iftikhar hussain shah columns,urdu columns,epaper
16 جنوری 2021 (11:45) 2021-01-16

وزیر اعظم کے سابق معاون خصوصی اور ترجمان ندیم افضل چن کے بے ساختہ فقرے ’’ مختاریا گل ودھ گئی اے ‘‘ کو جو پذیرائی خصوصاً پنجاب میں حاصل ہوئی ہے اس کا گمان شاید ’چن‘ کو یہ فقرہ ادا کرتے ہوئے بھی نہ تھا۔اب تو پنجاب کے مخلوط تعلیمی (Co education ) اداروں میں یہ فقرہ کثرت سے بولا جاتا ہے ۔ اب ان اداروں کے لڑکے لڑکیاں ایک دوسرے کو فون پر کچھ یوں بتاتے ہیں، ’’ آپ کو معلوم ہے لینا اور شہر یار دی گل ودھ گئی اے ‘‘۔ جس سے سننے والے کو latest position  سے بخوبی آگاہی ہو جاتی ہے۔ خیر یہ تو light mood میں اس فقرہ کی مقبولیت کا ذکر تھا ، اب اس موضوع کے سنجیدہ پہلو پر بات کرتے ہیں ۔رواں سال(2021 ) کے پہلے مہینہ یعنی جنوری کے پہلے ہفتہ میں صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریباً 35-40کلو میٹر کے فاصلے پر ہزارہ برادری کے گیارہ افراد جو ’ کان کنی‘ کے شعبہ میں مزدوری کرتے تھے کو انتہائی بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ اب تو یہ پوری دنیا کو آشکار ہے کہ پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہزارہ برادری کے لوگوں کا تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد قتل عام ایک معمول بن گیا ہے۔ یہ برادری کوئٹہ کے ایک مخصوص علاقے تک محدود ہو گئی ہے۔ اس برادری کے لوگ خاصے پڑھے لکھے اور مہذب اطوار کے حامل ہیں، لیکن ان پر زندگی کتنی مشکل کر دی گئی ہے اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔آپ خود سوچیں اس انسان کی کیا زندگی ہو گی جس انسان کو ہر وقت یہ دھڑکا لگا ہو کہ کچھ ظالم دہشت گرد ہر وقت اس تاڑ میں رہتے ہیں کہ کب اس سے اور اس کے خاندان سے زندگی چھین لی جائے ۔پھر وہی ہوا جو اُن کے ساتھ ہوتا رہتاہے۔ اس سال کے آغاز ہی میں اس برادری کے گیارہ لوگوں کو جو مزدوری کے لیے اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر ایک بیاباں میں سو رہے تھے، سوتے میں اُٹھا یا گیا اور ان کے گلے کاٹ دئیے گئے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، ایسا تو اس برادری کے ساتھ مسلسل ہوتا آ رہا ہے۔ اس برادری کے لوگ کیا سوچتے ہوںگے کہ ہم کس ریاست میں رہتے ہیں۔ کیا ہماری زندگیوں کی حفاظت اس ریاست کی ذمہ 

داری نہیں ہے۔خیر اس قتل عام کے بعد اس برادری کے لوگ اپنے پیاروں کی لاشیں لے کر ماہ جنوری کی یخ بستہ سردی میں کھلے آسمان کے نیچے بیٹھ گئے اور اپنی ریاست کے سربراہ یعنی وزیراعظم عمران خان سے کہہ دیا کہ ہم اس وقت تک اپنے پیاروں کی لاشیں نہیں دفنائیں گے جب تک وہ خود آ کر ہمارے دکھ میں شامل نہیں ہونگے اور ہمیں ہماری زندگیوں کی حفاظت کی ضمانت خود نہیں دیں گے۔ ان معصوموں کی معصومیت اُن کی ڈیمانڈ سے ہی عیاں تھی ، کونسی ضمانت اور کس کی ضمانت، اس ملک میں کسی کی سکیورٹی کی کون ضمانت دے سکتا ہے۔ یہ تو اپنے آپ کو ایک دلاسہ دینے والی بات تھی ۔ایک دو روز تو ہمارے وزیراعظم نے خاموشی سادھے رکھی اور عوام کو اس خاموشی کی سمجھ نہیں لگ رہی تھی۔ہر کوئی اپنی اپنی قیاس آرائی کر رہا تھا ، کوئی سکیورٹی وجوہات کا عذر پیش کر رہا تھا تو کوئی اور وجہ ۔سچ پوچھیں کچھ لوگ تو یہ سوچ رہے تھے کہ یہ خاندان اپنے پیاروں کی لاشیں لے کر کھلے آسمان کے نیچے مائنس درجہ حرارت میں وزیراعظم کے انتظار میں بیٹھا ہوا ہے تو ایسے میں وزیراعظم کو رات کو نیند کیسے آتی ہو گی۔کچھ کا تو خیال تھا کہ وزیراعظم عمران خان کو کوئی ٹائم دیکھے بغیر فوراً چل پڑنا چاہیے ۔

ریاست کے مظلوم لوگ اس عالم میں بیٹھے ہوں اور مدینہ کی ریاست کا دعویدار اپنے تین سو کنا ل کے محل میں خراٹے بھر رہا ہو۔ لیکن پھر وزیراعظم نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اپنا مطمع نظر پیش کیا اور کہا کہ ہم نے ہزارہ برادری کی تمام ڈیمانڈز مان لی ہیں ،اب یہ کیا ڈیمانڈ ہے کہ وزیر اعظم خود آئیں تو ہم اپنے پیاروں کو دفن کریں گے ،یہ تو ایک قسم کی بلیک میلنگ ہے۔ ان مظلوم ہزارہ برادری کے لوگوں اور اس ملک کے عوام کو شاید اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ ہمارے وزیراعظم بڑے طاقتور اعصاب کے مالک ہیں ۔ اُنہیں شاید ان کے ماضی کا کچھ علم نہیں تھا۔ یہ انسانی زندگیوں کے ختم ہونے کو ایک معمول کا واقعہ سمجھتے ہیں اور اچھے بھلے نزدیکی لوگوں کے جانے کے بعد مڑ کر نہیں دیکھتے۔خیر وزارت عظمیٰ ایک طاقتور عہدہ ہے۔ وزیراعظم جیت گئے اور مظلوم ہزارہ برادری ہار گئی ۔بغیر وزیراعظم کی آمد کے اپنے پیاروں کی میتوںکو دفنا دیا۔ کتنی بے بسی محسوس کی ہو گی اس برادری نے۔ لیکن شُکر ہے اس دنیا میں کچھ حساس دلوں کے مالک لوگ بھی بستے ہیں۔ ہزارہ برادری کے غموں اور بے بسی کو دیکھ کر ان کے دل ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گئے۔ وزیراعظم کی بے حسی اور سنگدلی ان کے دل و دماغ پر نقش ہوگئی۔ حتیٰ کہ وزیراعظم کے اپنے نزدیکی حلقہ کے لوگ بھی وزیراعظم کے اس رویہ سے مایوسی میں ڈوب گئے۔لگتا ہے ندیم افضل چن بھی اُنہی میں سے ایک تھے ۔ آپ کو یاد ہو گا اُنہی دنوں ندیم افضل چن کی ایک ٹوئٹ (tweet ) سوشل میڈیا پر ان کی چیخ بن کر سامنے آئی تھی۔ جس میں انہوں نے کہا تھا ’’اے بے یار و مدد گار معصوم مزدوروںکی لاشو … میں شرمندہ ہوں‘‘۔ ظاہر ہے ندیم افضل چن کے یہ جذبات وزیراعظم کے نوٹس میں تو ضرور آئے ہونگے جو اُن کے لیے بالکل خوشگوار نہیںہونگے۔ ویسے بھی بطور وزیراعظم کے ترجمان کے ان کا سٹائل وزیراعظم کا کوئی خاص پسندیدہ نہیں لگتا تھا۔ وزیراعظم کو تو فردوس عاشق اعوان ، ڈاکٹر شہباز گل، فیاض الحسن چوہان اور فواد چودھری جیسے ترجمان چاہئیں۔ خیر 12 جنوری کی کیبنٹ میٹنگ میں تو وزیراعظم نے واشگاف الفاظ میں تمام شرکاء کو بڑا واضح کر دیا کہ میری کیبنٹ میں ہر ایک کو ا پنی رائے کے اظہار کا موقع دیا جاتا ہے، لیکن اگر کیبنٹ میٹنگ میں کوئی فیصلہ ہو جاتا ہے جو کہ یقیناً میرا فیصلہ ہوتا ہے تو پھر اس پر کسی کو ر ائے زنی کی اجازت نہیں ہے ؛اسی طرح عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ بھی میر ا فیصلہ ہے ، اُن پر تنقید اور ان کے خلاف بیان بازی میرے فیصلوں پر اعتراضات کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو ایسی صورت حال کا آسان حل بتاتا ہوں، اگر کوئی ہمارے فیصلوں کو اپنے اصولوں یا ضمیر کے منافی سمجھتا ہے تو استعفیٰ دے کر کابینہ سے الگ ہو جائے اور پھر جہاں چاہے اپنے اختلاف کا اظہار کرتا رہے۔یہ سب کچھ سن کر ندیم افضل چن نے اپنا استعفیٰ کیبنٹ ڈویژن کو روانہ کر دیا۔تو یہ تھا پہلا قطرہ ۔۔ جو تاریخ میں اپنا نام چھوڑ جاتا ہے۔ آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔ 


ای پیپر