petitioner,faisal wavda,depression,american nationality,court
16 جنوری 2021 (11:20) 2021-01-16

اسلام آباد : وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل وائوڈا کی نااہلی کیلئے اسلام آباد میں درخواست گزار کے وکیل نے کہا ہے کہ فیصل وائوڈا دبائو کا شکار ہیں ٗ انہوں نے جھوٹا حلف نامہ د اخل کروایا اور ایک سال ہو گیا ہے اور عدالت کی 16 ویں پیشی پر بھی وہ جواب داخل نہیں کروا سکتے ہیں۔ 

ایک ٹی وی انٹرویو میں فیصل وائوڈا کی نااہلی کیلئے درخواست گزار کے وکیل جہانگیر جدون نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں کیسے کو چلتے ہوئے ایک سال ہو گیا ہے۔پہلی پیشی 29 جنوری 2020 کو تھی۔ہمارا عدالت کے سامنے موقف تھا کہ فیصل وائوڈا وفاقی وزیر ہیں۔انہوں نے اپنا جو نومیشن پیپر دیا ہے اور اس کے ساتھ جو بیان حلفی دیا ہے وہ انہوں نے آن اوتھ فراڈ کیا ہے اور جھوٹ بولا ہے کہ میں کاغذات نامزدگی کے جمع کروانے کے وقت امریکی شہری نہیں ہوں۔جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ اس وقت امریکی شہری بھی تھے۔انہوں نے اپنے نومیشن پیپر اور بیان حلفی میں ارادتا جان بوجھ کر جھوٹ بولا ہے  اور اپنی امریکی شہریت کو چھپایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ان کے نومیشن پیپر کلیئر ہوگئے تو انہوں نے 22 جون 2018 کو امریکی سفارتخانے کو اپنی امریکی شہریت ری انائونس کرنے کیلئے ایپلی کیشن دی اور وہ 25 جون 2018 کو اپروو ہو گیا۔آج ایک سال ہونے کے باوجود فیصل وائوڈا صاحب  کورٹ کے بار بار آرڈر کے باوجود جواب داخل نہیں کروا سکے۔عدالت نے کئی بار پوچھا ہے کہ آپ ہمیں یہ بتا  دیں کہ آپ نے امریکن شہریت کس تاریخ کو چھوڑی تھی؟ اور اس ایک تاریخ کا جواب انہوں نے ابھی تک نہیں  دیا۔ آج جج صاحب نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ آپ کے کلائنٹ کا کردار ٹھیک نہیں ٗ اسی لئے آپ جواب نہیں دے رہے ۔ 

جہانگیر جدون نے کہا کہ فیصل وائوڈا دبائو کا شکار ہیں۔ وہ ادھر ادھر کی درخواستیں لے آتے ہیں لیکن جو اصل کیس ہے اس پر ابھی تک انہوں نے جواب نہیں دیا۔ ان کے دو وکیل اب تک تبدیل ہو چکے ہیں جبکہ اب تیسرا وکیل عدالت میں آرہا ہے۔


ای پیپر