خان صاحب کے حامیوں کو کیا ہوا؟
16 جنوری 2019 2019-01-16

کیا دلچسپ امر ہے کہ جناب عمران خان کے حامیوں کی آنکھیں حکومت کے چھ ماہ پورے ہونے سے بھی پہلے کھلنا شروع ہو گئی ہیں، ایک کو معیشت کی تباہ حالی پر فکر ہے ،دوسرے کو پنجاب میں افراتفری پر تشویش ہے اور کوئی مہا تما ایسا ہے جس نے حکمرانوں کی ہر شے پر ہی لعنت بھیجنی شروع کر دی ہے حالانکہ کسی بھی حکومت کی کامیابی اور ناکامی کو جانچنے کے لئے سو، سوا سو دنوں کا وقت کسی طور بھی مناسب اور خاطر خواہ نہیں۔ یہ وہ حامی ہیں جنہوں نے گذشتہ پانچ سے دس برسوں سے ملک کی دونوں مقبول سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کے خلاف ( لفظ کے استعمال پر معذرت کے ساتھ) ایک طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا تھا۔ وہ کون سی گالی تھی جو سیاسی اور حکومتی زعما کو نہیں دی جارہی تھی اورستم یہ ہے کہ پرنٹ میڈیا کے صفحات اور الیکٹرانک میڈیا کی سکرین پر دی جارہی تھی۔ یہی تھے جو قوم کے سامنے جناب عمران خان کو ایک مسیحا کی طرح پیش کر رہے تھے ، ان کے صدقے ہورہے تھے اور ان پر بھی جان نچھاور کی جا رہی تھی، تبدیلی اور نئے پاکستان کے نام پر ہر سیاسی اور اخلاقی گراوٹ کو جواز بخشا جا رہا تھا،سیاسی جماعتوں کے کچرے کو من و سلویٰ بنا کے پیش کیا جا رہا تھا ، فکری مغالطوں کو علمی اور عقلی لبادے اوڑھائے جا رہے تھے۔

کیا ستم ہے کہ مجھے حکومت کے اس حق حکمرانی کا دفاع کرنا ہے جو میری نظر میں آئینی، سیاسی اور جمہوری جائزیت نہیں رکھتی مگر میری مجبوری ہے کہ میں غیر آئینی طور پر حکومت کے قیام کا مخالف ہوں تواس کے غیر آئینی اور غیر قانونی خاتمے کی بھی حمایت نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مجھے نواز شریف صاحب سے کسی قسم کی محبت ہے اور وہ اس بنیاد پر میرا دوست ہے تو وہ اپنا دوستی کا ہاتھ واپس کھینچ لے کہ میں نواز شریف سے نہیںبلکہ اس نظرئیے سے محبت کرتا ہوں جس کے تحت وہ عوامی مینڈیٹ لے کر حکمران بنتے ہیں اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مجھے جناب عمران خان سے نفرت ہے تو وہ میری طرف دوستی کا ہاتھ بڑھائے کہ مجھے ان کی ذات سے نہیں بلکہ طرز خطاب اور طرز سیاست سے نفرت ہے کہ اس طرز وںنے میرے معاشرے اور دیس کے بدن پر بہت زخم لگائے ہیں۔ اگر اس وقت ملک کی معاشی حالت خطرے میں ہے تو خان صاحب کو اقتدار میں لانے کی خاطر دور اور نزدیک کی تمام کوڑیاں لانے والے وہ تمام سیاسی تجزیہ کار اور دانشور برابر کے ذمہ دار ہیں۔ کیا مجھے اس برے گمان کا اظہار کرنا چاہئے کہ ان میں سے کچھ خصوصی توجہ اور مقام چاہتے تھے مگر جب انہیں تین، چا ر ماہ تک وہ سب کچھ نہیں مل سکا جس کی وہ دل ہی دل میں چاہ رکھتے تھے توخواہشات اُبلنے لگی ہیں۔

آپ مجھ سے پوچھ سکتے ہیں کہ خان صاحب کے حامیوں کو اب کیا کرنا چاہئے، کیا انہیں حکمرانوں کی واضح نظر آنے والی ناہلی پر اعتراض نہیں کرنا چاہئے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام دانشور مجھ سے کہیں زیادہ عقل مند اور سیانے ہیں ورنہ یہ سب کروڑ اور ارب پتی ہرگز نہ ہوتے، انہیں مجھ سے بہتر طور پر علم ہے کہ انہوں نے کس موقعے پر کیا کرنا ہے جو انہیں فائدہ پہنچائے ، جی ہاں، جو ان کی ذات کو فائدہ پہنچائے اور یہاں میں اس بے چارے ملک کی بات ہرگز نہیں کر رہا۔ میرے برقیائی صحافتی قبیلے سے تعلق رکھنے والے یہ دانشور ہر طرح سے فائدے میں رہیں گے کہ یا تو یہ حکمرانوں کی نظر میں آجائیں گے جیسے اپنے بچوں کے دودھ تک سے محروم ہوجانے کاشکوہ کرنے والے تجزیہ کار شکووں کی ایک بوری کھولنے کے بعد وزیراعظم سے ملاقات میں مطمئن ہو چکے کہ حکومت احتساب کے سلسلے میں درست راہ پر ہے اور یہ کہ آنے والے دنوں میں مزید بہت سارے پکڑے جائیں گے ۔یہ جانتے ہیں کہ حکومت کی نظر میں نہ آنا بھی بہت فائدہ مند ہے کہ اس کے ذریعے وہ اپنی اصول پسندی اور کلمہ حق کی ادائیگی کے نعرے لگااور جھنڈے لہرا سکتے ہیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ سوشل میڈیا پر مسلم لیگ نون اور پیپلزپارٹی کے وہ تمام کارکن بھی ان کی کہی ہوئی باتوں کے کلپ اور سکرین شاٹس شیئر کر تے ہوئے داد سے نواز رہے ہیں یعنی ان کا کھیل اتنا محفوظ ہے کہ وہ ہا ربھی جائیں تو جیت ان کی ہے مگریہاں نقصان سیاست کا ہے، جمہوریت کا ہے اور مُلک کا ہے۔

بات نظرئیے اور اصول کی ہے، میری نظر میں ان دانشوروں کواس حکومت کو سوکنوں کی طرح طعنے دینے کا کوئی حق اور کوئی اختیار نہیں جسے وہ اپنے ہاتھوں ،دانتوں اور زبانوںکا پورا زور لگا کے اقتدار میں لائے ہیں لہٰذا یہاں حکمرانوں کی ناکامی ان کی پروفیشنل اور پرسنل ناکامی ہے چاہے تجزیہ کاری میں ان کی عمر چالیس برس ہے یا چالیس ماہ۔ خان صاحب کے حامی اگر ان سے سو، ڈیڑھ سو دنوں میںہی مایوس ہو گئے ہیں تو انہیں تسلیم کرلینا چاہئے کہ ان کی مردم شناسی اور تجزیہ کاری کی صلاحیتیں انتہائی ناقص ہیں۔ اس کی اجازت کون دے سکتا ہے کہ آپ نااہلوں اور ناکاروں کے ایک ٹولے کو برسر اقتدار لائیں اور جب وہ تباہی مچانے لگیں تو آپ سوری کہتے ہوئے ہاتھ اور لیکچر جھاڑیںاور بری الذمہ ہوجائیں۔ کاش میں مردم اور حالات شناسی میں اس حد تک کمزوری کا مظاہرہ کرنے والوں سے یہی کہہ سکتا کہ وہ قومی امور پر تجزیہ کاری اور رہنمائی جیسا حساس کام چھوڑیں اور کریانے کی دکان کھول لیں مگر افسوس یہ ہے کہ وہ وہاں بھی ناقص مال لے آئیں گے جو فروخت ہونا تو ایک طرف رہا خود گھر میں استعمال کئے جانے کے بھی قابل نہیں ہو گا، یہاں تو انہوں نے ملک و قوم کا نقصان کیا ہے اور وہاں وہ اپنا کر لیں گے۔

سوال یہ ہے کہ ان دانشوروںاور تجزیہ کاروں کو اب کیا کرنا چاہئے، پہلا کام تووہ کبھی نہیں کریں گے یعنی وہ اس کام کو چھوڑ دیں جس میں نالائق اور نکمے ثابت ہونے کے لئے انہیں پانچ برسوں کا انتظاربھی نہیں کرنا پڑا۔ یہ ایسا ہی ہے کہ پانچ کلو میٹر کی دوڑ میں ایتھلیٹ کہلوانے کے شوقین دو سومیٹر میں ہی بے دم ہو کے گر پڑے۔ میرے خیال میں تواب انہیں اپنی لائی اوربنائی ہوئی حکومت کو سہارا دینا چاہئے، اسے مشورے دینے چاہئیں،جس طرح یہ زرداری اور نواز ادوارمیں بقراط بنتے تھے اب بھی انہیں بتانا چاہئے کہ موجودہ حکومت ایک منٹ میں ایک کروڑ تین لاکھ روپوں سے زائد کا قرض لیتی جا رہی ہے اس کا راستہ کیسے روکا جائے کہ انہی کی لکھی ہوئی تقریروں پر جناب عمران خان گذشتہ دور میں لئے گئے قرضوں پر تنقید کیا کرتے تھے ۔ کیا یہ امر دلچسپ اور حیران کن نہیں کہ موجودہ حکومت کی اب تک کی قرض لینے کی رفتار سابق حکومت سے پچاس گنا سے بھی زیادہ تیز ہے یعنی سابق حکومت کی طرف سے بجلی کے کارخانوں، سی پیک کے آغاز، اورنج لائن اور موٹرویز کے قیام سمیت ڈھیر سارے منصوبوں کے باوجود ایک منٹ میں قرض کا مجموعی حجم دو لاکھ روپوں سے بھی کم رہا۔ ہمارے ان دانشوروں اور تجزیہ کاروں کو قلم اور زبان کے استعمال سے پہلے ٹھنڈے پانی کے کم از کم دو، دو گلاس پینے چاہئیں اور اس کے بعد حکمرانوں پر تنقید کرنے سے پہلے اپنی تجزیہ کاری اور دانشوری کا ماتم کرنا چاہےے،جب وہ اس سے فارغ ہوجائیں تو اپنے ان حکومتی دوستوں سے ملتے ہوئے، جن کے ساتھ اب بھی ان کی شامیں اور راتیں گزرتی ہیں ،ہاتھ جوڑ دینے چاہئیں ۔ انہیں نجی طور پربتانا چاہئے کہ حکومتی کارکردگی صرف قرضے لینا ، مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان لانا نہیں ہے ۔ یہ سب جس بہادری کے ساتھ سابق حکمرانوں کے گریبان اور ٹانگیں کھینچتے رہے اس سے آدھی ہمت کر کے اپنے لائے ہووں کے ساتھ کھڑے رہیں۔ یہ تاثر نہیں ملنا چاہئے کہ ڈوبتے ہوئے جہاز سے سب سے پہلے چوہے چھلانگیں لگاتے ہیں اور یہ کہ صحافی اور تجزیہ کار بھاگنے والوں میں سب سے آگے ہوتے ہیں۔


ای پیپر