Source : Yahoo

ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج
16 جولائی 2018 (16:47) 2018-07-16

اسلام آباد:سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر)صفدر کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کے وکلا نے احتساب عدالت کے ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کے فیصلے کیخلاف اپیلیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کیں۔ جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ احتساب عدالت نے انصاف کے تقاضے پورے کئے بغیر سزا سنائی ۔

اپیل میں مزید کہا گیا ہے کہ ضمنی ریفرنس اور عبوری ریفرنس کے الزامات میں تضاد تھا، صفائی کے بیان میں بتادیا تھا کہ استغاثہ الزام ثابت کرنے میں ناکام ہوگیا تھا اس لیے شک کا فائدہ ملزم کو ہوتا ہے، احتساب عدالت کے جج مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے۔ ایون فیلڈ ریفرنس میں قید، جرمانے، نااہلی اور جائیداد قرقی کا حکم کالعدم قرار دیا جائے، نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بری کرنے کا حکم دیا جائے۔درخواستوں میں مزید کہا گیا کہ اپیلوں کا فیصلہ ہونے تک نواز شریف، مریم نواز اور صفدر کو ضمانت پر رہا کیا جائے، عارضی طور پر نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزا معطل کی جائے۔

اپیلوں میں جج احتساب عدالت اور نیب کو فریق بنایا گیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پرویز رشید کا کہنا تھا کہ عدالت نے کہا کہ انتخابات تک کسی کو انتخابی عمل میں حصہ لینے سے نہ روکا جائے اسی بنیاد پر آصف زرداری اور فریال تالپور کو سہولت عطا کی گئی ہے۔سینیٹر پرویز رشید نے مطالبہ کیا کہ آصف زرداری اور فریال تالپور کو ملنے والی سہولت نواز شریف، مریم نواز، کیپٹن (ر)صفدر اور قمرالسلام کو بھی دی جائے۔پرویز رشید نے کہا کہ قمرالسلام کے ساتھ ناانصافی چوہدری نثار کے حق میں ہوئی ہے۔ سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ سینئر قانون دانوں اور سابق چیف جسٹس صاحبان نے احتساب عدالت کے ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کو کمزورقرار دیا ہے اور اس غیر منصفانہ فیصلے پر انگلیاں اٹھائیں، جے آئی ٹی کی رپورٹ میں قیاس آرائیاں اور سنی سنائی باتیں تھیں، جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سزا سنائی گئی۔

اس موقع پر مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کا میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ احتساب عدالت کا فیصلہ قانون کے مطابق نہیں بلکہ قانون سے متصادم ہے، فیصلے کو کالعدم قرار دیاجانا انصاف کے مطابق ہوگا۔امجد پرویز کے مطابق ہمارا کیس بہت مضبوط اور میرٹ پر ہے اور ہم ریلیف ملنے کی امید رکھنے میں حق بجانب ہیں۔یاد رہے اسلام آباد کی احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں سابق وزیرِاعظم نواز شریف کو 10 سال قید، ایک ارب 29 کروڑ روپے جرمانہ، مریم نواز کو سات سال قید، 32 کروڑ روپے جرمانہ، شریف فیملی کے ایون فیلڈ اپارٹمنٹس بحقِ سرکار ضبط کرنے کا حکم اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو بھی ایک سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔ عدالت نے کیس کے شریک ملزموں حسین اور حسن نواز کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کئے تھے۔


ای پیپر