مدرسہ ڈسکورس ان قطر!
16 جنوری 2019 2019-01-16

یہ ہمارا پہلا دن تھا ، قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی کے کالج آف اسلامک اسٹڈیز میں پاکستان، انڈیا اور امریکا سے تعلق رکھنے والے طلباء اور فیکلٹی موجود تھی ۔ یہ ایک ہفتے کی ورکشاپ تھی اور اس کا فارمیٹ لیکچرز کی بجائے پریزنٹیشنز پر مشتمل تھا ۔پچھلے سال جولائی میں نیپال میں ہونے والی ورکشاپ میں جن طلباء کو ریسرچ ٹاپک دیئے گئے تھے اس ورکشاپ میں انہوں نے اپنے پیپر پیش کرنے تھے ۔ یہ ورکشاپ مدرسہ ڈسکورس پروگرام کے تحت منعقد کی جائے گی اور مدرسہ ڈسکور پروجیکٹ کا تفصیلی تعارف میں اپنے گزشتہ کالمز میں کروا چکا ہوں جس کی تفصیل آپ گوگل کر کے دیکھ سکتے ہیں ۔ پہلی پریزنٹیشن کلامی مسائل میں تاویل کے اصول و مناہج پر تھی ، علم الکلام کو آج کی جدید اصطلاح میں تھیالوجی کہا جاتا ہے ، اسلامی علمی روایت میں علم الکلام کا ارتقاء ایک خاص تناظر میں ہو ا تھا، اسلامی فتوحات کے نتیجے میں اسلام جب عجمی علاقوں میں پہنچا اور وہاں کے مقامی فلسفوں سے اس کا واسطہ پڑا تو اس کے نتیجے میں علم الکلام کی بنیاد پڑی۔ عباسی عہد میں یونانی علوم کے تراجم ہوئے تو علم الکلام ایک چیلنج کے طور پر مزید نکھر کر سامنے آیا ۔ یہ دور اسلامی علمی روایت اور علم الکلام کے عروج کا دور تھا ، بعد میں جب اسلامی تہذیب اور مختلف خطوں سے مسلمان حکومتوں کا خاتمہ ہوا تو ہماری علمی روایت بھی کمزور پڑ گئی ۔اٹھارویں اور انیسویں صدی میں نوآبادیاتی دور کے نتیجے میں ہم اپنی روایت سے کٹ گئے اور اسے آگے نہیں بڑھا سکے ۔ اب ہم دفاعی پوزیشن پر کھڑے ہیں اور تہذیب ، روایت اور تراث میں جو باقی بچا ہے صرف اسی کی حفاظت کو اپنی زندگی کا وظیفہ سمجھتے ہیں ۔ یہ رویہ بیک وقت صحیح بھی ہے اور غلط بھی مگر اتنی بات ضرور ہے کہ ہمیں اپنی تہذیب ، روایت اور تراث کو آگے بڑھانے کے لیے اقدامی پوزیشن اختیار کرنی پڑے گی ۔ صرف علم الکلام کو دیکھ لیں ،مغربی دنیا کی ہر نامور یونیورسٹی میں تھیالوجی کے نام سے ماسٹر سے لے کر پی ایچ ڈی تک کورس پڑھایا جا رہا ہے اور پاکستان کی کسی ایک یونیورسٹی میں بھی اس طرح کا کوئی کورس شامل نصاب نہیں ۔ پڑھانا تو دور کسی یونیورسٹی میں تھیالوجی کے نام سے کوئی ڈیپارٹمنٹ ہی موجود نہیں ۔ اور مدارس میں جو علم الکلام پڑھایا جا رہا ہے وہ وہی ہے جو یونانی فلسفے کے رد کے لیے مرتب کیا گیا تھا جبکہ دنیا آج ایک ہزار

سال آگے بڑھ چکی ہے ۔ جدید سائنس نے بہت ساری نئی حقیقتو ں کو آشکار کر دیا ہے اور آج ہمیں یونانی فلسفے نہیں بلکہ جدید سائنس اور جدید مغربی فلسفے کو مد نظر رکھ کر نیا علم الکلام ڈویلپ کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ ضرورت کہاں سے پوری ہو گی ، مدرسہ یا یونیورسٹی ؟ دونوں کی صورتحال میں آپ کے سامنے واضح کر چکا ہوں ۔

دوسری پریزنٹیشن شاہ ولی اللہ کے افکار کی روشنی میں شریعت اور تمدن کے باہمی تعلق کے حوالے سے تھی ، اس حوالے سے شاہ صاحب کی کتاب حجۃ اللہ البالغہ کی کچھ مباحث کو بنیاد بنایا گیا تھا ۔شاہ صاحب کا نقطہ نظر یہ ہے کہ شریعت اور تمدن کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور شریعت کی تنزیل و تکمیل تمدنی ضروریات کو مد نظر رکھ کرکی جاتی ہے ۔ شاہ صاحب تمدنی علوم ،عقائد و افکاراور عادات کو تکمیل شریعت کی بنیاد قرار دیتے ہیں ۔ یہ سوال کہ اگر تمدن ہی شریعت کی بنیاد ہے تو انبیاء کی بعثت کا کیا مقصد باقی بچتا ہے تو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ دین ایک ہی ہے البتہ شرائع مختلف ہیں اور شرائع کے مختلف ہونے کی وجہ ان کا وہ خاص تمدن ہے جس دور میں وہ نازل ہو رہی ہیں ۔ جب کسی تمدن میں ایسی رسوم جڑ پکڑنے لگیں جو اصل دین، انسانی فطرت اور مشترکہ انسانی قدروں کے خلاف ہوں تو ایسی صورت میں اللہ کسی نبی یا مجدد کو مبعوث فرماتے ہیں جو دین کو اپنی اصل حالت ، فطرت انسانی کے خلاف رسوم اور مشترکہ اخلاقی اقدار کو اپنی اصل حالت میں برقرار رکھتے ہیں اور اس اصلاح میں بھی اس خاص تمدن کی ضروریات کو مد نظر رکھا جاتا ہے ۔

تیسری پریزنٹیشن میں حدود و تعزیرات کی ابدیت اور بدلتے حالات میں اس کی عملی صورتوں کے حوالے سے مولانا عبید اللہ سندھی کی فکر اور ان کے رجحان کا جائزہ لیا گیا تھا۔ مولانا سندھی کے نزدیک اسلامی شریعت میں سزاؤں کا بنیادی مقصد انسانی اقدار اور مصالح اجتماعیہ کی حفاظت ہے ، یہی وجہ ہے کہ اسلامی شریعت میں خصوصا ان جرائم کی روک تھام کے حوالے سے کافی سختی کی گئی ہے جن کا تعلق فطرت انسانی، اعلیٰ اخلاق ،مشترکہ انسانی اقدار، امن عامہ اور نظم 8 مملکت سے ہے اورسلام کا بنیادی مقصد ہی امن و سلامتی ہے ۔ مولانا کے نزدیک بنیادی طور پر قرآن کی دو حیثیتیں ہیں ، پہلی یہ کہ اپنی روح کے اعتبار سے قرآن ایک ابدی، عالمگیر اور دائمی ضابطہ حیات ہے اور دوسری یہ کہ قرآن کے اولین مخاطب اہل عرب تھے لہذاقرآن نے بیان احکام اور تکمیل شریعت میں عرب تمدن کو بنیاد بنایا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف زمانوں میں قرآن کی جو تفاسیر لکھی گئی ان کی تفسیر و تشریح میں ہے ہر زمانے کے لحاظ سے ہمیں مختلف نتائج نظر آتے ہیں ۔مولانا کے نزدیک قرآن نے اپنی بات کی تفہیم کے لیے جو مثالیں پیش کی ہیں وہ بھی خاص عرب تمدن کو مد نظر رکھ کر اپنائی گئی ہیں ۔ مثلا عرب ایک خشک اور گرم ملک تھا جس میں صاف پانی اور دودھ اللہ کی بڑی نعمتیں شمار ہوتی تھیں، عرب کے صحرا میں شہد اور میٹھے پھلوں کا مل جانا بھی ایک بڑی نعمت تھی اس لیے اللہ نے قرآن میں ایسی مثالیں پیش کی ، حالانکہ زرعی زمینوں میں صاف پانی ، دودھ ، شہد اور پھلوں کا مل جانا ایک معمول کی بات تھی ۔اسی طرح جہنم کی دہشت اور خوفناکی کے بیان کے لیے بھی عرب تمدن کی مثالوں کا سہارا لیا گیا ، عرب کے صحراؤں سے ملنے والے گرم پانی سے جہنم کی شناخت کروائی گئی ۔ مولانا کے نزدیک کوئی غیر عرب داعی یا واعظ اسے اپنے تمدن اور اپنی قوم کی ذہنیت اور نفسیات کے مطابق بیان کر ے گا ۔حدودو تعزیرات کو بھی وہ اسی اصول کے ضمن میں دیکھتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ جرائم اور حدود کے حوالے سے قرآن نے اصولی نوعیت کے احکام بیان فرما دیئے ہیں مگر ان سزاؤں کا نفاذ کب ، کیسے اور کن شرائط کے ساتھ ہو گا اس کا فیصلہ ہر علاقے کے اہل علم اور ارباب اختیار کو خود کرنا ہو گا ۔ وہ کہتے ہیں اللہ نے رسول اللہ کو تعلیم کتاب کے ساتھ تعلیم حکمت کی ذمہ داری بھی سونپی ہے اور حکمت سے مراد فطرت انسانی اور اس کے طبعی تقاضوں کو سمجھنا ہے ۔ قرآن کے اصولی احکام کو سمجھتے ہوئے ذیلی قوانین بنانا اور انہیں اپنے ماحول اور زمانے کے مطابق نافذ کرنے کی سعی کرنا ہی حکمت ہے ۔ مولانا حدود کو آخری درجے کی سزائیں سمجھتے ہیں یعنی جب مجرم ہر طرح کی چھوٹی سزاؤں کے باجود باز نہ آئے تو اسی یہ انتہائی سزا دی جائے گی اور ایسی سزاؤں کا اطلاق آخری درجے کی عدالت عالیہ ہی کر ے گی ،نیز ایسی سزاؤں کے نفاذ میں مجرم کے معاشی و معاشرتی حالات اور ا س کے ذاتی احوال و اوصاف کو بھی مد نظر رکھا جائے گا ۔

یہ پہلے دن کی تین پریزنٹیشنزکے عنوانات اور اہم مباحث تھے ، ظہر کے بعد کا وقت سوالات اور گروپ ڈسکشن کے لیے ہوتا تھا۔ پورے ہفتے میں مختلف موضوعات پر تقریبا پندرہ اسٹوڈنٹس نے پریزنٹیشنز دیں ، اگلے کالم میں بقیہ پریزنٹیشنز کا خلاصہ پیش کرنے کی کوشش کروں گا ۔


ای پیپر