sajid hussain malik columns,urdu columns
16 جنوری 2021 (11:47) 2021-01-16

پچھلے کالم میں کچھ ہی دن قبل داغ مفارقت دینے والے اپنے حقیقی بھانجے ملک غلام حسین مرحوم ، اپنے سابقہ رفیقِ کار ڈاکٹر قاضی محمد عیاض مرحوم اور کچھ عرصہ قبل راہی ملک عدم ہونے والے اپنے پسندیدہ ترین کالم نگار اور جدید اُردو نگاری کے ایک لحاظ سے بانی سمجھے جانے والے سینئر صحافی عبدالقادر حسن مرحوم کا ذکر کیا تھا۔ اخبار ی اور صحافی دنیا کی دو چیدہ اور نیک نام شخصیات مرحوم سعود ساحر اور محترم روف طاہر کا تذکرہ ہونے سے رہ گیا تھا ۔ آج اس قرض کو چکا دیتے ہیں۔ سید سعود ساحر جنہیں ان کے قریبی احباب "شاہ جی"کے نام سے پکارتے تھے کا غائبانہ تعارف آج سے تقریباً چار عشرے قبل گزشتہ صدی کے ستر کے عشرے کے آخری برسوں میں ہوا جب وہ ادارہ اردو ڈائجسٹ کے زیر اہتمام محترم مجیب الرحمان شامی کے زیر ادارت چھپنے والے اس دور کے کثیر الاشاعت جریدے ہفت روزہ  "زندگی"کے ادارہ تحریرمیں شامل تھے۔ پھر انہی برسوں یا ان سے کچھ آگے پیچھے ان سے بالمشافہ ملاقات کا بھی موقع ملنے لگا جب ان کے دونوں بیٹے احمد سعود (لیفٹیننٹ کرنل ریٹائرڈ) اور فاروق ایف جی سرسید سکینڈری سکول راولپنڈی (جہاں میں پڑھاتا تھا) میں زیر تعلیم تھے۔ اس طرح شاہ جی سے ایک طرح کی نیازمندی (بڑی حد تک غائبانہ ہی سہی) کا تعلق قائم ہوا جو تا دیر چلتا رہا اور وہ جہاں بھی ملتے بڑے تپاک اور گرم جوشی سے مجھے ملک صاحب کہہ کر پکارتے۔ 

سید سعود ساحر ایک آزاد منش ، درویش صفت اور اپنے نظریات پر پختگی سے ڈٹے رہنے والے دائیں بازو کے صحافی تھے جو زندگی کے آخری سانسوں تک اپنے نظریات اور افکار پر کاربند رہنے کی شہرت رکھتے تھے۔ ہفت روزہ "زندگی "ہو، روزنامہ "جسارت" کراچی ہو ،  ہفت روزہ" تکبیر"اور روزنامہ"  اُمت " کراچی یا اسلام آباد ہو وہ کھل کر اپنے نظریات اور خیالات کو د و ٹوک انداز میں بیان کرنے سے کبھی پیچھے نہیں رہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ روزنامہ" اُمت "میں یا کسی اور قومی محاصر میں گاہے گاہے ان کے چھپنے والے کالم کا عنوان بھی "دو ٹوک" تھا ہفت روزہ "زندگی" میں وہ محترم مجیب الرحمان شامی کے ہم قدم تھے تو پنڈی اور اسلام آباد کے بارے میں ان کی رپورٹیں )یا ہفتہ وار ڈائری( سیاسی حلقوں میں ہی نہیں بلکہ مقتدر حلقوں میں بھی دلچسپی سے دیکھی اور پڑھی جاتی تھیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 4اپریل 1979کی رات کو پیپلز پارٹی کے بانی چیئر مین اور سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو جناب احمد رضا قصوری کے والد نواب محمد احمد خان کے قتل کے الزام میں ملنے والی سزائے موت پر عمل در آمد کرتے ہوئے پھانسی پر لٹکایا گیا تو سعود ساحر مرحوم کی اس بارے میں ہفت روزہ" زندگی" میںسر وق کی کہانی کے طور پر چھپنے والی خبر نما رپورٹ نے 

تہلکہ مچا دیا۔ یہ ہفت روزہ" زندگی "کے عروج کا زمانہ تھا اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس کے مدیر مسئول محترم مجیب الرحمان شامی کے ساتھ جناب سجاد میر ، محترم ممتاز اقبال ملک، مختار حسن مرحوم، محترم رفیق ڈوگر اور محترم سعود ساحر مرحوم وغیرہ اس کے ادارہ تحریر میں شامل تھے۔ 

محترم سعود ساحر مرحوم طویل عرصہ تک جناب صلاح الدین مرحوم کے زیر ادارت چھپنے والے ہفت روزہ "تکبیر" جو ایک دور میں پاکستان کا سب سے زیادہ چھپنے والا نیوز میگزین تھا کے اسلام آباد میں خصوصی نمائندے کی حیثیت سے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ وہ راولپنڈی اسلام آباد  یونین آف جرنلسٹ (RIUJ) اور راولپنڈی پریس کلب کے لمبے عرصے تک لگاتار صدر بھی منتخب ہوتے رہے۔ کراچی سے محترم رفیق افغان نے روزنامہ "اُمت "کا اجرا کیا تو محترم سعودساحر اس سے بطور بیوروچیف اسلام آباد منسلک ہو گئے۔ انتقال سے قبل غالباً وہ اسی روز نامے کے اسلام آباد ایڈیشن کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر کے فرائض سر انجام دے رہے تھے اب وہ اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے ہیں تو میں ان کے بارے میں یہی کہوں گا ۔۔حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

محترم رئوف طاہر جن کا ہفتہ عشرہ قبل ہی انتقال ہوا ہے کو خراج ِ عقیدت پیش کرنا بھی ضروری ہی نہیں بہت ضروری ہے۔ بلاشبہ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جن کے نظریات، جن کی سوچ، جن کی فکر اور تحریروں اور جن کی اسلام ، پاکستان اور جمہوریت سے وابستگی کو ان کی وفات کے بعد بے پناہ خراج تحسین ہی نہیں پیش کیا گیا ہے بلکہ ان کے جاننے والوں اور ان سے قریبی تعلق رکھنے والوں نے ان کے خلوص نیت، ان کی درویشی اور قناعت پسندی ، رزق حلال کی کمائی پر ان کے انحصار ، اپنے دوستوں اور مہربانوں کے لیے ہمہ وقت سراپا شفقت و محبت اور ہر گام ان کی مدد و دستگیری کے لیے تیار رہنے کا تذکرہ بھی انتہائی خوب صور ت اور قابل قدر الفاظ میں کیا ہے بلکہ کر رہے ہیں۔ یہ بڑے نصیب کی بات ہے کہ کسی کے دنیا سے اُٹھ جانے کے بعد اس کا ذکر اس کثرت سے اور اتنے خوب صورت اور متاثر کن انداز میں ہو۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ جناب رئوف طاہر کی ناگہانی وفات کے بعد ان کے بارے میں اتنے کالم اور اتنی تحریریں چھپی ہیں جو شاذو نادرہی حالیہ دور میں ذرائع ابلاغ سے تعلق رکھنے والی کسی شخصیت کے بارے میں چھپی ہونگی۔ ان کے بارے میں لکھنے والوں میں وہ بھی ہیں جنہیں ان سے انتہائی قربت اور ہم خیالی تھی اور زندگی کی طویل راہوں میں وہ ان کے ہم قدم رہے تھے۔ وہ بھی ہیں جو ان سے نظریاتی ہم آہنگی رکھنے کے باوجود ان کے سیاسی فلسفے ، سوچ اور نقطہ نظر سے اتفاق نہیں رکھتے تھے اور میری طرح ان سے غائبانہ عقیدت ، لگائو اور احترام کا رشتہ رکھنے والے بھی ہیں جن کی ان سے کوئی ذاتی شناسائی نہیں تھی نہ ہی ان سے کھبی بالمشافہ ملاقات ہوئی لیکن ان کی تحریروں (کالموں) کا مستقل قاری ہونے کے ناتے انہیں ہمیشہ اپنے خیالات ، سوچ ، فکر اور دل کے قریب پایا۔

یہ مبالغہ آرائی نہیں حقیقت ہے کہ محترم رئوف طاہر کے اچانک اس فانی دنیا سے اُٹھ جانے کا سنا تو دل کو ویسا ہی دکھ محسوس ہوا جیسا کسی قریبی عزیزکی موت پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے اور کچھ نہیں سوجھا تو میں نے روزنامہ "نئی بات"کے گروپ ایڈیٹر اور بزرگ صحافی محترم جناب عطا الرحمان جن کا فون نمبر میرے پاس ہے کو فون کرکے ان سے تعزیت اور دکھ کا اظہار کیا کہ میرا خیال تھا اور ہے کہ ان کی مرحوم رئوف طاہر سے دیرینہ رفاقت ، گہرے تعلقات اور ہم خیالی رہی ہے۔ یہاں مجھے اپنی اس کوتاہی کا بھی اظہار کرنا ہے کہ آخر میں نے محب مکرم و محترم جناب عرفان صدیقی ( سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے مشیر اور ان کے قریبی ساتھی) کو فون کرکے ان سے اظہارِ افسوس کیوں نہیں کیا حالانکہ مجھے اچھی طرح علم ہے کہ جناب عرفان صدیقی کا بھی محترم رئوف طاہر مرحوم و مغفور سے کب سے گہرا تعلق اور ہم خیالی چلی آرہی تھی۔یہاں یہ حوالہ کوئی اتنا غیر متعلق نہیں ہوگا کہ یہ محترم عرفان صدیقی ہی تھے جنہوں نے سابقہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے معاون خصوصی کے طورپر قومی ایوارڈز کے لیے نامزدگی کی سفارشات پیش کرنے والی کمیٹی کے سربراہ کے طور پر غالباً 2014میں صدارتی تمغہ برائے حسن ِ کارکردگی کے لیے محترم عطاء الرحمان اور مرحوم رئوف طاہر کے ناموں کی سفارش کی تھی۔ بلاشبہ محترم جناب عطاء الرحمان یا مرحوم رئوف طاہر صحافت کے شعبے میں اپنی طویل قابل ِ قدر اور شاندار خدمات کے لیے صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے بھی بڑے ایوارڈ کے مستحق سمجھے جا سکتے تھے۔ 

محترم رئوف طاہر مرحوم و مغفور سے میرا ذاتی تعلق کیا تھا، کیا نہیں تھا اور میں کب سے انہیں (غائبانہ طور پر ہی سہی) جانتا تھا اس بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔کچھ ایسا خیال گزرتا ہے کہ پچھلی صدی کے نوے کے عشرے یا اس سے بھی قبل ان کی ہفت روزہ" زندگی "لاہور اور روزنامہ ـ"نوائے وقت "لاہور سے آگے پیچھے وابستگی کے دور سے ان کی تحریروں ، رپورٹوں ، خبروں اور "جمہور نامہ" کے عنوان سے چھپنے والے ان کے کالموں کی بنا پر ان سے شناسائی چلی آرہی تھی۔ پچھلے چند برس یا اس سے بھی زیادہ عرصے سے ایک قومی محاصر میں ان کے کالم چھپ رہے تھے تو قارئین کا ایک وسیع حلقہ ان سے فکری راہنمائی حاصل کر رہا تھا۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں رہے تو ان کی مجلس آرائی، ان کے حسن کردار، ان کی درویشی اور قناعت اور دوسروں کے دکھ درد کو اپنا سمجھنے اور سرگرمی سے اس میں شریک ہونے کو مدتوں یا د رکھا جائے گا۔ اللہ کریم سے التجا ہے کہ وہ انہیں جوار رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں۔آخر میں ان کے حوالے سے لکھے گئے جناب ارشاد احمد عارف کے کالم سے لیا گیا شعر ان کی نذر ہے۔

نہ دیکھا غم دوستاں شکر ہے

ہمی داغ اپنا دکھا کر چلے گئے


ای پیپر