ریاست مدینہ اور پاکستان
16 جنوری 2019 2019-01-16

اعجاز احمد بٹر سے انکے بیٹے نے کہا ابا جی دو سوروپے دیجئے اعجاز صاحب نے ایک سو دیا تو بیٹے نے کہا ابا جی دوسو مانگا تھا سو نہیں اعجاز صاحب نے کہا بیٹا میں’ جج ‘ہوں’ ریڈر‘ نہیں اعجاز احمد چوہدری سیشن جج ریٹائرڈ ہیں یہ اے ٹی ایم سے پیسے نکالنے لگے تو بیس ہزار اے ٹی ایم سے نکلے بھی نہیں لیکن اکاؤنٹ سے بیس ہزار کاٹے گئے جج صاحب ان بیس ہزار روپوں کا بنک والوں کو حلف تک دینے کو تیار ہوئے انہوں نے یہاں تک کہا آپ سی سی ٹی وی فوٹیج نکال لیں پانچ سال لاہور ان پیسوں کا کنزیومر کورٹ میں کیس لگا پانچ سال کیس کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا بالآخر انہوں نے پانچ سال بعداپنا کیس ہی واپس لے لیا حالانکہ اپنی ملازمت کے دوران ایک بار اعجاز صاحب کنزیومر کورٹ کے جج بھی رہے ہیں ۔جوتے گانٹھنے والا موچی رمضان المبارک کے مہینے میں چار پانچ کلو میٹر پیدل چل کر آتا اور دن بھر کی محنت مشقت کے بعد گھر لوٹتا گھر اسکے بچے منتظر ہوتے کہ بابا آتے ہی انہیں دس دس روپے دیں گے گھر سے پیدل آنے کا مقصد رکشے کا کرایہ بچانا تھا تاکہ گھریلو معاملات اور دشوار نہ ہوں جس دن کم پیسے کماتااس دن بچے دس روپوں سے بھی محروم رہ جاتے ہمارے ایک سکول ٹیچر استاد اخبار پڑھنے کے لئے نیوز ایجنٹ کے دفتر کا رخ کرتے ہیں یا کسی اور جگہ جہاں اخبار آتا ہو انکے پاس گھر کے ماہانہ اخراجات کے بعد اتنے پیسے ہی نہیں بچتے کہ اخبار تک خرید کر اپنا مطالعہ کا شوق پورا کر سکیں ۔

قارئین کرام ہمارے معاشرے میں کوئی کسی بھی عہدہ پہ کیوں نہ ہو ایماندار آدمی کی گذر اوقات بڑی مشکل سے ہوتی ہے۔ہمارے معاشرے میں ایسی ایسی لاعلاج بیماریاں ہیں کہ کیا کہئے بے روزگاری بھی تو اب ایک بیماری کاروپ دھار چکی ہے پڑھے لکھے نوجوان روزگار کی لیلیاؤں کو ڈھونڈتے فاقوں کے صحرا تک آپہنچے ہیں جہاں دور تک حسرتوں کی ریت انکی آنکھوں میں پڑ رہی ہے بے حسی کی کانٹوں سے پاوں زخمی ہیں محرومیوں کے چھالے ہیں اس پر مہنگائی کا اژدہا بھوک سے نڈھال لوگوں کو نگل رہا ہے یہاں ایسا بھی ہوا ہے کہ ماؤں نے اپنے بچوں کوزہر دے کر خود کشییاں کرلیں محض اسلئے کہ ان سے اپنے بچوں کا بھوک سے تڑپنا دیکھا نہ گیا ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں دور تک اداسی ہے روح تک پیاسی ہے روزگار کا غم تو غم جاناں تک بھلا دیتا ہے حالات کا دھارا دل پر ایسا آرا چلاتا ہے کہ دل کے ٹکڑے اپنے ہی سینے میں بکھرتے جاتے ہیں جنکو چننا بھی کسی کے اختیار نہیں رہتا مہنگائی کا کالا ناگ ڈستا ہے تو اسکا زہر دھیرے دھیرے تڑپاتا ہے اور موت کے اندھے کنویں کی طرف لئے جاتا ہے۔

صاحبو نبی کریمؐ نے اتنی تھوڑی مدت میں اتنا بڑا نتیجہ خیز انقلاب پیدا کیا جس سے تمام عرب کی کایا پلٹ گئی بکھری ہوئی معاشرت کو ایک کر دیا۔عرب کے وحشی جو تہذیب و تمدن کے نام تک سے نا آشنا تھے۔ حضورؐ کے فیضانِ صحبت سے ایسے متمدن اور مہذب ہو کر اٹھے کہ

اصول جہاں بانی اور جہانگیری میں اقوام عالم کے استاد کہلائے ایک اسلامی معاشرہ پیدا ہونے کے بعد آپؐ نے مسلمانوں کو جہانبانی کے اور سیاست کے اصول سکھائے تاکہ دنیا کی تمام قوموں پر یہ بات واضح ہو جائے کہ آپ جس دین کا مل کو لے کر آئے ہیں وہ زندگی کے ہرشعبے اور دنیا کے ہر شعبے اور گوشے کے لئے کافی ہے۔

انسان کے غرور و تمکنت اور جاہ و جلال کا اصل موقع وہ ہوتا ہے جب وہ اپنے دائیں بائیں جلو میں ہزاروں لاکھوں آدمیوں کو چلتے ہوئے دیکھتا ہے جو اس کے ایک ادنیٰ سے اشارے پر اپنی جان تک قربان کر دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔خاص کر جب وہ فاتحانہ شان سے ایک لشکر جرار لے کر کسی شہر میں داخل ہوتا ہے لیکن حضور والا صفات حضر ت محمد رسولؐ اللہ عربی قریشی الہاشمی نبی الآخر الزماں رسول برحق پر لاکھوں درود و سلام ہوں آپ جب فتح مکہ کے بعد شہر میں پر امن طریقے سے داخل ہوئے تو آپؐ نے عجز و انکساری کے ساتھ اپنا سرا سقدر جھکا دیا کہ وہ کجاوے سے آکر مل گیا۔یہ پیغمبرانہ حیثیت میں آپؐ کی حکمرانی کی ایسی شان ہے جس سے اہل دنیا کو آئین جہانبانی کی تعلیم و تربیت میسر آتی ہے۔خلافت کے معنی اور مفہوم کا پتہ چلتا ہے۔

خلافت الہٰیہ یعنی یہ اسلام کی سب سے پہلی جمہوری حکومت تھی جو دس(10)لاکھ مربع میل رقبے پر مشتمل تھی۔حضور اکرمؐ نے اپنی پیغمبر انہ حیثیت میں دس برس تک اس ریاست کی سربراہی کے فرائض انجام دیئے ساری دنیا آج اس بات پر محو حیرت ہے کہ دس برس کے عرصے تک مسلمانوں اور دشمنوں میں جو معرکہ آرائیاں ہوئیں ان میں دشمنوں کے صرف ڈیڑھ سو آدمی میدان جنگ میں کام آئے۔کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ اسلام نے خلافت کے نام سے حقیقی جمہوریت کا جو نظام پیش کیا ہے وہ نہ کسی سے ماخوذ ہے نہ مماثل اور یہ کہ اس میں تمام انسانی مسائل کی حتمی ضمانت موجود ہے۔حضور اکرمؐ نے بحیثیت حکمران اپنی ذات یا رشتہ کے لئے کسی کا خون نہیں بہایا۔ بلکہ اپنے پیارے چچا حضرت سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ کو سفا کانہ انداز سے شہید کروانے والی ہندہ کو بھی مسلمان ہونے پر معاف فرما دیا۔حکومتی خزانوں کو بے دریغ خرچ کرنے کی بجائے اعتدال کا راستہ اختیار فرمایا اور صحابہ کرام کو بھی اسی کی تلقین فرمائی۔ عدل و انصاف میں کسی رشتہ تعلق اور حسب و نسب کو خاطر میں نہ لاتے بلکہ حقیقت پسندانہ فیصلہ فرماتے جس پر تا قیامت غیروں کو تنقید و تنقیص کا کوئی پہلو میسر نہ آتا۔ خلافتِ الہٰی کی سندِ علیین پر متمکن ہونے والے بے عیب و معصوم عن الخطاء حکمران حضرت محمد رسولؐ اللہ نے اپنی زندگی کو تعیش و نعم سے تعبیر نہیں فرمایا بلکہ دنیا کے مفکر ین و مد برین ورطہ حیرت میں گم ہیں کہ جہاں میں انقلاب لاکر،انسانوں کو تعلق باللہ سے مستحکم کرنے والے اور بڑے بڑے نامور حکمرانوں کے ذہنوں پر رعب و دبدبہ پانے والے آمنہ کے لال حضرت محمد مصطفےٰؐ کے گھر توتین تین دن تک فاقے رہتے،عیش و عشرت تو درکنار دو وقت کا کھانا میسر نہ آتا، کپڑوں میں اصراف تو درکنار بعض اوقات ستر ڈھانپنے تک اکتفا فرماتے۔جب خود ماڈل بن کر اپنے خدا کے وضع کئے اصول حکمرانی پر عمل کر کے کردار لازوال کو دنیا کے سامنے رکھا تو معاشرہ عدل و انصاف سے مہکنے لگا۔ عورت کی عزت محفوظ ہو گئی۔مال و دولت کو ضرورت کی حد تک محسوس کیا جانے لگا۔ قتل نام کی چیز دور دور تک نظر نہ آتی۔احترام انسانیت،معاشرتی امن،اقتصادی ترقی،معاشی خوشحالی اور اطاعت امیر کا جذبہ پروان چڑھا۔جس سے انسانیت کو معراج نصیب ہوئی ۔

صاحبو!قائد اعظم نے فرمایا تھا پاک سرزمین میں قدرت کے بیش بہا خزانے پوشیدہ ہیں لیکن پاکستان کے عام آدمی کیلئے ان خزانوں سے ایک وقت کی روٹی یا سردرد کی ایک گولی تک نہیں ہے سترسالوں میں ہمارے حکمران ان خزانوں کی تلاش کی بجائے اپنے سامان تعیش کو دوام دیتے رہے وگرنہ آج عوام آسودہ ہوتے ۔ہم نے ہمیشہ غیروں کے آگے دست طلب دراز کیا ہے کبھی خود انحصار ی کے رستے پر نہیں چلے ہم جس قدر مقروض ہوچکے ہیں لگتا جیسے ہم اب معذور ہوچکے ہیں ہمیں ان قرضوں کی مد میں اربوں ڈالر ادا کرنا پڑرہے ہیں جبکہ اصل رقم اپنی جگہ موجود ہے کسی بھی معاشرے میں بنیادی انسانی حقوق انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے مگر افسوس 21 ویں صدی میں بھی ہم بنیادی حقوق سے محروم ہیں اسلام تو یہی درس دیتا ہے کہ اسلام کے حلقہ اطاعت میں داخل حکمران اپنی رعایا کو ایثار کے لافانی جذبہ کے تحت ہر ممکن سہولیات فراہم کریں نہ کہ ان سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین لیا جائے ہسپتالوں میں علاج معالجہ کی حقیقت یہ ہے کہ ہر حکومتی پالیسی کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں وہ دوا خریدی جاتی جو سب سے کم ریٹ پر ہو اس میں اثر چاہے نہ ہو اب مجبور ہو کر مریضوں کو باہر سے دوائی خریدنی پڑتی ہے جو انکی قوت خرید سے باہر ہوتی ہے مریض ایڑھیاں رگڑتا رہ جاتا لیکن اسکے درد کا مداوا نہیں ہوتا ادویات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے رہی سہی کسر نکال دی ہے ادویات کی قیمتیں پہلے ہی کچھ کم نہ تھیں پہلے ہی کھانسی معدے الرجی اور عام استعمال کے سیرپ دگنی قیمتوں میں بدل چکے تھے اب ان میں مزید اضافہ دوآتشہ کام کرے گا ملٹی نیشنل یادوسری دواساز کمپنیاں جکومتی مرضی کے بغیر دواؤں کی قیمتیں نہیں بڑھا سکتے اس کے لئے انہیں سرکار کے جنبش ابرو کی ضرورت ہوتی ہے اور سرکار کو بیمار سے غرض نہیں لگتی امیر تو کسی معمولی علاج کے لئے بھی اڑان بھرتا ہے اور امریکہ برطانیہ کے مہنگے معالجوں سے علاج کراتا ہے عام آدمی کے لئے زندگی بہت دشوار ہو چکی ہے اسے یہاں جیسے جینے کا کوئی حق نہیں۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا آغاز مسلم لیگ ن کے پچھلے دور حکومت میں ہوا جسکو موجود حکومت دوچند کررہی ہے لگتا ہے اب ہسپتالوں میں علاج کی بجائے درباروں پہ منتیں ماننا ہونگی توہم پرستی کو فروغ دینا ہوگا ۔لوگ دیسی نسخوں کو آزمائیں گے اور ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا سوگ منائیں گے ابھی منی بجٹ کی تلوار سر پر لٹک ہی ہے۔


ای پیپر