کیا حکومت بحرانوں سے نجات کا راستہ ڈھونڈ نکالے گی؟
16 جنوری 2019 2019-01-16

حکومتی عہدیداروں کے مطابق جب وہ اقتدار میں آئے تو ملک کی معیشت ہچکولے لے رہی تھی لہٰذا اس وقت جتنے بھی مسائل در پیش ہیں ان کے ذمہ دار پچھلے حکمران ہیں؟ تسلیم کہ گزشتہ حکومت نے مصنوعی ترقی کو فروغ دیا اور قرضوں کے حصول میں دل و دماغ کو وسعت دے دی لہٰذا عوامی حلقوں میں یہ بات عام تھی کہ مہنگائی پر قابو پالیا گیا ہے اگرچہ اب بھی وہ ان کے لیے وبال جان ہے مگر اس میں اضافہ نہیں ہو گا۔ جب نئی حکومت آئی تو اچانک طوفان گرانی برپا ہو گیا!

اس بارے میں باریک بیں کہتے ہیں کہ نواز حکومت نے معاشی معاملات کی ایک حد مقرر کر لی تھی کہ بس یہیں تک صورت حال کو کنٹرول کرنا ہے یا وہ ہو سکتی ہے لہٰذا جو نہی وہ محروم اقتدار ہوتے ہیں منظر تبدیل ہو جاتا ہے جو آج عوام کو اذیت پہنچاتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ عوام مگر یہ کہتے ہیں کہ جب پی ٹی آئی کو معلوم تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے تو وہ اس کے لیے ذہنی طور سے کیوں تیار نہیں ہوئی اس نے حالات کا جائزہ بنظر عمیق کیوں نہیں لیا اب اگر بحرانی کیفیت پیدا ہوئی ہے تو اخلاقی طورسے وہی ذمہ دار کہلائے گی۔ عوام ابھی اتنی گہرائی میں جا کر نہیں سوچتے کہ معیشت کیسے خراب ہوئی یا کی گئی آئی ایم ایف سے قرضہ کتنا لیا گیا اور اس کی واپسی کن شرائط پر کیے جانے کا معاہدہ طے پایا انہیں تو اپنی ہنڈیا پکانے سے غرض ہوتی ہے جو اس کے لیے ان کی مدد و تعاون کرتا ہے وہ ہی سر آنکھوں پر بٹھا لیا جاتا ہے لہٰذا اب جب موجودہ حکومت نے ان کی زندگی کو تلخ بنا دیا ہے تو وہ اس سے بیزار ہونے لگے ہیں؟

فقط وہی نہیں اس میں شامل بعض لوگ بھی عجیب طرح کی باتیں کرتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہیں جو پر عزم ہیں ان کو یقین ہے کہ یہ وقت جلد تبدیل ہو گا معاشی صورت حال بہتر ہو گی کیونکہ عمران خان وزیراعظم نے اس پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے اور وہ فضول خرچی کے ضمن میں انتہائی حساس ہیں چند روز پہلے جب کالم نگاروں کا ایک وفد وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژنری مشیر اکرم چوہدری سے ملاقات کرنے گیا تو انہوں نے اس کی خاطر تواضع صرف کافی سے کی۔ انہوں نے بھی یہ بات بتائی کہ ہمارے سابق حکمرانوں نے معاشی منصوبہ بندی میں سنجیدگی اختیار نہیں کی وہ عارضی نوعیت کے پروگراموں کو زیر غور لاتے رہے اور دھڑا دھڑ عالمی مالیاتی اداروں سے رقوم لیتے رہے۔ نتیجتاً اس حکومت کو مشکلات کا سامنا ہے ایک طرف بھاری قسطوں کی ادائی ہے تو دوسری جانب عوام کی پریشانی مگر لوگوں کو یقین کرنا چاہیے کہ نئے سورج کو طلوع ہونے میں اب زیادہ دیر نہیں وہ ضرور روشنی بکھیرے گا کیونکہ عمران خان دیانت دار ہے وہ ذاتی طور سے بے غرض ہے اسے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے وہ کچھ کرنا ہے جس کی عام آدمی کو سمجھ نہیں۔ مقصد اس کا یہ ہے کہ وطن عزیز شفاف انداز سے آگے بڑھے ۔ ہر کام میرٹ پر ہو اور رشوت سفارش ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں میں نے اکرم چوہدری سے کہا کہ اگر حکومت بالخصوص پنجاب حکومت انتظامی امور کو بہتر بنا لیتی ہے تو آدھے سے زیادہ عوامی مسائل حل ہو سکتے ہیں ایسا کرنے کے لیے کوئی پائی پیسا خرچ نہیں ہوتا۔ جیسا کہ تھانہ اور پٹوار خانہ ہے انہیں ’’قانون‘‘ کے دائرے میں لا کر بہت سی خرابیاں دور کی جا سکتی ہیں۔ دیگر سرکاری محکموں میں جو لوٹ مار اور رشوت کا کاروبار دھڑلے سے جاری ہے اس پر آسانی سے قابو پایا جا سکتا ہے مگر نجانے پنجاب حکومت کیا سوچ رہی ہے؟

انہوں نے بتایا کہ ہماری حکومت میں اب وزیر اعلیٰ ہاؤس سے روزانہ دو سو دیگیں پک کر نہیں باہر جا رہیں ان کے کہنے کا مطلب تھا کہ وہ جہاں تک ممکن ہو سکتا ہے عوام کے پیسے کی قدر کرتے ہوئے اسے ضروری مدات میں ہی خرچ کر رہے ہیں یہاں تک کہ میری طرح بعض دوسرے لوگ اپنی تنخواہ بھی وصول نہیں کرتے اور قابل غور پہلو یہ بھی ہے کہ وہ اپنے اختیارات کا بھی ناجائز استعمال نہیں کر رہے انہوں نے عوام سے گزارش کی کہ وہ حوصلہ رکھیں بے چین نہ ہوں اچھے دن جلد آنے والے ہیں! یہ درست ہے کہ حکومت کو ابھی کچھ عرصہ چاہیے کہ وہ الجھے ہوئے مسائل کو حل کر سکے مگر وہ اس حوالے سے کیوں عوام کو اعتماد میں نہیں لے رہی کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کے ارد گرد بیٹھے سٹیٹس کو کے حامی و محافظ اس کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ہیں مقصد اس کا یہ ہو گا کہ مایوسی کو جنم دے کر عمران خان کو عوام کی نظروں میں گرا دیا جائے یوں ان کی تبدیلی کوئی اور رخ اختیار کر لے؟

کچھ کچھ ایسا لگ بھی رہا ہے کہ احتساب صحیح معنوں میں نہیں ہو رہا یعنی کسی کا ہو رہا ہے اور کسی کا نہیں ہو رہا۔۔۔ یا پھر ایک کے لیے الگ طریق کار ہے اور دوسرے کے لیے الگ؟ ہتھیائی گئی رقوم تب بھی برآمد نہیں ہو ر ہیں یہ سب کیا ہو رہا ہے۔ پی ٹی آئی کیا کرنے جا رہی ہے۔ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمران خان کو بھول بھلیاں میں ڈالا جا رہا ہے انہیں مایوس کیا جا رہا ہے تا کہ وہ روایتی طرز حکمرانی کی پٹڑی پر آجائیں اور نظام حیات ویسے کا ویسا رہے کیونکہ اس میں رہتے ہوئے ہی ملکی امور چلائے جا سکتے ہیں ۔ اس بات کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ بیورو کریسی ان سے خفا ہے وہ اپنی شاہانہ زندگی کو ترک کرنا اور اختیارات سے ہاتھ نہیں دھونا چاہتی؟ وہ سمجھتی ہے کہ سوائے اس کے کوئی دوسرا باصلاحیت و ذہین نہیں لہٰذا اسے ہی اصل حکمرانی کا حق حاصل ہونا چاہیے جبکہ یہ محض اس کی خام خیالی ہے کسی ایک برانچ جو کسی بھی محکمے کی ہو سکتی ہے اس کا ہیڈیا ڈیلنگ کلرک بھی بہتر طور سے کوئی منصوبہ بنا اور اسے پایۂ تکمیل تک پہنچا سکتا ہے مگر نہیں وہ اس کی اہمیت و افادیت سے انکاری ہے؟ بہرحال یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ عمران خان کو ناکام بنانے کی پوری کوشش ہو رہی ہے اس میں ان کے بعض ساتھیوں کا اہم کردار تصور کیا جا رہا ہے لہٰذا انہیں چاہیے کہ وہ جلد از جلد ایک کنونشن کا اہتمام کریں جس میں پارٹی کی صف اول اور دوم کی قیادتوں اور ضلعی و تحصیل سطح کے عہدیداران کو مدعو کریں اور ان سے باقاعدہ حلف لیں کہ وہ عوام کی خدمت کو اولین ترجیح دیں گے مگر وہ شاید ایسا نہ کر پائیں کیونکہ اب اگر انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ذات کے حصار سے باہر آئیں تو وہ ان کا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں جو ظاہر ہے اچھا نہیں ہو گا۔۔۔؟ خیر جو ہونا ہے ہو کر رہے گا مگر انہیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ چڑیاں بھی کھیت چگ سکتی ہیں اور پانی بھی پلوں کے نیچے سے بہہ سکتا ہے لہٰذا جو ’’ناکہ بندیاں‘‘ خواہ وہ حزب اختلاف کی طرف سے ہورہی ہیں یا پی ٹی آئی میں موجود مفاد پرست عناصر کی جانب سے کہ عمران خان اپنے پروگرام میں کامیاب نہ ہو سکے وہ آخر کار آہیں بھریں گے۔۔۔ انہیں چاہیے کہ وہ عوام کی خدمت کو یقینی بنائیں۔ کئی بار عرض کیا جا چکا ہے کہ پی ٹی آئی کے لیے یہ سنہری موقع ہے خود کو ایک سیاسی جماعت کے طو رپر منوانے کا ، وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرنے کے بجائے متحرک ہو۔ جو کوئی بھی وزیراعظم ،وزیراعلیٰ کے احکامات و ہدایات کی نفی کرتا ہے اسے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے گھر بٹھایا جائے۔ اقتدار کے مزے لوٹنے ہیں تو عوام کے احساسات کا احترام کرنا ہو گا!

حرف آخر یہ کہ عمران خان کی حکومت سے امید رکھنی چاہیے کہ وہ ضرور بحرانوں سے نجات کا راستہ ڈھونڈ نکالے گی اور یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ وہ ناکام ہوتی ہے تو مایوسی کسی آکاس بیل کی مانند پھیلتی چلی جائے گی جو پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی پھر حکمت عملیوں میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے مشکل ہو گا کہ وہ اس غیر یقنی کی فضا کو قابو میں کر سکیں لہٰذا ضروری ہے کہ ہر کوئی خلوص نیت سے آگے بڑھ کر حکومت کے ہاتھ میں ہاتھ دے اگرچہ وہ بھونچکا گئی ہے مگر پھر بھی اسے تھپکی دینے کی ضرور ت ہے!


ای پیپر