”کُھلاہے جھوٹ کا بازار، آﺅ سچ بولیں!
16 جنوری 2021 2021-01-16

وزیراعظم کے معاون خصوصی وترجمان ندیم افضل چن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے،”ماڑے داکیہ زور محمدنس جانا یارونا“....اُنہوں نے ہزارہ برادری کے ساتھ ہونے والی روایتی بربریت پر وزیراعظم عمران خان کے رویے یا اُن کی اِس پالیسی سے اختلاف کیا تھا کہ وہ اِس بربریت کا شکار ہونے والوں کے جائز مطالبے کے مطابق اُن کی غمگساری کے لیے اُن کے پاس غیر مشروط جانے کے بجائے اُلٹا یہ ضِدلگابیٹھے تھے جب تک ہزارہ برادری لاشیں نہیں دفنائے گی وہ اُن کے پاس نہیں جائیں گے.... ہمارا خیال تھا وزیراعظم شاید کسی سکیورٹی ایشو کی وجہ سے نہیں جارہے، ہمارے اِس خیال پر شدید زد اُس وقت پڑی جب ہزارہ برادری کے جائز مطالبے کے مقابلے میں اُن کا یہ ناجائز بیان سامنے آیا کہ ہزارہ برادری لاشیں دفنادے وہ اُس کے فوراً بعد بلکہ اُسی روز اُن کے پاس آجائیں گے ممکن ہے اُن کے نزدیک یہی ”سکیورٹی ایشو“ ہو لاشیں اُن پر کہیں حملہ آور ہی نہ جائیں،.... وہ پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی باتیں کرتے رہے ہیں، ہمارے اور اُن کے مشترکہ پیارے مولانا طارق جمیل ہی اُن سے یہ پوچھنے کی شاید جسارت کرسکتے ہیں جس حکمران کے دل ودماغ میں اپنی ریاست کو ”ریاست مدینہ “ بنانے کا تصورتڑپ رہا ہو لاشوں سے مقابلہ اُسے زیب دیتا ہے؟، گیارہ لاشیں تھیں، ایک لاش بھی ہوتی اور لواحقین کا یہ مطالبہ ہوتا وزیراعظم اُن کی غمگساری کے لیے آئے تب بھی اُسے چلے جانا چاہیے تھا، آپ کے نقشِ قدم پر چلنے کی ہلکی سی کوشش بھی نہیں کی جاسکتی تو اپنی تقریروں میں آپ کی مثالیں بھی پیش نہ کی جائیں.... فطرت کبھی تبدیل نہیں ہوتی، آپ نے فرمایا ”اگر کوئی یہ کہے (احد) پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے میں مان لُوں گا، لیکن کوئی یہ کہے کسی انسان کی فطرت تبدیل ہوگئی ہے میں نہیں مانوں گا“ .... اللہ جب کسی کو اُس کی اوقات سے بڑھ کر نواز دیتا ہے اُس پر اللہ کی شکرگزاری صرف تسبیح پھیرتے ہوئے ہرقسم کی دنیاوی مصروفیات جاری رکھنے کا نام نہیں، ”تسبیح پھری پر دِل نہ پِھریا کی لینا تسبیح ہتھ پھڑ کے“....اللہ کسی شخص کو اُس کی اوقات سے بڑھ کر نواز دے اللہ کی شکرگزاری کا میرے نزدیک سب سے بڑا عمل یہ ہے عاجزی وانکساری اختیار کی جائے، اپنے اندر برداشت کی قوت بڑھالی جائے ، اپنی جھوٹی انا کو ماردیا جائے، اپنا ظرف اپنے منصب کے مطابق بلکہ اُس سے بھی بڑھا لیا جائے،.... پر عرض کیاناں فطرت کبھی تبدیل نہیں ہوتی، یہاں تو عادت تبدیل نہیں ہوتی فطرت تو پھر فطرت ہے، اِس امر کے باعث ہمیں اگلے اڑھائی برسوں میں بھی ”تبدیلی“ کی کوئی توقع نہیں ہے، یہ الگ بات ہم دعاگوضرور ہیں،.... جہاں تک ندیم افضل چن کا تعلق ہے موجودہ سیاسی واخلاقی اور حکومتی ماحول میں اُس کا یقیناً یہ ایک بڑا ”جُرم“ ہے وہ اپنے وزیراعظم یا اپنی پارٹی پالیسی سے اختلاف کرتے ہوئے مظلوم ہزارہ برادری کے ساتھ کھڑے ہوئے یا اُن کے مو¿قف کی تائید کی، میرے نزدیک اُن کا اِس سے بھی بڑا جرم یہ ہے وہ مختلف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر وزیراعظم یا پی ٹی آئی کے ذاتی و سیاسی مخالفین کے لیے وہ زبان استعمال نہیں کرتے جو حکمران وقت کو بے حد پسند ہے، وہ ایک شائستہ، مہذب اور اعلیٰ سیاسی تربیت رکھنے والے ایسے انسان ہیں جو اپنے بدترین دشمن کے لیے بھی بدزبانی نہیں کرتے چاہے اُن کا وہ مخالف یا دُشمن اِس کے لیے اُنہیں مجبور ہی کیوں نہ کررہا ہو،.... اُنہیں اگر یہ معلوم ہوتا وزیراعظم اُنہیں اِس توقع کے تحت اپنا معاون خصوصی یا ترجمان مقرر کررہے ہیں کہ وہ اِس عہدے پر تقرری کے بعداُن کے سیاسی وذاتی مخالفین کے خلاف بدزبانی کریں گے وہ شاید یہ منصب قبول ہی نہ کرتے، وہ میرے مشورے سے پی ٹی آئی میں اِس یقین کے ساتھ شامل ہوئے تھے کہ پی ٹی آئی سیاست یا حکومت میں اُن اخلاقیات کو فروغ دے گی جنہیں دیگر سیاسی جماعتیں یا حکومتیں مکمل طورپر نظر انداز کرتی رہی ہیں، وہ شاید اِس یقین کے تحت وزیراعظم کے ترجمان یا معاون خصوصی بنے ہوں گے وہ وزیراعظم کو صحیح مشوروں سے صحیح راستوں پر چلانے کی پوری کوشش کریں گے، وہ خود کو وزیراعظم کا دُم ہلاتا ہوا وفادار ثابت نہیں کریں گے، بلکہ اُن کے ایک ”مخلص ساتھی“ یا ٹیم ممبر کی حیثیت میں کام کریں گے۔ افسوس ہمارے حکمرانوں کو ”مخلص “ لوگوں کی نہیں، دُم ہلاتے ہوئے وفاداروں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے ،.... حکمران وقت نے حکمرانی سے قبل دورانِ سفر مجھ سے اچانک پوچھا ”وفادار اور مخلص میں کیافرق ہوتا ہے؟“....عرض کیا تھا ”اپنے کسی دُم ہلاتے ہوئے وفادار کو آپ یہ حکم دیں کہ یہ چِٹا دِن ہے تم اِسے رات کہہ دو ”وہ بلاسوچے سمجھے کہہ دے گا.... اور اگر یہی حکم آپ اپنے کسی مخلص ساتھی کو دیں وہ بِلا سوچے سمجھے آپ کے حکم کی تعمیل کرنے کے بجائے آپ کو قائل کرنے کی ہرممکن حدتک کوشش کرے گا کہ آپ درست نہیں فرمارہے“.... میری بات سُن کر وہ خاموش ہوگئے، کچھ تو¿قف کے بعد میں نے عرض کیا ”اللہ نے اگر آپ کو شرف حکمرانی بخشا آپ دُم ہلاتے ہوئے وفاداروں کے بجائے مخلص لوگوں کو اپنے قریب رکھئے گا، جوآپ کی ناراضگی کے خوف سے بالاترہوکر آپ کو سچ بتائیں “.... مفت کا یہ مشورہ اُنہیں پسند تو اُس وقت بہت آیا تھا، تین بار اُنہوں نے ” ان شاءاللہ“ کہا، اب جو حالات ہیں میں سوچتا ہوں پاکستان کی حکمرانی میں اللہ جانے کیا ایسی خرابی ہے اچھی سے اچھی سوچ رکھنے والا شخص بھی حکمران بدلنے کے فوراً بعد نہ سہی، کچھ ہی عرصے بعد ایسے بدل جاتا ہے عقل دنگ رہ جاتی ہے،.... ہمیں وہ زمانہ یاد ہے، کیا سنہری زمانہ تھا، حکمران وقت کی غیرضروری طورپر کوئی شخص تعریف یا خوشامد کرتا وہ شرما جاتے، کبھی کبھی غصے میں بھی آجاتے، اپنے مخصوص سٹائل میں اُس سے کہتے ”چُپ کرو، چُپ کرو، مجھے سب پتہ ہے“.... افسوس وزیراعظم بننے کے بعد اپنی اِس ”خصوصیت“ سے بھی وہ محروم ہوگئے، اب اُن کے اِردگرد زیادہ تر اُن کی خوشامد کرنے والے ہی دکھائی دیتے ہیں، اکثر تقریبات میں وہ سٹیج پر بیٹھے ہوتے ہیں اور اُن کی موجودگی میں اُن کے وزیر مشیر اور افسران مائیک پر آکر اپنے مخصوص” بھاگ لگے رین“ والے سٹائل میں اُن کی خوشامد کی انتہا کررہے ہوتے ہیں اور وہ مُسکرارہے ہوتے ہیں،.... بندہ پوچھے وہ آپ کے وزیر مشیر ہیں آپ کی تعریف یا خوشامد کرنا اُن بے چاروں کی مجبوری ہے، اُن کی ”نوکری“ کا مسئلہ ہے، وہ یہ نہیں کریں گے تو کیا کریں گے؟،.... اصل میں تو یہ دیکھنا چاہیے کسی کی غیرموجودگی میں کوئی اُس کے بارے میں کیا کہتا ہے؟”سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرافسانہ کیا....کہتی ہے تجھے خلقِ خدا غائبانہ کیا ....خلقِ خدا وہی کہہ رہی ہے جو ندیم افضل چن نے کہا ہے، بلکہ جو کچھ ندیم افضل چن نے ابھی تک نہیں کہا خلقِ خُداوہ بھی کہہ رہی ہے، کوئی سنے نہ سنے الگ بات ہے.... جہاں خُداکی کوئی نہ سنتا ہو، خلقِ خُدا کی کون سنے گا ؟۔ سُنا ہے وزیراعظم نے ندیم افضل چن کا استعفیٰ ابھی تک قبول نہیں کیا، اُنہوں نے تو ندیم افضل چن کو بھی ابھی تک قبول نہیں کیا،.... ایسے لوگوں کو قبول کرنا بھی نہیں چاہیے، جو حق سچ کا ساتھ دیتے ہوں، اپنے عہدے اپنے منصب کا غلط استعمال نہ کرتے ہوں، سیاست کو حقیقی معنوں میں عبادت سمجھتے ہوں، رشتوں کی اہمیت اور قدر سے آشنا ہوں، اخلاقی قدروں سے مالامال ہوں.... ایسے لوگوں کی ہماری سیاست اور حکومت میں اب گنجائش ہی کہاں ہے ؟؟؟!! 


ای پیپر