زندگی موت سے نہیں ڈرتی
16 جنوری 2019 2019-01-16

زندگی اور موت کے درمیان ایک لکیر کا فاصلہ ہے اور اس کی مسافت کے تعین کا فیصلہ انسانوں کی دسترس سے ماوریٰ ہے۔ موت ایک ایسی دیوار ہے جس کے دوسری طرف کا احوالِ واقعی کا اندازہ کرنا زندہ انسانوں کے بس کی بات نہیں ۔ دنیا کے سارے جھگڑے بس زندگی تک ہیں جنہیں موت فوری طور پر منقطع کر دیتی ہے۔ انسان موت سے ایسے ہی خوف زدہ ہیں جیسے چھوٹے بچے اندھیرے میں جانے سے ڈرتے ہیں۔ 1793 ء میں برطانیہ کے مشہور شاعر Words worth نے اپنی شہرہ آفاق نظم لکھی جس کا نام تھا We are seven شاعر کسی دور دراز بستی میں سفر کرتے ہوئے قبرستان کے قریب سے گزر رہا ہوتا ہے تو اُ سے کچھ قبروں کے پاس ایک چھوٹی سی بچی دکھائی دیتی ہے جو وہاں کھیل رہی ہوتی ہے۔ قبرستان کے ساتھ ہی تھوڑے فاصلے پر ایک چھوٹی سے جھونپڑی اس بچی کا گھر تھا یہ مستحکم زندگی اور موت کے درمیان ایک تجزیہ ہے۔ شاعر بچی سے پوچھتا ہے کہ وہ کتنے بہن بھائی ہیں تو وہ جواب دیتی ہے کہ we are seven یعنی ہم سات ہیں ان سات میں وہ ان تین قبروں کو بھی شمار کرتی ہے جو اس کے فوت ہو جانے والے بہن بھائیوں کی ہیں جہاں وہ کھیل رہی ہوتی ہے۔ ورڈز ورتھ آخر تک بچی کو قائل کرنے میں ناکام رہتا ہے کہ جو مر چکے ہیں ان کا حساب اور گنتی چھوڑ دو اور کہو کہ ہم چار ہی زندہ بچے ہیں مگر لڑکی اپنی بات پر قائم رہتی ہے کہ وہ سات ہی ہیں وہ اپنی سچائی میں دلیلیں دیتی ہے کہ وہ اپنے مرنے والے بہن بھائیوں کی قبر پر آ کر کھیلتی ہے، وہاں کھانا کھاتی ہے، ان کو گانے سناتی ہے، انہیں آوازیں دیتی ہے۔ لہٰذاوہ سات بہن بھائی ہیں۔ اس نظم کے مندرجات ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔

فیصل آباد میں میرے آبائی گاؤں سے مستقل ایک صدیوں پرانا قبرستان ہے بچپن میں جب اس قبرستان کے قریب سے گزرتے تھے تو بڑا ڈر لگتا تھا کہ مُردوں کی اس بستی میں کوئی اپنی قبر سے نکل کر ہمیں پکڑ نہ لے یہ اس وقت کی بات ہے جب میرے سارے بہن بھائی اور والدین بقید حیات تھے اور ہمارے کنبے میں سے کسی نے موت کا ذائقہ نہیں چکھا تھا۔ آج سے ربع صدی پہلے وقت نے کروٹ لی جب والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا گزشتہ 25 سالوں سے میرا یہ معمول ہے کہ جب بھی گاؤں جانے کا موقع ملتا ہے تو میں قبرستان ضرور جاتا ہوں۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ دنیا کی زندگی پر ایک دھوکے کا گمان مضبوط ہوتا ہے اور اپنی موت یاد رہتی ہے۔ اس عرصہ میں میرے کنبے کے آدھے لوگ ایک ایک کر کے یہاں آباد ہو چکے ہیں۔ میرے قدم اب اس راستے سے اچھی طرح آشنا ہیں اور بچپن والا خوف ہوا ہو چکا ہے بلکہ اب تو وہاں جا کر نگاہیں۔ قبرستان کے احاطے میں اُس خالی جگہ کا طواف کرتی ہیں جس نے پتہ نہیں کسی کا گھر بننا ہے۔ وارث شاہ نے کہا تھا کہ ’’ساڑھے تِن ہتھ زمین ہے ملک تیرا‘‘ یعنی تمہاری ابدی ملکیت ساڑھے تین ہاتھ زمین کا وہ ٹکڑا ہے جس میں تم نے قیامت تک آسودہ خاک رہنا ہے۔ اس موقع پر وارث شاہ کا ہی فرمان ہے کہ

بِنا حکم دے باہج نہ مرن بندے

ثابت جنہاں دیاں رزق دیاں ڈھیریاں نی

ترجمہ: جن انسانوں کے حصے کا رزق کا ڈھیر جب تک ختم نہیں ہوتا وہ نہیں مر سکتے جب تک کہ اللہ کا حکم نہ آجائے موت کی حقیقت کو پیر وارث شاہ صاحب نے ایک اور جگہ پر یوں آشکار کی کیا ہے۔

بھلا موئے تے وچھڑے کون میلے

لوک جُھو ٹھڑا من پر چاوند ای

مرنے والوں اور بچھڑجانے والوں کو کوئی نہیں ملا سکتا۔ لوگ صرف جھوٹی تسلیاں دے کر چلے جاتے ہیں۔ فیصل آباد کے علاقے کھڈیاں وڑائچاں کے جس قبرستان کی بات چل رہی ہے اس میں ایسے درجنوں لوگ ابدی نیند سو رہے ہیں جو کبھی یہ سمجھتے تھے کہ وہ وقت اور دنیا کے لیے نا گزیر ہیں ہمارے سارے قبرستان ہی ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں۔ نئے سال میں ہمارے اس قبرستان میں ایک تازہ قبر کا اضافہ ہو اہے اور یہ قبر میری بھتیجی خالدہ کی ہے یہ جب پیدا ہوئی تھی تو اس کے والدین نے اس کو گڈی کہنا شروع کیا۔ گڈی ماہ و سال کے حساب سے تو بڑی ہوتی گئی لیکن اس کا ذہن وقت کا ساتھ نہ دے سکا۔ جس کی وجہ سے وہ نارمل زندگی گزارنے کے قابل نہ رہی۔ والدین نے گڈی کے علاج کے لیے فاؤنٹین ہاؤس لاہور کے قابل ترین ماہرین نفسیات کی خدمات حاصل کیں مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ ہمارے بھائی اور بھابھی کی وفات کے بعد گڈی کے کفالت ہمارے سر پر آ گئی کیونکہ ہم ہی اس کے وارث تھے مگر اسے ہماری کسی خدمت کی ضرورت ہی نہیں تھی وہ سوائے خوراک کے دنیا کی ہر ضرورت سے بے نیاز تھی، بیماری اور تکلیف کو بتانے سے بھی قاصر تھی یہ وہ سٹیج ہے جہاں نماز، روزہ اور

احکام شریعت بھی لاگو نہیں ہوتے۔ مگر موت کے گھاٹ اترنا ذی شعور اور بے شعور سب پر لازم ہے اگر وہ شعور کی منزل پر ہوتی تو بھی اپنے وقت اور مقام سے ایک لمحہ اور ایک انچ آگے پیچھے ہونا تو پیغمبروں کی دسترس سے بھی باہر رہا ہے۔ گڈی کی زندگی اس کی موت سے بڑا حادثہ اور ہمارے لیے زیادہ بڑی آزمائش تھی۔ معروف شاعر ماوریٰ عنایت کے بقول

دل پہ گزرے ہیں حادثے اتنے

زندگی موت سے نہیں ڈرتی

ہمیں یقین ہے کہ گڈی کا حساب کتاب ہمارے جیسے انسانوں سے کہیں زیادہ آسان ہو گا جسے عمر بھر اپنی ذات کی خبر نہ تھی ایسے مجذوب اور خستہ تن انسان تو بغیر حساب کتاب جنت میں جانے کے مستحق ہیں۔

کسی قریبی عزیز کی دنیا سے رخصتی ہمیں رشتوں کی کمزوری اور دنیا کی نا پائیداری کا پتہ دیتی ہے ۔ شاعر مشرق کا فرمان ہے۔

موت کو سمجھا ہے غافل اختتام زندگی

ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی

گڈی کو اپنے ہاتھوں زیر زمین کر دینے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ ہم سب اپنے اپنے انجام سے کس قدر بے خبر اور خود فریبی کا شکار ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ابھی ہمارا نمبر بہت دور ہے۔ البتہ اپنوں کے سفر آخرت سے اتنا جھٹکا ضرور لگتا ہے کہ ہمارے دور کے لوگ ایک ایک کر کے رخصت ہوئے جا رہے ہیں۔

ہمارے دوست ابرار ندیم صاحب ریڈیو پاکستان کے سینئر پروڈیوسر ہیں ان کی حال ہی میں شائع ہونے والی پنجابی شاعری کی کتاب۔۔ اساں دں نوں مرشد جان لیا۔۔ کی نظم یاراں نال بہاراں ہمیں اپنوں کی موت کے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے دعوت فکر دیتی ہے۔

شاماں ویلے

جد کدائیں فارغ بہناں

سوچ دے قبرستاناں اندر

مینوں میرے سجن بیلی

اکثر چیتے آندے نیں

جنہاں نوں میں

جان تو ودھ کے پیارا ساں

جیہڑے میرے نام مرن تے

جین دے دعوے کر دے سی

اوہو سارے سجن بیلی

اپنے قول قراروں پھر کے

اس دنیا کی بھیڑ چے

مینوں پیچھے چھڈ کے

اپنے اپنے سکھ دی خاطر

میرے باجھوں قیمتوں پہلوں

اپنی اپنی نُکر مل کے

دھرتی دی چادر دے تھلے

کمی تان کے سوں گئے نیں

گڈی کی معصوم روح کسی کی دعاؤں کی محتاج نہیں اس کا معاملہ اس کے اور خالق ارض و سماء کے درمیان ہے جو زمینوں اور آسمانوں کا مالک ہے۔

بہتا ہے میری آنکھ سے دریا کہیں جسے

وہ دل ملا ہے ماورٰی صحرا کہیں جسے

اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے۔


ای پیپر