Image Source : Facebook

 کراچی ایک دفعہ پھر بڑی تباہی سے بچ گیا
16 جنوری 2019 (20:45) 2019-01-16

کراچی : محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی)نے ٹارگٹ کلنگ سمیت دیگر جرائم میں ملوث 3 مشتبہ شدت پسندوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کاونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی )نے گلشن اقبال کی قائد اعظم کالونی میں چھاپہ مار کر ایک مشتبہ ملزم نعیم خان عرف باجوڑی کو گرفتار کر کے اس کے قبضے سے اسلحہ برآمد کرلیا۔محکمہ انسداد دہشتگردی کے افسران کے مطابق زیر حراست شخص پولیس اہلکاروں کے قتل میں ملوث تھا۔سی ٹی ڈی کے مطابق ملزم نعیم خان نے گلشن کے مبینہ ٹاو¿ن میں پولیس اہلکاروں ظہیر شاہ اور مقصود مسیحی کو قتل کیا تھا۔

علا وہ ازیں بتایا گیا کہ زیر حراست ملزم کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)سے تھا جبکہ ماضی میں وہ سیکولر سیاسی جماعت عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ رہا۔سی ٹی ڈی حکام چوہدری غلام صفدر کے مطابق نعیم خان عرف باجوڑی قائد اعظم کالونی میں اے این پی کا صدر رہا اور متحدہ قومی موومنٹ سے پرتشدد جھگڑے بھی کیے جس میں متعدد افراد ہلاک اور جاں بحق ہوئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ جب کراچی میں ٹی ٹی پی اپنے عروج پر تھی تو کالعدم تنظیم نے اے این پی کو دھکمیاں دی ‘جس کے نتیجے میں سیاسی جماعت کے تمام دفاتر بند کردیئے گئے تھے۔

چوہدری غلام صفدر نے بتایا کہ بعدازاں ملزم نے اپنے دیگر اے این پی ساتھیوں کے ہمراہ کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔اس حوالےسے مزید بتایا گیا کہ اے این پی ورکرز اور پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے کے علاوہ ملزم سچل پولیس کی حدود میں 2 لوگوں کے قتل میں مطلوب تھا۔علاوہ ازیں انسداد دہشتگردی کے عدالت نے متعدد مقدمات میں نعیم باجوڑی کو مفرر قرار دیا ہے۔

دوسری جانب سی ٹی ڈی نے 2 مشتبہ شخص محمد ربانی اور نعیمت کو قائد اعظم کے مزار کے پاس گرفتار کیا۔اس حوالےسے دعوی کیا گیا کہ زیر حراست افراد امارات اسلامیہ افغانستان سے تعلق رکھتے ہیں اور انہوں نے افغانستان میں عسکری ٹریننگ حاصل کی اور شہروں میں حملے کی پلاننگ کررہے تھے۔اس دوران آئی جی پی سندھ ڈاکٹر سید کلیم امام نے نعیم عرف باجوری کی گرفتار پر متعلقہ افسران کے لیے تعریفی اسناد اور نقدی کا اعلان کیا۔


ای پیپر