر کے اُن کی خیر خیریت پوچھی تو گفتگو کے دوران نوے کی دہائی کے اوائل کی ایک یادگار تقریب کا ذکر ہوا کہ ہم آج تک چیمبر کی تقریر نہیں بھولے میں ینگ لائرز آرگنائزیشن گوجرانوالہ بار کا دو سال صدر رہنے کے بعد مقصود احمد بٹ (چیف رپورٹر روزنامہ جنگ) نئے صدر مقرر ہوئے۔ حلف وفاداری پر جناب عبدالمجید ٹوانہ، جناب تنویر خان، جناب افراسیاب راجہ چند دیگر جسٹس صاحبان کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کے پرنسپل جناب سردار اقبال مؤکل سٹیج پر جبکہ ڈویژن بھر کے وکلاء، انتظامیہ، ماتحت عدلیہ کے تمام افسران قائداعظم ہال میں جمع تھے۔ ہوا یوں کہ مجھے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے سامعین میں سے سٹیج پر ثمینہ زریں صدیقی ایڈووکیٹ نے اظہار کے لیے بلا لیا۔ اتنے ہیوی ویٹ لوگوں میں اچانک میرے جیسے کم سخن کے لیے بہرحال بات کرنا مشکل تھا۔ مجھ سے پہلے ایڈیشنل سیشن جج
صاحب فرما رہے تھے کہ اصل مسئلہ تو پیسوں کا ہی ہے لہٰذا ہم نوجوان وکلاء کو اہل کمیشن مقرر کیا کریں گے تا کہ ان کی گزر اوقات ہو سکے۔ میں چونکہ نمائندہ تھا اپنے طبقے کا! سٹیج پر آیا تو اکابرین سٹیج نے کوئی خاص اہمیت نہ دی اور ذاتی باتوں میں مگن رہے جب میں نے کہا کہ ’’آج اعلیٰ عدلیہ کے نامور لوگ سٹیج پر تشریف فرما ہیں جن میں ہماری مادر علمی کے تدریسی والد جناب سردار محمد اقبال مؤکل بھی ہیں جبکہ سامعین میں عدلیہ، انتظامیہ اور ڈویژن بھر کے وکلاء صاحبان بھی ہیں۔ ہمارے کردار ایسے ہو چکے ہیں کہ ہماری غیر موجودگی میں ذکر کرنے والا غیبت کے گناہ اور عدالت کے فیصلے اور رویے کا تذکرہ کرنے والا تو ہین عدالت کے جرم کا مرتکب ہوتا ہے اور بعض افراد کا تو جوڈیشل آفیسر ہونا ہی بذات خود عدلیہ کی توہین ہے۔ اس فقرے پر تمام جسٹس صاحبان اور پرنسپل صاحب و حاضرین تقریب یکدم چونک گئے میں نے مزید کہا کہ جناب پرنسپل صاحب آپ نے جب ہمیں کالج سے رخصت کیا تو قانون کی ڈگری یوں دی جیسے باپ بیٹی کو جہیز دیتا ہے کہ تیری آئندہ عملی زندگی میں کام آئے گا۔ آپ نے ہمیں قانون پڑھایا، آداب عدالت پڑھائے اور سکھائے مگر آداب ریٹائرنگ روم نہیں سکھائے نہ ہی ریڈر کے پل صراط کو پار کرنا سکھایا میری درخواست ہے کہ ایک پیریڈ اور مضمون کا اضافہ کیجیے جس میں آداب ریٹائرنگ روم بھی سکھائے جائیں کیونکہ ریٹائرنگ روم کا فیصلہ ہی عدالت میں سنایا جاتا ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج صاحب کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’حضور! معاملہ پیسے کا نہیں ہے ایک باوقار پیشے کا ہے آپ کیا محض پیسے کے لیے انصاف کرتے ہیں؟ ہم تو حضرت جعفر طیارؓ کی تقلید (جنہوں نے ہجرت حبشہ میں نجاشی کے دربار میں مسلمانوں کا مقدمہ پیش کیا تھا) میں عزت اور وقار کی خاطر کام کر رہے ہیں ۔ اگر پیسے کی ہوس ہوئی تو ریٹائرنگ روم کا قرینہ سیکھ لیں گے‘‘ مگر قومی سانحہ ہوا کہ افتخار محمد چوہدری جسٹس ریٹائرڈ کی عدلیہ بحالی تحریک اور پھر موصوف کے رویہ نے عدالتی روایات کو یکسر بدل دیا ۔ وکیل رہے نہ وہ انداز عدالت ۔
سیاست، وکالت، معاشرت، تبلیغ، تحریر، تقریر سب بدل گئے سیکڑوں کی جگہ ملین آ گئے اور ملین میں ہی بدعنوانی شروع ہو گئی۔ وطن عزیز کے سیاسی، سماجی، معاشرتی، مذہبی حالات ہیں جیسے کہ ایک ہی بنیادی کہانی میں ہزار داستان ہو۔ اگر کچھ ترقی ہے تو وہ اغیار کی ترقی ہے۔ ہم 22 کروڑ کو منڈی میں بدل دیا گیا۔ بنیادی طور پر ایک فوجداری وکیل ہونے کے ناتے وثوق سے کہتا ہوں کہ تمام غنڈوں بدمعاشوں قانون شکنوں کی پیدائش و افزائش ڈکٹیٹروں کے ادوار میں ہوتی رہی ہے یہ بدمعاش سیاسی ہوں یا سماجی یا مذہب کے نقاب میں ان کے قدموں کا کھرا ڈکٹیٹروں کے ادوار سے جا ملتا ہے۔ محکمہ بحالیات یعنی مہاجرین کی آباد کاری کے سلسلے میں رشوت کی داغ بیل ڈالی گئی جس نے وطن عزیز کے تمام شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور کچھ اس طرح کی بدعنوانی کے خلاف بننے والے محکمے محض بدعنوان ہی نہیں بلیک میلر، بدمعاش اور مخالفین کی سرکوبی کا آلہ کار بھی بن گئے۔
پچھلے دنوں نواز شریف جو کبھی بقول حمید گل ایجنسیوں کے فخر تھے۔ اب اُن کے بقول ایجنسیوں کا ٹارگٹ ہیں بیٹی کے ساتھ گرفتاری دینے لندن سے پاکستان آئے۔ بہرحال یہ انتہائی مشکل کام اور مرحلہ تھا۔ قبلہ سمیع اللہ ملک صاحب کی مرحومہ اہلیہ سے محترمہ کلثوم نواز کی دوستی تھی۔ ملک صاحب بیگم کلثوم نواز صاحبہ کی عیادت کو اکثر جاتے ہیں۔ 13 جولائی کو میں نے اُن سے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ وہ وفات پا چکی ہیں۔ ملک صاحب بہت دلبرداشتہ ہوئے اور کہنے لگے کہ میں نے نواز شریف کو تکبر و دوستی کی ہر حالت میں دیکھا ہے لیکن بیگم کے معاملے میں جس ٹوٹ پھوٹ کا شکار پایا میری روح کانپ اٹھی۔ جو کہتے ہیں وہ وفات پا چکی ہیں وہ خوف خدا سے محروم لوگ ہیں ۔ اللہ اُن کی اخلاقی اور دماغی حالت پر رحم کرے حالانکہ ملک صاحب پیپلزپارٹی کے حامی نہیں ہیں مگر انہوں نے فرمایا کہ مجھے ضیاء الحق کے وقت اور نوا زشریف کے وقت میں مردوں کی جیل میں قید کاٹنے والی بینظیر بہت یاد آئیں اپوزیشن میں تھیں وہ pregnant بھی تھیں، ایک بچی گود میں اور بیٹا انگلی سے پکڑا ہوا چلچلاتی دھوپ میں لانڈھی جیل میں اپنے شوہر کے مقدمہ کی سماعت کے لیے آتی اور اینٹوں کی بنی تھڑی پر بیٹھتی تھیں۔ عاصمہ جیلانی کے بقول محترمہ بینظیر کو تو شاور کی فرصت نہیں ملتی تھی ہفتے میں تین چار مختلف شہروں کی عدالتوں میں پیش ہوتیں اور خاوند جیل میں تھا، اس وقت پرائیویٹ چینلز، موبائلز ،سوشل میڈیا اور نہ کوئی بات سننے والا تھا جبکہ بھٹو صاحب کا مقدمہ تو فیصلہ کرنے والے خود اقرار کر گئے کہ ہم پر دباؤ تھا۔ عجب اتفاق ہے کہ جس فلیٹ کا مقدمہ تھا اسی فلیٹ میں بیٹھ کر نواز شریف صاحب نے سنا فیصلہ سنانے میں تاخیر کی وجہ کہا جاتا ہے کہ نوا زشریف سیاست کو خیر باد کہنے پر رضا مند نہ ہوئے جب کوئی بھی کبھی اپنے مؤقف پر کھڑا ہو گا اگر وہ حق پر ہوا، جب بھی سیاسی قربانی کی بات ہو گی، جب بھی دکھوں کو باوقار طریقہ سے جھیلنے کی بات ہو گی جب بھی زندہ رہنے کی خاطر بقول منو بھائی کے مرنا پڑے گا۔ بھٹو اور بی بی یاد آتے رہیں گے۔ چار چار سیاسی پارٹیاں بدلنے والے الیکٹیبلز جن کا اردو ترجمہ ممتاز صحافی جناب اشرف شریف صاحب نے موروثی لوٹے کیا ہے۔ یہ لوٹے جو مرضی کہتے رہیں تاریخ میں زندہ وہی رہے گا جو تاریخ کا مثبت رخ موڑے گا۔ ظالم حاکم کے سامنے کلمہ حق کہنا سب سے بڑا جہاد ہے مگر وطن عزیز میں پہلے حاکم کا تعین تو کر لیا جائے وہ بیورو کریسی ہے نظام ہے کوئی ادارہ ہے یا نظر آنے اور پھانسی چڑھ جانے، گولی کھانے، جلا وطن ہونے نا اہل ہونے والا وزیراعظم ہے۔ سیاسی جدوجہد اور قربانی میں بھٹو اور بی بی جبکہ عدالتی تاریخ میں ریٹائرنگ روم اور کٹہرے یاد آتے رہیں گے۔


ای پیپر