سی سی پی اوکی زیرقیادت لاہور پولیس بہتری کی طرف گامزن
16 جنوری 2021 2021-01-16

قدیم روایات،خوبصورت ثقافت اور زندہ دل باسیوں کا شہر لاہور ہمیشہ سے امن کا گہوارہ رہا ہے۔کروڑوں نفوس پر مشتمل اس میٹرو پولیٹن سٹی میں مستقل امن قائم رکھنے کا تمام تر کریڈٹ لاہور پولیس کو جاتا ہے۔ سال نو پر لاہور پولیس کے افق پر نمودار ہونے والے نئے کیپٹل سٹی پولیس آفیسرایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر کا شمار پنجاب پولیس کے انتہائی پروفیشنل اور کرائم فائٹر افسران میں ہوتا ہے۔ وہ لاہور سمیت ملک بھر میں کلیدی عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ لاہور میں امن و امان و سکیورٹی برقراررکھنا،جرائم پیشہ افراد خصوصاً طاقتور قبضہ مافیا کے آگے مضبوط بند باندھنا غلام محمود ڈوگر کے لئے تعیناتی کے بعد سب سے بڑا چیلنج تھا۔21 ویں کامن سے تعلق رکھنے والے ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر ماضی میں ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں اور اس شہر سے پوری طرح واقف ہیں۔ سی سی پی او لاہور کے اہم ترین عہدے پر تعیناتی کے بعد انہیں کوئی ہنی مون پیریڈ نہیں ملا اورانہیں چارج سنبھالنے کے فوراََ بعد ہی قبضہ مافیاگینگز اورسنگین جرائم میں ملوث عناصر کے قلع قمع کے لئے خود میدان میں آنا پڑا۔ پولیس آرڈر 2002ءکے تحت پیشہ وارانہ امور کی انجام دہی، پولیس افسران اور ملازمین کا مورال ایک بار پھر سے بلند کرنا،جرائم کی شرح پر کنٹرول وہ چیدہ چیدہ ٹارگٹس ہیں جن کے حصول کے لئے غلام محمود ڈوگر جانفشانی سے سرگرم عمل نظر آتے ہیں۔غلام محمود ڈوگر ٹیم ورک پر یقین رکھنے والے افسر ہیں۔ان کی ٹیم میں ڈی آئی جی آپریشنز اشفاق احمد خان اور ڈی آئی جی انوسٹی گیشن شارق جمال انتہائی محنتی اور پروفیشنل افسران ہیں۔امید ہے کہ غلام محمود ڈوگر کی سپرویژن میں یہ ٹیم بہترین کارکردگی دکھاتے ہوئے شہر کا امن برقرار رکھنے، جرائم پیشہ افراد سے پاک کرنے اورپولیس سے متعلقہ خدمات کی فراہمی میں بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرے گی۔غلام محمود ڈوگر نے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی ذاتی دلچسپی اور مربوط پیشہ وارانہ اقدامات کے ذریعے نامی گرامی اشتہاریوں،بدنام زمانہ غنڈہ عناصر اور قبضہ مافیا کو نکیل ڈالی اور روزانہ کی بنیاد پر کریک ڈاﺅن کے ذریعے ان کے ناپاک عزائم کی راہ میں مضبوط دیوار کھڑی کردی ہے۔غلام محمود ڈوگر کی تعیناتی سے اب تک قبضہ مافیا کے خلاف سینکڑوں ایف آئی آر ز درج کی جا چکی ہیں اور مجموعی طور پر لاہور میں 31 ارب روپے مالیت کی 1250 ایکڑ سے زائد اراضی واگزارکرائی گئی ہے۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھی قبضہ مافیا کے خلاف لاہور پولیس کی کارکردگی کو حالیہ دورہ لاہور کے دوران بے حد سراہا ہے۔ کرائم کنٹرول اور سپاہ کی گرومنگ کے لئے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر نے تعیناتی کے فوراََ بعد شہر کے مختلف تھانوں کے اچانک دورں کا سلسلہ شروع کیا جو تاحال جاری ہے۔غلام محمود ڈوگرکرائم کنٹرول مینجمنٹ پروفیشنل و بہترین کرائم فائٹر افسر ہونے کے ساتھ ساتھ انتہائی نفیس طبیعت اورماتحت افسران و اہلکاروں کے لئے نرم دل رکھنے والے انسان بھی ہیں۔وہ اپنی سپاہ کی فلاح و بہبود اور افسران و اہلکاروں کارکردگی بہتربنانے کیلئے انکی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے بھی مشہور ہیں۔یہی وجہ ہے کہ تعیناتی کے بعد سپاہ سے اپنے پہلے خطاب میں پولیس کمانڈر غلام محمود ڈوگر نے افسران اور جوانوں کو آگاہ کیا کہ وہ اچھی و ناقص کارکردگی کی کسوٹی میں جزا ءکو سزا سے مقدم رکھتے ہیں تاہم بار بار تنبیہ کے باوجود بھی پولیس کوڈ آف کنڈکٹ کی کسی بھی خلاف ورزی، بدعنوانی اور شہریوں سے ناروا سلوک کی کسی بھی شکایت پرانہیں سخت کاروائی اور سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔لاہورایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد آبادی کا شہر ہے جس کی آبادی اقوام متحدہ کے 122 رکن ممالک سے بھی زائد ہے۔ یہاں جرائم کی روک تھام اوران کا انسداد ایک بڑا چیلنج ہے جس کے لئے سائنسی بنیادوں اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی پولیس نظام ہی تمام مسائل کا واحد حل ہے۔ سی سی پی او غلام محمود ڈوگر کی زیر نگرانی موثر حکمت عملی،انفارمیشن ٹیکنالوجی، آپریشنل کوآرڈینیشن اور جدید میکانزم و انتظامی اصلاحات متعارف کروانے کے نتیجہ میں جرائم کی مجموعی شرح میں واضح کمی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کی ایک واضح وجہ وہ موثر اقدامات ہیں جو جرائم کنٹرول کرنے اور لاہور پولیس کو انتظامی حوالے سے بہتر بنانے کے لئے سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی زیر نگرانی جاری ہیں۔جرائم پیشہ عناصر خصوصاً قبضہ گروپوں کی روک تھام اور انسداد کے لئے اختیار کی گئی حکمت عملی کا اصل محور ایساجدید نظام وضع کرنا ہے تاکہ بدمعاشوں،رسہ گیروں،غنڈہ عناصر،خاص کر قبضہ مافیا کے پائیدار تدارک اور جرائم میں کمی کا ہدف مستقل بنیادوں پر حاصل کیا جا سکے اور لاہور کو خطے کا پر امن ترین میگا سٹی بنایا جا سکے۔ انٹیلی جنس بیسڈ انفارمیشن کی مدد سے قتل،اقدام قتل،ڈکیتی اور راہزنی کی سنگین وارداتوں میں مطلوب نامی گرامی اشتہاریوں ، قبضہ مافیا کے سرکردہ مجرمان اور انہیں پناہ دینے والوں کے خلاف شکنجہ کسا جا چکا ہے، سینکڑوں اشتہاری مجرمان اور ان کے سہولت کنندگان کی گرفتاریاں عمل میں لائی گئی ہیں جن سے بھاری تعداد میں اسلحہ برآمد کرکے مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

جدید دنیا کی پولیسنگ کو سامنے رکھ کر ڈولفن سکواڈ اور پولیس رسپانس یونٹس کی ایک موثر کرائم فائٹنگ فورس کے طور پر تنظیم نو کی گئی ہے۔ڈولفن سکواڈاورپی آر یو کی تعیناتیاں مخصوص اوقات میں زیادہ جرائم کی شرح والے علاقوں میں نئے سرے سے کی گئی ہیں۔ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ہدایات کی روشنی میں عوام دوست پالیسی کو فروغ دیتے ہوئے تمام ایس ایچ اوزروزانہ 03 تا 05 شام شہریوں کے مسائل سن کر حل کر رہے ہیں۔ماڈرن پولیسنگ کے تحت آبادیوں اور جرائم کی شرح کو بنیاد بنا کرہر تھانے کی ضروریات کا حقیقی بنیادوں پرتعین کر کے باقاعدگی سے فنڈز فراہم کئے جا رہے ہیں۔جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔نئی نسل کو منشیات جیسی لعنت سے بچانے کیلئے لاہور پولیس کا کریک ڈا¶ن بھی جاری ہے۔ لاہور پولیس کے افسران روزانہ کی بنیاد پر منشیات کے مضراثرات بارے سکولوں، کالجز اور یونیورسٹیوں کی انتظامیہ،اساتذہ، والدین اوربچوں کولیکچرز کے ذریعے آگاہی فراہم کر رہے ہیں۔منشیات کے مستقل تدارک کے لئے لاہور پولیس اور اینٹی نارکوٹکس فورس کے درمیان بہترین انفارمیشن شیئرنگ جاری ہے۔

امید کی جاسکتی ہے کہ سی سی پی او لاہور ایڈیشنل آئی جی غلام محمود ڈوگر کی پروفیشنل قیادت میں شہر میں امن و امان کے قیام اور جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کے لئے لاہور پولیس کی طرف سے کئے جانے والے ان موثر اقدامات کے مثبت نتائج برآمد ہونگے تاہم معاشرے میں امن کے قیام کے لئے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو بھی اہم کردار ادا کرنا ہو گااور دشمن عناصر کے عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے اُن پر کڑی نظر رکھنا ہو گی۔ اس حوالے سے شہریوں کا تعاون انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔


ای پیپر