anbar shahid columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
16 جنوری 2021 (11:50) 2021-01-16

ماہرین نفسیات نے یہ انکشاف کیا ہے کہ سیلفی لینے والے ذہنی مریض ہیں۔ یہ کوئی حیران کن بات نہیں کیونکہ سیلفی کے ٹرینڈ نے ہم سب کو سیلفش بنا دیا ہے اور ایسا تو ہونا ہی تھا کیونکہ سیلفی نے ہمیں سکھایا کہ بس ہم خود ہی کافی ہیں۔ فیس بک،ٹویٹر، انسٹا گرام اورواٹس ایپ پر اپنی نئی نئی سیلفیاں لگا کر لوگوں سے داد وصول کرنا اور اگرکوئی لائک کمنٹ نہ کرے تو اس سے متنفر ہوجانا، روز بروز خود پسندی کا شکار ہونا اور پھر آخر کار تنہائی میں مبتلا ہوجانا۔ ایک چھوٹے سے عمل نے کس قدر تنہا کردیا ہے۔ جس کو دیکھو دنیامافیہ سے بے خبر ایک ٹیڑھا سا منہ بنائے سیلفی لینے کھڑا ہوجاتا ہے۔ ساری دنیا ایک طرف اور سیلفی لینے والا ایک طرف، اس شوق کے ہاتھوں دنیا بھر میں کئی لوگ جان سے بھی گئے ایک بے معنی شوق نے ان کی جان لے لی۔ 

خود پسندی کے اس عمل نے رشتہ دار، دوستوں، اور حلقہ احباب سے لاتعلقی تک پہنچادیا آہستہ آہستہ خوشی غمی میں عدم شرکت ، اور پھر یہی عادت اتنا خود غرض بنا دیتی ہے کہ دوسروں کے مسائل، غربا مساکین کی مدد سے بھی پہلوتہی برتی جاتی ہے اور جو رقم بچتی ہے وہی ڈاکٹر اور نفسیاتی امراض کے ماہرین کو دی جاتی ہے۔ 

انسان فطرتاً تعریف کا بھوکا ہے وہ چاہتا ہے اسکی تعریف کی جائے۔ اسے احساس برتری کہا جائے یا احساس کمتری!

لوگوں کی ذہنی صحت کا یہ عالم ہے کہ روز مرہ کے معمولات کھانا کھاتے ہوئے، کہیں سفر کرتے ہوئے، یہاں تک کہ عبادات کی بھی خود نمائی کی جاتی ہے۔ خود نمائی ایک نفسیاتی بیماری ہے جب حد سے زیادہ ہو… تو انسان خود کو بہتر سمجھنے لگ جاتا ہے۔

حالیہ چند برس میں سیلفی لینے کا رواج بہت زور پکڑ چکا ہے، دفاتر، پارکوں، تفریحی مقامات اور تقریبات میں  لوگ موبائل فون سے سیلفی لے کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا عام تفریح بن چکی ہے لیکن بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ عادت نفسیاتی اور ذہنی بیماریوں کا باعث بھی بن رہی ہیں۔ برطانوی ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ بیماری سیلفیٹس کہلاتی ہے، تین اقسام کی بیماری میں آپ کونسی اسٹیج پر ہیں؟ ماہرین نے بتایا کہ پہلی اسٹیج پر مریض دن میں دو سے تین بار سیلفی لیتا ہے، زیادہ سے زیادہ سیلفیاں لینا اور سوشل میڈیا پرلگانا بیماری کی دوسری اسٹیج کہلاتا ہے، آخری اسٹیج پرمریض خود کو سیلفی لینے سے روک نہیں پاتا اور دن میں کئی بارسیلفی سوشل میڈیا پرلگاتا ہے۔

اپنی زندگی کے ہر لمحے کی تصاویر لینے کی عادت لوگوں کے اندر اہم لمحات کو یاد کرنے کی صلاحیت کو ختم کرکے رکھ دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق سیلفی لینے کی عادت یاداشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سیلفی لیتے ہوئے لوگوں کی توجہ صرف ایک خاص چیز پر مرکوز ہوتی ہے، جس کی وجہ سے ان کی یاداشت متاثر ہوتی ہے۔ لیکن پاکستانی قوم سیلفی کے ساتھ ساتھ  بے تحاشا فضول کاموں میں وقت ضائع کر رہی ہے جیسے کچھ دن پہلے بجلی جاتے ہی پورے پاکستان میں سوشل میڈیا افواہوں کی زد میں رہا اور ایک اندازے کے مطابق، پاکستانیوں نے پہلے آدھے گھنٹے میں فیس بُک پر پانچ کروڑ مِیمز شیئر کر کے ریکارڈ قائم کیا ہے۔

یہ وہی قوم ہے جس نے نیو ائیر نائٹ پر اربوں روپے کی آتش بازی کی۔ لمحہ بہ لمحہ اسٹیٹس اپ لوڈ کرنے والوں کاذہنی اسٹیٹس بہت پسماندہ ہو چکا ہے۔ صرف یہی نہیں ٹک ٹاک، اور پب جی بھی موجود ہیں یہاں مکمل پاگل خانے تک پہنچانے کے لیے۔ سیلفی سے زیادہ اس قوم کے نوجوانوں کو پاگل بنانے کے لیے پب جی کا نام ہی کافی ہے۔کسی قوم کو مجرم بنانے کے لئے ضروری نہیں کہ اس کے ہاتھوں میں اسلحہ دیا جائے۔ بلکہ مجرمانہ سوچ ہی کافی ہے۔ موجودہ پب جی گیم کو اگر آپ غور سے دیکھ لیں تو اس میں آپ کو جرم کرنے اور لوگوں کو مارنے کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لاہور میں ایک باپ نے اپنے بیٹے کو پب جی گیم کھیلنے پر ڈانٹا تھا تو اس پر اس کم عمر بچے نے پستول اٹھا کر اپنے باپ کو گولی ماری۔ 

اس گیم کا سب سے زیادہ شکار نوجوان نسل ہوئی ہے۔ جو ملک اور اسلام کا اہم سرمایہ ہیں۔ اگر آپ اسلام کا مطالعہ کریں تو اسلام کو پھیلانے میں سب سے زیادہ کردار نوجوانوں نے ادا کیا ہوا ہے۔ اب ہوکیا رہا ہے ۔بچہ تنہائی میں بیٹھنا پسند کرتا ہے تنہائی میں بیٹھنے سے بہت زیادہ نفسیاتی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ 

ان تمام کاموں کا مصرف سوائے وقت کے زیاں کے اور کچھ نہیں نہ اس سے گھر والوں کا بھلا ہوتا ہے نہ معاشرے کا۔ سیلفی ہو، اسٹیٹس اپ لوڈ ہو، میمز ہو، ٹک ٹاک ہو یا پب جی ان سب سرگرمیوں سے سوائے وقت کے زیاں اور نوجوانوں کی زندگی کی بربادی کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ نوجوان ہی کسی قوم یا ملت کا سرمایہ ہوتے ہیں لیکن ان لغویات میں الجھ کر سب بے وقعت وبے مایہ ہوتے جارہے ہیں لیکن اس کے سد باب کی والدین، دانشور یا تعلیمی ادارے کسی کو فکر نہیں۔ 

ہم ایک ایسی قوم تیار کررہے ہیں جس میں نہ تو کوئی عالم ہے نہ مفکر، نہ سائنس دان نہ ریاضی دان نہ  خلائی ماہر۔ بس اس قوم سے بحث برائے بحث کرالو  ان کو تو یہ بھی نہیں پتہ کہ دنیا میں آئے کیوں ہیں اور ان کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ 

فرق صرف یہ ہے کہ پہلے مائیں بیٹوں کو تلواریں دے کر میدان جہاد میں بھیج دیتی تھیں اور اب موبائل دے کر کمروں میں بٹھائے رکھتی ہیں کہ کہیں میرے بیٹے کو ٹھنڈ نہ لگ جائے اور جو بھی کررہا ہے کم از کم میری نظروں کے سامنے تو ہے! 

کاش یہ مائیں بچوں کو یہ پانچ سوال ضرور بتادیں جو قیامت میں ان سے پوچھے جائیں گے۔ 

 اپنی عمر کہاں گزاری؟

جوانی کن کاموں میں خرچ کی؟

مال کہاں سے کمایا؟

اور کہاں پر خرچ کیا؟

اپنے علم پر کیا عمل کیا؟ (ترمذی: 2417)


ای پیپر