یہ ٹھیک ہے
16 جنوری 2019 2019-01-16

مانی شنکر آئر کبھی سفارتکار تھے۔ سیاست میں آئے تو اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچے۔ کانگریسی ہیں۔ کئی وزارتوں پر فائز رہے۔ آج کل اپوزیشن میں ہیں۔ مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ بھارتی تسلط کے متعلق ان کی رائے دیگر بھارتیوں ایسی ہی ہے ۔ کوئی خاص فرق نہیں۔ وہ بھی مقبوضہ جنت نظیر وادی کو بھارت کا ا ٹوٹ انگ سمجھتے ہیں۔ کانگریس کو بھارت پر اقتدار کا کئی دفعہ موقع ملا۔ لیکن اس نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی بجائے لیت و لعل سے کام لیا۔ جس کے نتیجہ میں اس عالمی قضیہ کی پیچیدگیوں میں اضافہ ہوا۔ لیکن کانگریس میں بی جے پی کی طرح جنونیت بھرا ہندو ازم موجود نہیں۔ گاہے کوئی کانگریس لیڈر ضمیر کی آواز پر لبیک کہہ اٹھتا ہے اور لب کھولتا ہے ۔ مانی شنکر آئر مقبوضہ کشمیر میں بربریت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ مودی جی مقبوضہ کشمیر کے دورے کی تیاریوں میں ہیں۔ شاید کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے کسی نئے منصوبہ پر عمل درآمد کیلئے۔ شاید کشمیریوں کو جھانسہ دینے کیلئے کسی ترقیاتی پیکج کا جال پھیلانے کیلئے۔ کشمیری ان مراعاتی پیکجز سے بے نیاز ہو چکے۔ اب وہ سودو زیاں کی منزلوں سے گزر چکے۔ مودی جی کے دورے کی تفصیل سامنے آئے گی تو پتہ چلے گا کہ وہ ستم کی کو ن سی نئی داستان رقم کرنے آئے۔ لیکن مانی شنکر آئر نے اپنے انٹرویو میں حالات کی تصویر کشی کر دی ہے ۔ مانی شنکر آئر بھارتی اخبار کو انٹرویو میں کہتے ہیں کہ مودی جی کے ہوتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں امن کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ مقبوضہ کشمیر میں امن کے سورج کی پہلی کرن اس دن

طلوع ہوگئی جس دن مودی کے اقتدار کا سورج غروب ہوگا۔مانی شنکر آئر کے انٹرویو سے چند روز پہلے مودی جی نے تحریک آزادی کشمیر عالمی دہشت گردی سے جوڑا تھا۔مودی کا عرصہ اقتدار اب اپنی آخری سانسیں لے رہاہے۔ جنونیت اور مسلم کشی کی بنیاد پر کھڑ ی کی گئی عمارت اب لرز رہی ہے ۔ اقتدار کے گنے چنے دن باقی ہیں۔ حالیہ ریاستی شکستوں سے بی جے پی کے ہاتھ پاؤں پھول چکے۔مودی جی نت نئے پینترے بدل رہے ہیں۔ اب وہ ہندوتوا کے بجائے جنتا کی بات کر رہے ہیں۔اگرچہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھارتی سیاست سے لاتعلق ہیں۔لیکن پھر بھی یہ پانچ سال ان پر بہت بھاری گزرے۔ان چند سالوں میں بھارت میں سکیورٹی فورسز کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ جورو ستم، جبر و تشدد کے نئے حیلے بہانے ایجاد کیے گئے۔ ان چند سالوں کشمیریوں پر کیمیکل ویپن استعمال کیے گئے۔ پیلٹ گن جو جانوروں کے خلاف بھی استعمال نہیں کی جاتی۔ اس پیلٹ گن سے آزادی مانگنے والے نہتے کشمیریوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ اس گن کے استعمال سے تین ہزار افراد نابینا ہوچکے۔ ان پانچ سالوں میں سینکڑوں کو شہید کیا جاچکا ہے ۔ 1990ء سے لیکر آج تک پانچ لاکھ کشمیری جام شہادت نوش کرچکے۔ دو سال پہلے برہان مظفر وانی کی شہادت سے پہلی دفعہ مقبوضہ کشمیر کا عام تعلیم یافتہ نوجوان تحریک آزادی میں شامل ہوا ہے ۔ نوجوان طالبات ہاتھوں میں پتھر اٹھائے یہ جنگ لڑنے کیلئے اگلے صفوں میں آ کھڑی ہوئی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر درہ بانہال سے اڑی تک اور سرینگر سے جموں تک کشمیری مردو زن کی پہلی اور آخری ترجیح آزادی کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ وہ آزادی کی قیمت جانتے ہیں۔ ان کو معلوم ہے کہ انڈونیشیا اور سوڈان کی طرح کوئی ان کی مدد کو نہیں آئے گا۔

کشمیری عوام کو بی جے پی سے کوئی امید تھی نہ آنے والی کسی اور جماعت سرکار سے۔ البتہ مودی جی کی قاتل پارٹی کو شکست ہوئی تو ان کا نظریہ جیت جائے گا۔ بربریت کا سلسلہ کچھ دیر کیلئے ہی سہی تھم جائے گا شاید قتل گاہوں میں جانیں قربان کرتے سرفروشوں کو وقتی ریلیف مل جائے۔ شایداس دوران مانی شنکر آئر کی آواز میں آواز ملانے والے کچھ اور سامنے آجائیں۔ سب کچھ ممکن ہے ۔


ای پیپر