کیا فوجی عدالتیں پاکستان کے مفاد میں ہیں؟
16 جنوری 2019 2019-01-16

پاکستان میں فوجی عدالتوں کی معیاد جنوری 2019کو ختم ہو چکی ہے ۔ سارے دانشور اور میڈیا ان کی توسیع کے بارے میں بحث مباحثہ کر رہا ہے۔ پاکستانی ریاست کے آئین میں ہر ادارے کے بارے یعنی پارلیمان ، مقننہ اور عدلیہ کے کردار کے بارے میں واضع طور پر ان کے حقوق و فرائض درج ہیں مگربدقسمتی سے پاکستان میں جمہوریت کو بار بار فوجی مار شل لاؤں نے سبوتاژ کیا اور اس وجہ سے پاکستان میں جمہوریت بالغ نہ ہوسکی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں ایسے معلاملات پر بات کرنا پڑتی ہے جس پر ایک پختہ جمہوریت میں بات کرنا کفر سمجھا جاتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے اور جاننے کے لئے ہمیں پاکستان کی تاریخ میں جانا پڑتا ہے ۔بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج بھی پاکستان میں یہ بات عملی طور پر طے نہیں ہوسکی ہے کہ سپریم کون ہے ؟پارلیمنٹ یا اور کوئی ادارہ؟

افسوس کے ساتھ یہ ماننا پڑتا ہے کہ پاکستان ایک ملک تو بن گیا مگر ایک قوم نہیں بن سکا ۔مجھے یہ کہنے میں کوئی ڈراور خوف نہیں کہ اس کی بنیادی وجہ سویلین اداروں یعنی پارلیمنٹ کی کمزوری اور فوجی اداروں کی بالادستی ہے۔ پاکستانی تاریخ میں جھانکے تو ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں پہلی دفعہ فوجی عدالتوں کا 1953میں قیام ہوا۔ جب قادیانیوں کو کافر قرار دلوانے کی تحریک زور پکڑ گئی اور حکومت نے محسوس کیا کہ وہ اب اس تحریک سے نمٹ نہیں سکتی تو اس نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ اس تحریک کو کچلنے کے لئے لاہور میں مارشل لا لگا دیا اور فوجی عدالتیں قائم کردیں۔ فوج نے فوراً امن قائم کر دیا۔ فوجی عدالت نے جماعت اسلامی کے سربراہ مولانا مودودیؒ اور اہل سنت کے رہنما مولانا عبدلستار نیازی کو پھانسی کی سزا سنائی۔ امن قائم کرنے کے بعد لاہور سے مارشل لا اٹھا لیا گیا اور حکومت نے اس تحریک کے اسباب اور وجوحات جاننے کے لے جسٹس منیر کی قیادت میں ایک کمشین قائم کیا ۔ میں اس کمیشن کی رپورٹ پر یہاں تبصرہ نہیں کرنا چاہتامگر یہ ضرور چاہتا ہوں کہ پاکستان میں ہر سیاسی کارکن اور تاریخ اور سیاست کے طاب علم کو اس کمیشن کی رپورٹ کو ضرور پڑھنی چاہے۔سارے پاکستان میں پہلی دفعہ ملٹری کورٹ جنرل محمد ایوب خان کے مارشل لا کے دور

میں قائم ہوئیں کیونکہ جنرل محمد ایوب خان کو کسی حد تک فوج کے سویلین حکومت میں مداخلت کے نقصانات کا احساس تھا اس لئے اس نے چند سالوں میں ملک سے مارشل لا اٹھا لیا خود صدر پاکستان بن گیا اور جنرل موسیٰ کو فوج کا کمانڈر ان چیف بنا دیا۔ 1969میں جب محمد ایوب خان کے اپنے نامزد فوج کے سربراہ جنرل یحیےٰ خان نے فیلڈ مارشل محمدایوب خان کا تختہ الٹ کر مارشل لا لگا دیا تو اس کے ساتھ ملک میں دوبارہ فوجی عدالتیں قائم کردیں۔ پنجاب یونیورسٹی طلبا یونین کے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف طلبا احتجاج کی پاداش میں طلبا کے خلاف ملڑی کورٹ میں مقدمہ چلا اور طلبا کو سزائیں دی گئیں جن میں جہانگیر بدر اور حافظ ادریس شامل تھے۔ ملک ٹوٹنے کے بعد جب ذولفقار علی بھٹو چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے تو ملڑی کورٹ نے پیپلز پارٹی کے منتخب ممبر پارلیمنٹ رانا مختار کو ملڑی کورٹ سے سزا دلواکر نا اہل قرار دے دیا۔

1977کو جب فوج کے سربراہ محمد ضیا الحق نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا لگا دیا تو اس کے ساتھ ملڑی کورٹ بھی قائم کر دئے۔یعنی آج کے دور کا NABقائم کردیا جس نے پیپلز پارٹی کے ممبران کو دھڑا دھڑ نا اہل قرار دینا شروع کر دیا ۔ Beyond Their Means Living(صحافیوں اور سیاسی کارکنوں کو کوڑے لگائے،قید اور پھانسیاں دیں)۔جب ضیا الحق کی مجلس شوریٰ سے کام نہ چلا تو 1985کے غیر جماعتی الیکشن کے لئے سارے نااہل سیاست دانوں کو الیکشن میں حصہ لینے کا اہل قرار دے دیا گیا۔ جنرل مشرف کے زمانے میں سیاست دانوں سے نمٹنے کے لئے NAB قائم کردیا گیا۔ یہ بات کوئی کرنے کے لئے تیار نہیں کے افغان جنگ میں پاکستان کی شمولیت کے وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی پھیلی ۔ جنرل مشرف پر فوج کے اندر سے حملے ہوئے۔جی ایچ کیو پر حملہ بھی اندر کی مدد سے ہوا۔ افغان جنگ اور افغانستا ن میں طالبان بنانے کے ساتھ پاکستان میں بھی طالبان بن گئے۔

مذہبی دہشت گرد تنظیمیں اتنی مضبوط ہو گئیں کہ سوات میں ملڑی ایکشن کرنا پڑا ۔قبائلی علاقوں میں ریاست کی رٹ ختم ہو گئی۔ پھر 2014میں پشاور میں آرمی پبلک سکول کا سانحہ ہو گیا۔جس کے بعد محسوس کیا گیا کہ عام عدالتیں بمشول(خصوصی عدالتیں ) دہشت گردی کے خلاف عدالتیں دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ سو 2014ء میں آئین میں ترمیم کر کے ملڑی کورٹ دہشت گردی سے نپٹنے کے لئے قائم کر دےئے گے۔ ان کو 2017ء کو ایک اور آئینی ترمیم کرکے دو سال کے لئے توسیع دی گئی جو جنوری 2019ء کو ختم ہو گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں جب فوجی عدالتوں کا معاملہ آیا تو سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے حق میں (گو منقسم ) فیصلہ دیا۔ میں سمجھتا ہوں کے یہ وقت ہے کہ ہم معروضی طور پر پاکستان میں قائم فوجی عدالتوں اور ان کی کارکردگی اور اس کے دہشت گردی کے خاتمہ پر کھل کر اور ایمانداری سے بحث کریں۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی خوف اور جھجھک نہیں ہے کہ میری رائے میں فوجی عدالتوں کو توسیع دینا پاکستان کے حق میں نہیں ہے۔ میری نظر میں سیاست دانوں کو ریاست پاکستا ن کے وسیع تر مفاد میں فوجی عدالتوں کو توسیع نہیں دینی چاہئے اورموجودہ عدلیہ کا نظام جیسا بھی ہے اس کو مضبوط بنانے کے حق میں ووٹ دینا چاہئے۔


ای پیپر