پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا
16 جنوری 2020 (21:04) 2020-01-16

اسلام آباد:سابق صدر پرویز مشرف نے خصوصی عدالت کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر تے ہوئے عدالت سے اسپیشل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کردی ۔

سابق صدر پرویز مشرف نے وکیل سلمان صفدر کی وساطت سے دائر اپیل میں موقف اختیار کیا کہ خصوصی عدالت نے غداری کیس کا ٹرائل مکمل کرنے میں آئین کی 6مرتبہ خلاف ورزی کی، مبینہ آئینی جرم کا ٹرائل غیر قانونی طریقے سے چلایا گیا اور مقدمہ کی وفاقی کابینہ سے بھی منظوری نہیں لی گئی، پراسیکیوشن غداری کا مقدمہ ثابت کرنے میں ناکام رہی۔درخواست میں وفاق اور خصوصی عدالت کو فریق بنایا گیا ہے۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا، خصوصی عدالت کی تشکیل بھی غیرآئینی تھی، غداری کیس مقدمہ کی کابینہ سے منظوری بھی نہیں لی گئی، خصوصی عدالت نے بیان ریکارڈ کرانے کا موقع نہیں دیا۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ سہولت کاروں کو ٹرائل کا حصہ بنانے کی درخواست کو نظر انداز کر کے ٹرائل مکمل کیا اور بیان ریکارڈ کرانے کا موقع بھی نہیں دیا گیا، سزا بھی غیر حاضری میں ہی سزا سنائی گئی، بینظیر بھٹو کی اپیل کو بھی سپریم کورٹ نے غیر حاضری میں پذیرائی دی۔سابق صدر پرویز مشرف مفرور نہیں بیمار ہیں، اسی لیے سپریم کورٹ میں پیش نہیں ہوسکتے۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے فوج میں 23سال ایمانداری اور سخت لگن کے ساتھ خدمات انجام دیں، سزا سے سابق صدر، سابق آرمی چیف اور پوری قوم کے لیے برا تاثر پیدا ہوا۔


ای پیپر