متحدہ مجلس عمل کا سیاسی قبلہ
16 جولائی 2018 2018-07-16

تاریخ گواہ ہے کہ دینی جماعتیں ہمیشہ سے ہی غیر دینی جماعتوں کے لیے بے ساکھیوں کا کام کرتی رہی ہیں، نتیجہ یہ نکلا 70 سال گزر جانے کے باوجود بھی ملک کے اداروں میں قرآن وسنت کا قانون نافذ نہ ہو سکا۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ ملک کی تمام جماعتوں کا الگ دینی و سیاسی تشخص کے حوالے سے اپنا پلیٹ فارم ہوتا ۔ جیسے آج متحدہ مجلس عمل کے نام سے معرض وجود میں آیا ہے لیکن افسوس کہ ایم ایم اے کا پلیٹ فارم ہونے کے باوجود بیشتر دینی جماعتوں کے سیاسی قبلے آج بھی درست نہیں۔ جہاں سے اتفاق و الحاد، یکجہتی و ہم آہنگی کی صدائیں بلند ہونا تھیں وہاں سے ڈیرھ ڈیرھ اینٹ کی سیاسی و مذہبی عمارت سجا کر الگ الگ امام بن بیٹھے، وہ امام جس نے امت کی امامت کرنا تھی، وہ آج خود فرقوں میں بٹ گئے اور کچھ غیر دینی قوتوں کے آلہء کار بن گئے۔
رہبروں کی رہبری کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج عوام سوال کرتے ہیں کیا ہم ایسے لوگوں کو ووٹ دیں جن کا اپنا کوئی پیرومرشد نہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ تمام مذہبی جماعتوں کے گرینڈالائنس کے ذریعے سے ملک میں نفاذِاسلام فلاحی اسلامی ریاست کے لیے کی گئی کوششیں بارآور ثابت ہوسکتی ہیں اور ملک میں اسلامی انقلاب برپا ہو سکتا ہے۔جب سے پاکستان معرضِ وجود میں آیا ہے اُس وقت سے لے کر آج تک تمام اسلامی جماعتوں نے غیر دینی اور سیکولر طاقتوں کو ہی مستحکم کیا اور مذہبی جماعتیں ان کی غلام بن کر اپنا سیاسی و مذہبی تشخص اپنے ہاتھوں سے دفن کرتی رہی ہیں۔
بہر حال جب تک ملک کی تمام مذہبی ودینی جماعتیں ( بالخصوص جب ملک میں عام انتخابات ہوتے ہیں) اپنے اپنے فروعی اختلافات و ذاتی مفادات سے بالاتر نہیں ہوتیں اس وقت تک لادینی و سیکولر طاقتوں کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ بعض دینی جماعتوں کے سوڈو اتحاد کے ذریعے اب عوام کو مزید بیوقوف نہیں بنایا جا سکتا ۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ دینی جماعتوں کا پلیٹ فارم ہونے کے باوجود دوسری جماعتوں سے الحاق و اتحاد بہت بڑی سیاسی غلطی ہو سکتی ہے اور اس سے باقی ماندہ جماعتوں کو قریب لانے کی بجائے ایم ایم اے کا اپنا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
علما ئے کرا م جو اس وقیع اور قابلِ قدر اتحاد میں شامل ہیں وہ علم، عمل اور کردار کے لحاظ سے اس معاشرے میں ستاروں کی ماند چمکتے ہیں، ان کی علمیت کے سامنے عام سیاسی جماعتوں کی مجموعی لیڈر شپ ہیچ ہے، ان کے کردار پر عوام اسطرح انگلیاں نہیں اُٹھاتے جیسے عام سیاست دانوں پر الزامات عائد کیے جاتے ہیں، اُن کی گورننس میں کسی کو تاہی کی نشاندہی نہیں کی جا سکتی۔ اُنھوں نے ایک ایسے دور میں صوبے کے معاملات کو کنٹرول کیا جب عالمی دہشت گرد پاکستان کے خلاف حملوں کی تیاری کر رہے تھے،مگر ایم ایم اے نے اپنے اوسان خطا نہیں ہونے دیئے اور کوئی ایسا بڑا سانحہ نہیں ہوا جس سے ملک ہل کر رہ گیا ہو۔
عام تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ لوگ مولویوں کا واعظ تو سنتے ہیں ، اُن سے نکاح بھی پڑھوا لیتے ہیں اور جنازے کی امامت کے لیے بھی درخواست کرتے ہیں مگر ووٹ دینے میں ہچکچاتے ہیں۔ یہ خیال سو فیصد درست نہیں کیونکہ گیلپ آف پاکستان کے سروے کے مطابق سات فیصد لوگ پہلے ہی دینی جماعتوں کو ووٹ دینے کے لیے تیار ہیں ا ور اتحاد کے نتیجہ میں بائیس فیصد ووٹرز اسکی تائید کے لیے تیار ہیں۔ ایک اتحاد اگر مجموعی طور پر بائیس فیصد خالص ووٹ حاصل کر لے تو اُسے حکومت سازی سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی بلکہ کئی دوسری پارٹیاں اس کے ساتھ تشکیلِ حکومت کے لیے ساتھ کھڑی ہو جاتی ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایم ایم اے کا وجود ملک و ملت کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ اس کا وجود ہر صورت میں برقرار رہنا چاہئے مگر انتخابی اختلافات اور سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہی وہ پہلا اور بنیادی اختلاف ہے جس سے پروفیسر ساجد میر ایم ایم اے اور ن لیگ پر برس پڑے ۔یوں سمجھیں کہ جس اتحاد کے پھول کی ابھی کلی بھی نہ کھلی تھی اور مرجھا گئی۔ پروفیسر ساجد میر بیک وقت ایم ایم اے اور ن لیگ کے حریف بھی ہیں اور خلیف بھی ان دونوں کے خلاف بیانیہ بھی جاری کر چکے ہیں۔مبصرین کی نظر میں وہ بیانیہ ایسا ہے جو قائدین کی سطح پر شائد کسی کو سمجھ آجائے مگر عام ووٹرز اس انوکھی سائنس کو سمجھنے سے قاصر ہیں ۔
ایم ایم اے چاروں مسالک کی جماعت ہے، مگر اس بار اُسکی پہلے جیسی متفقہ اور مضبوط اپوزیشن نہیں اصلاََ یہ جماعتِ اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام(ف) کا اتحاد ہے، باقی تو چنگ چی رکشہ پارٹیاں سمجھ لیں۔ بعض چھوٹی جماعتوں کے پاس مختلف حلقوں میں اتنے لوگ بھی نہیں کہ الیکشن میں کھڑے کر سکیں۔تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی مرضی کا اتحاد بنانے ، نہ بنانے کا مکمل حق حاصل ہے، یہ سیاست اور جمہوریت کا حصہ ہے، مگر ایم ایم اے جیسا بے جوڑ اتحاد قدرے غیر فطری امر ہے۔ مثال کے طور پر اتحاد کی دو بڑی جماعتوں کو ہی لے لیں جیسا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعتِ اسلامی، اِن دونوں کے مابین اہم ایشوز پر زمین و آسمان کا فرق ہے اور ایک دوسرے کے متضاد سمت میں کھڑی ہیں۔ جماعتِ اسلامی پانامہ کیس سے لیکر نااہلی اور سزا تک سپریم کورٹ میں نواز شریف کے خلاف کیس لڑتی رہی اِس کے برعکس مولانا فضل الرحمٰن اور پروفیسر ساجد میر نے ن لیگ کا کھل کر ساتھ دیا۔ کرپشن ملک کا اہم ترین ایشو ہے، ایسے بنیادی ایجنڈے پر جو جماعتیں متفق نہیں اکٹھی سیاست کیسے کریں گی؟۔


ای پیپر