Nai Baat Magazine Report
16 فروری 2021 (18:40) 2021-02-16

علی احمد ڈھلوں:

جسٹس (ر) دراب پٹیل روادار، دھیمے، نڈر، رحم دل، عاجز، پُروقار، ٹھوس طبیعت کے مالک تھے۔ ان کے اندر دو برائیاں خوف اور نفرت نہ تھی۔ ان میں کوئی تصنع نہ تھا، اپنی سادگی کی وجہ سے وہ قابل محبت انسان تھے۔ وہ معاشرے کو کچھ نہ کچھ دینے کے لیے ہی پیدا ہوئے تھے۔ ساری زندگی اپنے پاس آنے والے انسانوں کو اپنی دانشور علمی قوت کا فیض، مالی وسائل اور سب سے بڑھ کر اپنا قیمتی وقت دینے سے گریز نہیں کرتے تھے۔ وہ تنہائی پسند تھے۔ شوخ مزاج نہیں تھے۔ اس کے باوجود ان کے معتقدوں کی بڑی تعداد تھی۔ ان کے ساتھی، دوست اور قانون کے پیشہ سے تعلق رکھنے والا طبقہ بھی ان کو بڑی عزت واحترام دیتا تھا۔ ان کی فراخ دلی، رحم دلی اور خوش اخلاقی ہر ایک کو ان کا گرویدہ بنا دیتی تھی۔ وہ پاکستان میں شہری حقوق، اظہار رائے کی آزادی، جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے مخلص علمبردار اور سب سے بڑے چیمپئن تھے۔ انہوں نے اپنے عہد منصفی میں جو فیصلے سنائے ان میں وہ شہری حقوق اور اظہاررائے کی آزادی کا جس طرح خیال رکھتے تھے اس وجہ سے بطورِ دیانت دار جج ان کی شخصیت اُبھر کر سامنے آئی۔ سندھ حکومت نے 1974ء میں دو اخباروں ’’مہران اور جسارت‘‘ کو قابل اعتراض مواد شائع کرنے پر بند کردیا تھا۔ اس کیس میں علی حسین بمقابلہ حکومت سندھ کے فریقوں کو بخوبی علم تھا کہ شائع ہونیوالا مواد واقعی قابل گرفت ہے اور اخبار والے جج (دراب پٹیل) سے کسی ہمدردی کی توقع نہیں کررہے تھے لیکن جج نے حکومت سندھ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔ دراب پٹیل جب سپریم کورٹ کے جج تھے تو یوسف علی خان کے توہین عدالت کیس میں انہوں نے قانون میں کشادگی پیدا کی اور معتدل بنایا۔ ایک جج سے جو توقعات کی جاسکتی تھیں وہ تمام خوبیاں ان میں موجود تھیں۔ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو اور ان کے ساتھیوں کے خلاف اپیل کی سماعت کرنے والے 7ججوں کے پینل میں وہ شامل تھے۔ پینل نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا مگر دراب پٹیل ان تین ججوں میں شامل تھے جن کو اکثریت کے فیصلے سے اختلاف تھا۔ دراب پٹیل اور ایک اور جج نے اپنے فیصلہ میں اختلافی نوٹ لکھا تھا جس میں بھٹو اور میاں محمد عباس کو بری کرنے کے لیے کہا گیاتھا۔ یہ فیصلہ ان لوگوں کے لیے کوئی اچنبھے والی بات نہ تھی جو انہیں جانتے تھے۔ اس فیصلے سے انہیں جمہوری حلقوں اور شہری حقوق کے طرف داروں میںپہلے سے زیادہ عزت واحترام دیا جانے لگا۔ جب جنرل ضیاء الحق نے پہلا پی سی او (PCO) نافذ کیا تو پی سی او کے تحت تمام ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں نے پھر سے حلف اُٹھانا تھا تاکہ ضیاء الحق کی حکومت کو قانونی بنا کر مارشل لاء کی مدت میں توسیع کی جاسکے۔ جسٹس(ر) فخرالدین جی ابراہیم راوی ہیں کہ 24مارچ 1981ء کو سپریم کورٹ میں جج صاحبان اکٹھے ہوئے اور ٹی روم میں چائے پی رہے تھے کہ پی سی او کا ایسا کاغذ جس میں عدالت کی آزادی کو سلب کرلیا تھا اور مارشل لاء کو طول دیا، اسے رد کردیا جائے یا نہیں۔ میں سپریم کورٹ کا سب سے جونیئر جج تھا، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس انوارالحق نے سب سے پہلے مجھ جیسے جونیئر جج سے پوچھا، میں نے جواب میں کہا میں تو گھر جارہا ہوں جبکہ بہت سے جج راضی ہو گئے۔ اگلے دن ایوان صدر میں تقریب حلف برداری تھی۔ میں پریشان ہو گیا کہ کیا میں اکیلا ہی ہوں۔ میں دراب پٹیل کے بہت قریب تھا چنانچہ میں اُٹھ کر سامنے بیٹھے ہوئے دراب کے پاس چلا گیا اور آہستہ سے گجراتی میں ان سے پوچھا کہ کیا میں اکیلا ہی ہوں۔ انہوں نے بغیروقفہ اور بلاجھجک جواب دیا کہ میں پی سی او کے تحت کس طرح حلف اُٹھا سکتا ہوں؟ حالانکہ وہ آدمی جانتا تھا کہ وہ سب سے سینئر جج ہیں اور اسی سال چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد اگلے چیف جسٹس وہی ہیں، وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اگر وہ حلف نہیں اُٹھاتا تو اس کے بعد وہ کبھی بھی قانون کی پریکٹس نہیں کرسکے گا۔ اس کے باوجود وہ اپنے اصولوں پر قائم تھا۔ اس کے چہرے پر بے خوفی، جرأت اور ہمت واضح تھی اور یہی چیز زندگی بھر اس کی ساتھی رہی۔ میں بعد کے دنوں میں اسے مذاق کیا کرتا تھا۔ چیف جسٹس انوارالحق نے بھی پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کردیا تھا۔ جسٹس (ر) صبیح الدین احمد دراب پٹیل کے بارے میں لکھتے ہیں، وہ ایک پارسا، نیک سیرت جج تھا، جس کا تعلق ایک بہت بڑے پارسی کاروباری خاندان سے تھا۔ اس نے بمبئی (اب ممبئی) اور لندن کے امراء طبقہ کے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کی تھی لیکن وہ پاکستان کا قومی ہیرو بن کر دُنیا سے رُخصت ہوا۔ میں ان کی پیشہ ورانہ خوبیوں سے واقف تھا مگر جب ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو ان کی خوبیوں کا اندازہ کرنا میرے لیے مشکل تھا۔ عدالتی کمرے میں وہ بہت ہی نرم مزاج ہوتے تھے۔ کوئی فریق یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے یا اس کی بات نہیں سنی گئی۔ عدالت میں جب کسی کی بے تُکی دلیل یا کسی ایسے وکیل جس نے صحیح ڈھنگ سے عدالتی لباس نہ پہنا ہوتا تو وہ اپنے سر کو کھجانے لگتے تھے اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ وہ غصّے میں ہیں۔ کوئی ایسا شاذونادر ہی جج ہوتا ہے جسے ریٹائرمنٹ کے بعد اتنی شہرت ملی ہو۔ عدالتی ملازمت کے دوران بھی تمام طبقے ان کی عزت کرتے تھے لیکن جب وہ انسانی حقوق کے لیے لڑے تو بین الاقوامی شخصیت بن گئے۔ عاصمہ جہانگیر کا ان کے بارے میں بیان ہے کہ خورشید قصوری، اعتزاز احسن، منیرملک، نثارعثمانی اور میں انسانی حقوق کی تنظیم بنانے کے لیے ذہنی ہم آہنگی والے لوگ تلاش کررہے تھے۔ منیر ملک کراچی میں رہتا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ وہ ہمیں دراب پٹیل سے ملوائے تاکہ وہ ہماری مدد کریں۔ دو دن بعد منیرملک کا مجھے فون آیا کہ دراب صاحب آپ کے آئیڈیا کو سننے کے لیے تیار ہیں، میں نے اسی شام دراب صاحب کو فون کیا تو انہوں نے اگلے لمحہ ہی سیدھا پوائنٹ پر بات شروع کردی اور اپنی رضامندی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بعد میں ہمیں بتایا کہ میں اپنی فیملی کے ساتھ لندن اپنے رشتہ د اروں کے پاس منتقل ہونے کی تیاری کررہا تھا۔ پاکستان میں میرا رہنے کا کوئی ارادہ نہ تھا۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) میں شامل ہونے کے بعد ان کو ایک اور فیملی مل گئی اور پھر وہ ہمارے ساتھ ہی رہے۔ وہ جذباتی سرگرمیوںکو پسند نہیں کرتے تھے۔ بعض اوقات ہمارا ان سے اختلاف ہو جاتا تھا لیکن وہ اپنے اصولوں پر کھڑا رہتے تھے، آخرکار ہم ان کی بات مان جاتے تھے کیونکہ وہ بے لوث آدمی تھے۔ ہم ان کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہتے اور خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ وہ میٹنگوں میں خود کو ایزی محسوس کرتے تھے مگر سڑکوں پر مارچ میں ذرا ہچکچاتے تھے۔ ایک دفعہ وہ لاہور میں تھے اور ہم بھٹہ مزدوروں پر میٹنگ کررہے تھے۔ میٹنگ کے دوران بھٹہ مزدوروں کے ایک بڑے جلوس میں وہ بھی ہمارے ساتھ چل پڑے۔ جب لوگوں نے دراب پٹیل کو جلوس کی قیادت کرتے دیکھا تو جلوس جذباتی ہو گیا اور جوش میں آکر نعرے لگانے لگے کہ ’’وڈاجج‘‘ آگیا جو ہمارے ساتھ ہے۔ پھر سٹیج پر انہوں نے انگریزی میں تقریر کی جس کا ترجمہ میں کررہی تھی مجمع پُرجوش تھا، انہوں نے کہا ’’ہم آپ کے آئینی حقوق کے لیے لڑائی لڑرہے ہیں‘‘۔

جسٹس (ر) دراب پٹیل 13ستمبر 1924ء کو کوئٹہ میں ایک بڑے کاروباری پارسی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد فرامروز پٹیل ایک برف خانہ کے مالک اور کوئٹہ الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے زیادہ تر حصص کے مالک تھے۔ بچپن میں ہی ان کی والدہ کا انتقال ہو گیا تھا۔ ان کے والد نے ان کی پھوپھی گل بائی مودی اور ان کے شوہر سردار مودی کے پاس سورت (گجرات کاٹھیاواڑ) بھیج دیا۔ ان کی ابتدائی تعلیم وہیں ہوئی۔ ثانوی تعلیم کے بعد دراب پٹیل بمبئی میں اپنی دوسری پھوپھی تہمینہ کارنجیا کے پاس چلے گئے۔ سینٹ ژیویئرز ہائی سکول بمبئی سے میٹرک کرنے کے بعد ولسن کالج سے ایم اے کیا۔ گورنمنٹ لاء کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔ بمبئی میں دراب پٹیل کو مختلف مذاہب اور عقائد کے ملے جلے معاشرے میں رہنے کا موقع ملا جو فراخ دل اور رواداری کا تھا۔ ایسے معاشرے نے ان کی شخصیت کا رُخ متعین کیا۔ قیام پاکستان سے قبل 1947ء میں وہ معاشیات اور قانون کی اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن چلے گئے۔ انہوں نے لندن سکول آف اکنامکس سے معاشیات میں بیچلرز کی ڈگری لی۔ وہاں پر وہ اپنے پروفیسر ہیرالڈ لاسکی کے لیکچرز سے بے حد متاثر ہوئے۔ یہیں سے ان کی فراخ دل، روادار، سیکولر اور لبرل انسان بننے کی بنیادیں مستحکم ہوئیں۔ پھر دراب پٹیل نے لنکنز اِن میں داخلہ لیا۔ 1954ء میں انہیں بار کے لیے دعوت دی گئی۔ لندن سے واپس آکر انہوں نے کراچی میں وکالت شروع کردی۔ ان کا پہلا کیس ان کے دوستوں میں سے اردشیر کائوس جی کی شپنگ کمپنی کے بارے میں تھا۔ اس کیس کی وجہ سے انہیں شپنگ قوانین پر سند مانا جانے لگا۔ یہ ان کے مستقبل کی شہرت کا پہلا سنگ میل تھا۔ 1964ء میں انہیں ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کا سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ تین سال بعد انہیں مغربی پاکستان ہائی کورٹ کا جج مقرر کردیاگیا۔ اس وقت کے پاکستان کے چیف جسٹس وحید الدین احمد نے دراب پٹیل کو مشورہ دیا کہ وہ سیاست دانوں، منتخب سیاسی لیڈروں سے میل جول کم رکھیں تاکہ بطور جج ان کی خودمختاری اور غیرجانبداری پر شک نہ کیا جاسکے۔ اس مشورے پر انہوں نے سنجیدگی سے عمل کیا اور جب تک منصفی کے عہدے پر رہے حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیداروں سے ملنے سے گریز کرتے رہے۔ 1970ء میں جب یحییٰ خان نے ون یونٹ توڑا تو دراب پٹیل کو سندھ، بلوچستان ہائی کورٹ کا جج بنا دیا گیا۔ 1974ء میں بلوچستان یونیورسٹی قائم ہوئی تو انہیں اس کا پہلا وائس چانسلر بھی مقرر کیا گیا۔ 7جنوری 1976ء کو انہیں سپریم کورٹ آف پاکستان کا جج بنا دیا گیا۔ 1981ء میں عدلیہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے پاکستان میں قانون اور دستور میں اصلاحات، عدلیہ کی غیرجانبداری اور آزادی صحافت کی ضرورت کے بارے میں بات کرنا اور لکھنا شروع کردیا۔ 1983ء میں انہوں نے ہانگ کانگ میں ’’ایشین لائرز فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس‘‘ کے ایک مشاورتی اجلاس میں شرکت کی۔ یہاں سے ان کی زندگی نے ایک نیا رُخ بدلا اور وہ انسانی حقوق کے لیے تن من دھن سے کام کرنے لگے اور اپنی پوری توجہ اس پر مرکوز کردی اور پھر ایشین ہیومن رائٹس کمیشن کے بانی ممبر بن گئے۔ 1986ء میں عاصمہ جہانگیر سے مل کر ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) قائم کیا۔ 1987ء اور 1992ء میں دومرتبہ وہ HRCP کے چیئرپرسن منتخب ہوئے۔ تیسری مرتبہ انہیں جنرل باڈی نے منشور میں تبدیلی کر کے چیئرپرسن بننے کی آفر کی مگر انہوں نے اسے رد کردیا مگر جنرل باڈی نے انہیں تاحیات اعزازی چیئرپرسن کے عہدے کے لیے منتخب کرلیا۔ وہ دوسرے پاکستانی تھے جنہیں 1987ء میں انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹ کا ممبر منتخب کیا گیا اور تاحیات وہ ان کے ممبر رہے۔ 1989ء میں انہیں پاکستان کی جانب سے ہیگ میں ہونے والے انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے الیکشن کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ دو مرتبہ انہوں نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی ستم رسیدہ طبقات اور مظلوم افراد کے لیے کام کرتے گزاری۔ پاکستانیوں کی زندگی کو بہتر بنانے کی ان کی کوشش انسانی بہبود تک جاپہنچی۔ آپ مختلف رفاعی اداروں کو دل کھول کر عطیات دیتے۔ وہ ہومی اینڈ جمشید نسروانجی ٹرسٹ کے چیئرپرسن بھی تھے۔ انسانی حقوق کی خدمات کو سراہتے ہوئے حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں ستارہ قائداعظم پیش کیا گیا۔ 1996ء میں دراب پٹیل کے خون کے سرطان کے مرض کی تشخیص ہوئی۔ 15مارچ 1997ء کو وہ اس دُنیا سے رُخصت ہو گئے۔ انہوں نے زندگی  بھر شادی نہیں کی اور اپنے پسماندگان میں ایک بھائی اور ایک بہن کو سوگوار چھوڑا۔ ان کی بہن کی شادی ان کے دیرینہ دوست ڈاکٹر کھمباٹا سے ہو گئی تھی۔انہوں نے ایک کتاب بھی لکھی تھی جس کا نام ’’Constituional Denop‘‘ تھا، جس کے بارے میں ان کا اصرار تھا کہ جسٹس صبیح الدین احمد اور مخدوم علی خان کی نظرثانی کے بعد شائع ہو گی۔ وہ کٹرمذہبی نہ تھے مگر اندر سے انسانیت کے حوالے سے کسی فطری قوت سے جڑے ہوئے تھے۔

٭…٭…٭


ای پیپر