Naibaat Mag Riyasat e Madina
16 فروری 2021 (18:27) 2021-02-16

عبد الرشید تبسم :

قریش کے انسانیت سوز مظالم کے باوجود مسلمانوں کا ایمان پہاڑوں سے کہیں زیادہ سخت ہو چکا تھا۔ وہ توحید ورسالتؐ پر یقین اپنی زندگی کا سرمایۂ حیات سمجھنے لگے تھے۔ کفار کے تمام حربے، تمام چال بازیاں اور تمام مکاریاں منہدم ہو گئیں۔ نبوت کے دسویں سال محترم مہینوں میں خزرج کے چھ آدمی حج کے ارادہ سے نکلے۔ ان کے ہمراہ قبیلہ بنونجار کے دو آدمی بھی تھے جو رشتے میں عبدالمطلب کے ماموں کہلاتے تھے۔ مکہ مکرمہ جاتے ہوئے عقبہ کے مقام پر ان کی ملاقات نبی پاکﷺ سے ہوئی۔ آپﷺ نے انہیں دعوتِ دین سے سرفراز کیا تو انہوں نے اسلام قبول کر کے حج کیا اور پھر مدینہ منورہ جا کر اسلام کی حقیقت بیان کی۔ یہودی جس نبی پاکﷺ کی آمد کو مان رہے تھے وہ متحیر رہ گئے۔ اگلے ہی سال اُوس اور خزرج کے 12آدمیوں نے عقبہ کے مقام پر حضور پاکﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا کہ شرک، چوری، قتل اور بہتان تراشی نہیں کریں گے، اسے بیعتِ عقبۂ اولیٰ کا نام دیا گیا۔ نبوت کا یہ گیارہواں سال تھا۔ آپﷺ نے اہل مدینہ کی تعلیم وتربیت کے لیے حضرت مصعب بن عمیرؓ کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ لوگوں میں اسلام سیکھنے، قرآن پڑھنے اور اشاعتِ اسلام کا جوش وولولہ جاں گزیں ہو گیا۔ ایک ہی سال میں دینِ متیں کو ماننے والوں کی بہت بڑی تعداد مدینہ منورہ میں پرچم اسلام لہرانے لگی۔ اوس وخزرج سے تعلق رکھنے والے احباب بت پرستی چھوڑ کر ایک خدا کے سامنے جھکنے والے بن گئے۔ یہودیوں کی حالت غیر ہو گئی۔ اسلام نے متصادم گروپوں کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ یہودی اوس وخزرج میں پھوٹ ڈالنے کے ماہر تھے۔ اسلام کی وجہ سے یہودیوں کی سازشوں پر پانی پڑ گیا۔ مدینہ منورہ میں سوید بن الصامت مقبول شخصیت کے حامل تھے۔ بہادری اور سخن گوئی کی وجہ سے قوم نے انہیں ’’کامل‘‘ کا خطاب دے رکھا تھا۔ جب وہ مکہ مکرمہ میں حضورﷺ سے ملے تو ابتدائی گفتگو میں ہی حضور پاکﷺ سے متاثر ہو کر ایمان لے آئے۔ جب وہ واپس مدینہ منورہ پہنچے تو انہیں قتل کردیا گیا تو یک زباں ہو کر بولے کہ سوید مسلماں ہو کر شہید ہوئے ہیں۔ یہودیوں نے قبیلہ اُوس وخزرج میں غلط فہمیاں پیدا کر کے انہیں دُشمنی پر اُبھارا۔ یہودیوں کی سرگرمیاں جاری تھیں کہ مدینہ سے انس بن رافع اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مکہ تشریف لائے۔ ان میں ایاس بن معاذ بھی شامل تھے۔ رشکِ جہانِ بہار، کائنات کے حسنِ جاوداں، عظمتِ کمال وجمالﷺ سے ملاقات کے بعد ایاس بن معاذؓ دولتِ اسلام سے فیض یاب ہوئے۔

612ء میں ایک قافلہ حج کے لیے مکہ مکرمہ پہنچا جس میں دو خواتین سمیت 72لوگ تھے۔ اس قافلہ نے عقبہ کے مقام پر آفتابِ رسالتﷺ سے ملاقات کی۔ حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب بھی ان کے ہمراہ تھے۔ قافلے کے اراکین نے دعوتِ اسلام قبول کی اور رسول پاکﷺ کی معاونت اور حمایت کا اعلان کیا۔ مدینہ منورہ کے نمائندہ شخص براء بن عازبؓ نے بیعت عقبہ اولیٰ کے بعد اسلام قبول کیا تھا لیکن وہ نماز بیت المقدس کے بجائے کعبہ کی طرف رُخ کر کے ادا کرتے تھے۔ اہلِ اسلام اُس وقت تک بیت المقدس کو قبلہ تصور کرتے تھے۔ اس ملاقات پر آپﷺ نے براء بن عازبؓ کو مسجد اقصیٰ کو قبلہ اختیار کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی۔ اس بڑے قافلے کے قبول اسلام کے بعد خلقِ برہانِ عظیمﷺ کی یہ گفتگو آج بھی دل نشیں ہے:

’’جہاں تمہارا خان گرے گا وہاں میرا لہو بھی بہے گا۔ میں تم میں سے ہوں اور تم میرے ہم قوم ہو۔ تم جس سے جنگ کرو گے میں تمہارے ساتھ شریک ہو کر اس سے جنگ کروں گا اور جس کے ساتھ تمہاری صلح ہو گی میں بھی اس کا حلیف بن جائوں گا‘‘۔

نبی پاکﷺ کی گفتگو سن کر لوگوں نے حضور پاکﷺ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کا اعلان کیا۔اسے ’’بیعت عقبہ ثانی‘‘ کا نام دیا گیا۔ حضور پاکﷺ کی فہم وفراست اور دانائی کی وجہ سے یہ بیعت رات کے وقت عقبہ کی گھاٹی میں ہوئی۔ کسی طرح یہ بات قریش مکہ تک پہنچ گئی۔ اس سے پہلے کہ قریش مکہ اور اہل یثرب کے اس گروپ کے ساتھ تصادم ہو، خیموں میں مقیم مسلمانوں نے واپسی کا اعادہ کیا۔

بیعت عقبہ اولیٰ اور بیعت عقبہ ثانی نے قریشِ مکہ کی نیندیں حرام کردیں۔ ان حالات میں نبی پاکﷺ نے مسلمانوں کو مکہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے لیے کہا اور یہ ہدایت کی کہ وہ ایک، ایک، دو، دو تعداد میں مدینہ منورہ جائیں تاکہ قریشِ مکہ کو اس بات کا علم نہ ہوسکے۔ قریشِ مکہ کی عیاریاں اور مکاریاں جاری رہیں اور انہوں نے مدینہ منورہ کی طرف سفر کرنے والے مسلمانوں کو پکڑ پکڑ کر ظلم کا نشانہ بنایا۔ ہجرت کرنے والوں کے گھر، سازوسامان اور بقیہ افراد پر بہت تشدد کیا۔ مسلمان آہستہ آہستہ مدینہ کوچ کرتے رہے لیکن جو قریش مکہ کے قابو چڑھ گئے انہیں ظلم وجبر اور صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جب حضرت حمزہؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت زبیر بن عوامؓ مدینہ منورہ پہنچ گئے تو مکہ مکرمہ میں حبیب رب کریمﷺ شیرخدا حضرت علیؓ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ رہ گئے۔ قریش مکہ کے تمام سردار ہجرتِ مدینہ کی وجہ سے پشیمان رہے۔ سب نے کسی نہ کسی طور اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا لیکن:

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

(مولاناظفرعلی خان)    

قریش مکہ کو اس بات کا پورا یقین تھا کہ حضورﷺ ہجرت فرمائیں گے اس لیے انہوں نے آپﷺ کو روکنے اور (نعوذباللہ) قتل کرنے کی منصوبہ بندی کرلی۔ بڑے سے بڑے اور جابر سے جابر جوانوں کی خدمات حاصل کیں۔ احمق لوگ ہر روز ایک بیٹھک کرتے اور اپنی کامیابی پر شیطانی قہقہے بلند کرتے۔ آپﷺ نے حضرت علیؓ کو اپنے بستر پر رات بسر کرنے اور لوگوں کی امانتیں واپس کرنے کی ذمہ داری سونپی۔

سبحان اللہ! پتھر برسانے والوں کو دعائیں، زخم دینے والوں کو دعائیں اور جان کے دُشمنوں کی امانت اُن کے سپرد کرنے کی فکر، یہی انداز تو اُمت مسلمہ کو اپناکر سنتِ رسولﷺ ادا کرنی چاہیے۔ حضور پاکﷺ رات کے پچھلے پہر حضرت ابوبکر صدیقؓ کے گھر تشریف لے گئے۔ صدیقِ اکبرؓ نے اُونٹنیاں تیار کرلی تھیں اور عبداللہ بن اریقط کا تعاون بھی حاصل کرلیا تھا۔ حضورﷺ نے اُونٹنیوں کے بغیر ہی جنوب کا رُخ اختیار کرنے اور غارِثور میں کچھ دن قیام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔

غارِثور میں قیام

غارِثور یمن کے راستہ میں جنوب کی جانب 3میل کے فاصلے پر ہے۔ حضور پاکﷺ کی منصوبہ بندی، دشمن سے بچائو کی تدابیر اور اپنا تحفظ کرنے کا انداز قابلِ تقلید ہے۔ صبح ہوتے ہی حضرت علیؓ بیدار ہوئے اور دشمن تاجدار کائناتﷺ کو بستر پر نہ دیکھ کر پریشان ہو گئے۔ پھر کیا تھا، مضطرب قریش مکہ ادھر ادھر، دائیں بائیں آپﷺ کو تلاش کرنے لگے۔ ابوجہل، حضرت ابوبکرصدیقؓ کے گھر جاپہنچا۔ اس وقت ان کی بیٹی اسماءؓ گھر پر موجود تھیں۔ ابوجہل نے معصوم بچی کو زوردار تھپڑ رسید کر کے اپنا غصہ نکالا۔ پیروں کے نشانات کا ایک ماہر سراقہ، محمدعربیﷺ اور عاشقِ رسولﷺ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پائوں کے نشانات دیکھتے دیکھتے ہلکان ہو گیا حتیٰ کہ وہ کوہِ ثور پر چڑھنے لگا اور کہا کہ فلاں پتھر تک تو پائوں کے نشان پہنچتے ہیں لیکن آگے غائب ہیں ہوسکتا ہے کہ کہیں غار میں پناہ گزیں نہ ہوں۔ حضورﷺ اور یارِغار ابوبکرصدیقؓ عبادت میں مشغول تھے۔ ان کی سماعتوں تک دشمنوں کی آوازیں، ڈنڈوں کی کھڑکھڑاہٹ اور غصے میں خوفناک آوازیں پہنچ رہی تھیں۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ خوفزدہ تھے، حضورﷺ نے فرمایا: ’’گھبرائو نہیں، خدا ہمارے ساتھ ہے‘‘۔

سبھی حملہ آور غار کی طرف بڑھ رہے تھے، غار پر مکڑی کا جالا، دو جنگلی کبوتروں کا گھونسلا اور ایک درخت دیکھ کر مایوس ہوئے۔ غار کے گردونواح میں دشمن نے تاجدارِ کائناتﷺ کو ڈھونڈنے کی بھرپور سعی کی لیکن جسے اللہ رکھے اُسے کون چکھے۔ قریش مکہ نے حضورﷺ کو (نعوذباللہ) گرفتار کرنے کے لیے 100اُونٹ انعام کا اعلان بھی کیا لیکن سب منصوبے خاک میں مل گئے۔ پیارے نبیﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ تین دن تک غارِثور میں رہے۔ اُدھر مکہ مکرمہ میں نبی پاکﷺ کے مکان کا گھیرائو کرنے والے ابوجہل بن ہشام، حکم بن عاص، عقبہ بن ابی معیط، نضر بن حارث، اُمیہ بن خلف، زمعہ بن الاسود، طعیمہ بن عدی، ابولہب، اُبی، نبیہ بن الحجاج اور اس کا بھائی منبہ بن الحجاج اپنی ناکامی پر سر پیٹ رہے تھے۔ حسنِ کائناتﷺ تین دن غارِثور میں عبادت وریاضت میں مشغول رہے۔ کفار کو غار کے چاروں طرف قدموں کے نشانات تک دکھائی نہ دیے۔ بہت سے محدثین، مفسرین اور سیرت نگاروں نے حضورﷺ کے غارِثور میں قیام کو خاص معجزہ قرار دیا کیونکہ جب ختمی ٔ مرتبتﷺ غارِثور میں داخل ہونے لگے تو اس غار کے منہ پر مکڑی کا جالا، جنگلی کبوتروں کا گھونسلا اور درخت موجود نہ تھا۔ جونہی محبوبِ خداﷺ اور صدیقِ اکبرؓ غار میں داخل ہوئے، ایک مکڑی نے چشم زدن میں جالا بُن دیا، دوکبوتر فضائے بسیط سے غارِثور کے منہ پر گھونسلا بنانے میں کامیاب ہوئے، اللہ کے حکم سے انہوں نے انڈے دیے اور کچھ ہی وقت میں ایک پودے نے سرنکالا اور شاخوں نے غار کا منہ ڈھانپ دیا۔ قدرت کا یہ کرشمہ معجزاتِ نبویﷺ میں اہمیت کا حامل ہے۔ قریشِ مکہ کی ہمت نے جواب دے دیا، وہ تلاشِ نبیﷺ میں ناکام ہو کر بیٹھ گئے اور دوسری جانب عبداللہ بن اریقط تین اُونٹنیاں لے کر پہنچ گیا۔ سرورِ دوجہاںﷺ ایک اُونٹنی پر سوار ہوئے۔ دوسری پر یارِغار ابوبکر صدیقؓ بیٹھ گئے اور تیسری عبداللہ بن اریقط کے کام آئی۔ حضرت اسماء بنتِ ابوبکرؓ کھانا لائیں، کھانے کو کجاوے سے باندھنے کے لیے اپنی کمر سے نطاق اُتار کر اُس کے دو حصے کیے، ایک حصہ حضور اکرمﷺ کو پیش کیا اور دوسرا اپنی کمر کے گرد باندھ لیا۔ اسی ایثار پر انہیں ’’ذات النطاقین‘‘ کا لقب عطا کیاگیا۔

سراقہ کی خوش فہمی

سراقہ بن مالک بن جُعشم نامی ایک شخص نے انعام کے لالچ میں آپﷺ کا پیچھا کرنے کے لیے سردھڑ کی بازی لگائی۔ سراقہ غار کے قریب ترین پہنچ کر بھی اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوا۔ اس کا گھوڑا بھی اس کے کام نہ آیا۔ اس کا مقصد 100اُونٹ حاصل کرنا تھا، وہ سبک رفتاری کے ساتھ حضور پاکﷺ کے تعاقب میں آرہا تھا۔ راستے میں اُس کا گھوڑا دو بار ٹھوکر کھاچکا تھا، سراقہ نے اسے اہمیت نہ دی اور اسے حسنِ اتفاق جانا لیکن جب سراقہ نے آپﷺ اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اپنے سامنے پایا تو گھوڑے کو ایڑ لگا کر تیز کرنا چاہا لیکن قدرت کو اپنے محبوبﷺ کی حفاظت مقصود تھی، گھوڑا ایک بار پھر زمین پر آگرا، کچھ کتابوں میں گھوڑے کے زمین میں دھنس جانے کا ذکر ہے۔ سراقہ کو یقین ہوگیا کہ وہ آنحضرتﷺ تک نہیں پہنچ سکتا۔ سراقہ کا سامانِ حرب اسی کے لیے باعث تکلیف اور باعث اذیت ثابت ہوا۔ سراقہ نے تاجدارِ کائناتﷺ سے بات کرنے کی اجازت چاہی اور درخواست کی ’’میں سراقہ بن جُعشم ہوں، مجھے مستقبل کے لیے امان لکھ کر دیجئے‘‘۔ رحمت اللعالمینﷺ کی اجازت سے حضرت ابوبکر صدیقؓ نے امان لکھ کر اس کے حوالے کی اور سراقہ آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔

جھلستی سرزمین اور رحمت اللعالمینﷺ کو فرشتے رشک سے دیکھ رہے تھے۔ تمام رکاوٹیں عبور کر کے سائبانِ رحمت میں صاحبِ معجزات نبی پاکﷺ یثرب کی جانب محوِ سفر تھے۔ صحرا کی تپتی دھوپ میں، سورج کی کرنیں اوڑھے، محبتوں کا یہ مختصر قافلہ دعوتِ حق کے لیے چل رہا تھا۔ مدینہ منورہ قریب آرہا تھا، فاصلے سمٹ رہے تھے، دن سورج تپتی دُھوپ میں ریگستان کی شعلہ زن ریت پر گزرتا اور رات کو آسمان کے ستارے انہیں سلامی دیتے اور صحرا کی ریت ٹھنڈی ہو جاتی۔

قباء میں قیام

دوشنبہ 8ربیع الاول 14نبوت یعنی ایک ہجری بمطابق 23ستمبر 622ء، حضور پاکﷺ نے مدینہ منورہ سے 6میل کے فاصلے پر قباء کی بستی میں قدم مبارک رکھے۔ آپﷺ نے یہاں چار دن قیام فرمایا اور اسلام کی پہلی مسجد کی بنیاد رکھی۔ جمعہ کے بعد حضور اکرمﷺ بڑے تزک واحتشام کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لائے۔ آپﷺ کی آمد پر مسلمان تو مسلمان، مشرکین اور یہودی بھی مسرت کا اظہار کررہے تھے۔ سبھی بے تابی اور اضطرابی کیفیت کا اظہار کررہے تھے۔ انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے والی تھیں۔ جس ماہ تاب رسالتﷺ کو آنکھیں ترس رہی تھیں وہ طلوع ہو کر آنکھوں کو ٹھنڈک عطا کرنے کے لیے قریب آرہے تھے۔ 14دن تک چودھویں کے چاند کو دیکھنے والوں کی خوشیاں بالکل عید کے چاند دیکھنے کے جذبے کے قریب تھیں۔ چھوٹے بڑے سب ہی مسرت وشادمانی میں گم تھے۔ مدینہ طیبہ (پاک سرزمین) نے آپﷺ کو چومنا شروع کردیا۔ زمیں، قدم بوسی کررہی تھی۔

یثرب سے مدینتہ الرسولﷺ

آپﷺ کی آمد سے اس شہر کا نام یثرب کے بجائے ’’مدینتہ الرسول، شہررسول اور مدینہ پڑگیا۔ حضورﷺ شمعِ محفل تھے اور صحابہ کرامؓ پروانوں کی مانند چاروں طرف گھوم رہے تھے۔ ہر اِک کی خواہش تھی کہ حضورﷺ ان کے مہمان بنیں۔ ہر خاندان چاہتا تھا کہ شرفِ میزبانی ان کے ہاتھ ہو۔ ہر طرف ایک ہی آواز اللہ اکبر، رسولِ خداﷺ تشریف لے آئے ہیں۔ بچے، بوڑھے، جوان اپنے اپنے مقام پر پُرمسرت تھے۔ نبی پاکﷺ کے والہانہ استقبال سے غیرمسلم بہت مرعوب ہوئے۔ انہوں نے اس سے پہلے اس انداز کا منفرد استقبال نہیں دیکھا تھا۔ ہر قبیلہ خواہش مند تھا کہ وہ حضورﷺ کا میزبان بنے۔ مدینہ منورہ کے درودیوار آمدِ رسولﷺ سے پُررونق تھے۔ حضورﷺ کی اُونٹنی کے چلنے کا اپنا ہی انداز تھا۔ اُونٹنی چلتے چلتے ایک جگہ بیٹھ گئی۔ یہ جگہ خاندانِ نجار کے دو یتیم بچوں سہل اور سہیل کی تھی۔ عفرا کے بیٹے معاذؓ نے کہا کہ یہ دونوں یتیم میری پرورش میں ہیں، اس لیے آپﷺ یہاں مسجد تعمیر کروا سکتے ہیں۔ آپﷺ نے مروجہ حساب کے مطابق زمین کی قیمت ادا کی اور پھر اُسی مقام پر مسجد کی تعمیر ہوئی۔ آپﷺ، ابوایوب انصاریؓ کے سات ماہ مہمان رہے۔ اسی مدت میں مسجد تیار ہو گئی۔ آپﷺ کے چہرہ اقدس پر سکون واطمینان ٹھہرا ہوا تھا۔ اُمہات المومنینؓ اور صاحبزادیاںؓ بھی مدینہ منورہ پہنچ گئیں اور آہستہ آہستہ مدینہ منورہ کی رونق کو چارچاند لگ گئے۔ مسجد کے قریب ہی اُمہات المومنینؓ کی رہائش گاہیں بنائی گئیں۔ قبیلہ نجار میں حضورﷺ کا قیام اہل علاقہ کے لیے باعثِ سعادت وعزت تھا۔

مدینہ منورہ کو اسلامی ریاست میں ڈھالنے کے لیے حضور پاکﷺ کی حکمت عملی کام آئی۔ آپﷺ نے مواخات کے ذریعے مہاجرین اور انصار کے درمیان محبت کا ایسا رشتہ قائم کردیا کہ وہ ایک دوسرے کو بھائی بھائی سمجھنے لگے، سچ مچ بھائی۔ انہوں نے ایک جان دوقالب ہونے کا مظاہرہ کردکھایا۔ زبانی عہدوپیما کے ساتھ ساتھ ایک تحریری معاہدہ بھی طے فرمایا۔ آنحضرتﷺ کے سامنے اُس وقت مدینہ کے کئی گروہ موجود تھے۔ اہلِ طیبہ نے جس جوش وجذبے سے حسنِ محمدﷺ پر عقیدت کے پھول نچھاور کیے وہ اُن کے من میں چھپی محبت کا اظہار تھا۔ مکہ مکرمہ سے آئے ہوئے مسلمان تو نقوشِ پائے مصطفیﷺ پر بوسہ زن ہونے پر فخر محسوس کررہے تھے۔ حضورﷺ آئے تو اہلِ یثرب کے بے کیف دلوں کو سکون کی دولت سے مالامال کردیا۔ فضائے مدینہ طیبہ نعرۂ تکبیر سے گونج رہی تھی۔ آپﷺ نے ریاست مدینہ میں امن قائم کرنے کے لیے ہر ایک کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ مسلمان مہاجرین کے علاوہ نبی پاکﷺ کے سامنے انصار، اُوس وخزرج کے مشرک اور بت پرست، یہود کے چار قبیلے تھے۔ مدینہ کے اندر بنی قینقاع، فدک میں بنوقریظہ، شہر سے ملحقہ آبادی میں بنونضیر اور شمال میں آباد یہود، مہاجرین اور انصار میں دین اسلام کی وجہ سے مضبوط اتحاد تھا۔

مدینہ منورہ میں انقلاب

آپﷺ کی مدینہ منورہ آمد سے پہلے بہت سے قبائل آپس میں دست وگریباں رہتے۔ سبحان اللہ سرورِ کونینﷺ نے قدم پہنچتے ہی ان لوگوں کی سوچ کا اندازہ لگایا۔ آپﷺ فطرت انسانی کے تقاضوں کی روشنی میں ان کے متعلق اکثر متفکر رہتے کہ کہیں ان کی پرانی دُشمنی پھر نہ اُبھر آئے۔ مشرکین اُوس وخزرج ماضی کی باہم لڑائیوں سے تھک چکے تھے۔ اب اُوس وخزرج کے مشرکین کی حیثیت یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان دیوار کی سی تھی۔ یہودیوں نے ہمیشہ منافقت، بغض اور مطلب پرستی کا مظاہرہ کیا۔ مدینہ کے یہودیوں نے جس گرم جوشی سے آپﷺ کا استقبال کیا تھا اس کے پش منظر میں اُن کا مفاد وابستہ تھا۔ یہودیوں نے فلسطین سے اپنے تعلقات مخدوش کررکھے تھے، ان کے دل میں یہ منصوبہ تھا کہ آپﷺ کو اپنا حلیف بنا کر عرب کے ان عیسائیوں سے بدلہ لیں گے جنہوں نے ان کی جماعت کو فلسطین سے باہر نکال دیا تھا۔

آپﷺ کی فہم وفراست سابقہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام سے منفرد اور ممتاز تھی۔ آپﷺ نے اسے بڑی دوراندیشی کے ساتھ اس انداز سے مرتب فرمایا کہ اس کی عملی صورت دیکھ کر کوئی صاحب عقل وہوش اسے خراج تحسین پیش کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آپﷺ فہم وفراست اور بصیرت کی دولت سے مالامال تھے۔ آپﷺ منتشر قبائل کو ایک ایسی وحدت میں لانے کی جستجو کرتے تھے کہ تمام قبائل ایک پلیٹ فارم جمع ہو کر امن، سلامتی اور اخوت کے رشتے میں مستحکم ہو جائیں۔ ایک ایسا استحکام جو کبھی عربوں کے وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔

میثاقِ مدینہ اور مواخازت

مسلمانوں کے عظیم سپہ سالار نبی پاکﷺ کی کوششوں سے منتشر قبائل ایک پرچم تلے جمع ہو گئے، مسجد نبویؐ کی تعمیر میں آنحضرتﷺ نے خود بھی اینٹ پتھر اُٹھا کر یک جہتی، مساوات اور برابری کا درس دیا۔ تین گز بلند دیواروں کی تعمیر میں صحابہ کرامؓ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ سلام کرنے، کھانا کھلانے، قرابت داروں سے اچھا برتائو کرنے، ایک اللہ کی حمد وثناء کرنے کی وجہ سے لوگوں کے قلوب نورِ ایمان سے روشن ہو گئے۔ مدینہ میں موجود مہاجرین اور انصار نے اخوت ومروت کا وہ فقیدالمثال مظاہرہ پیش کیا جو آج بھی عالم اسلام کے لیے روشن مثال ہے۔ مواخات اور میثاقِ مدینہ نے ’’اسلامی ریاستِ مدینہ‘‘ کا راستہ ہموار کیا۔ وہ عظیم ہستیاں جو اس اسلامی تاریخ کے سنہری اصولوں اور عملی اقدامات کی زینت بنیں اُن میں حضرت محمد رسول اللہﷺ، حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمرفاروقؓ، حضرت عثمان ذوالنورینؓ، حضرت علی المرتضیٰؓ، حضرت جعفرؓ بن ابی طالب، حضرت ابوعبیدہؓ بن جراح، حضرت خارجہ بن زیدؓ، حضرت عتبان بن مالکؓ، حضرت اوس بن ثابتؓ، حضرت معاذؓ بن جبل اور حضرت سعدؓ بن معاذ شامل ہیں۔

٭…٭…٭

٭اللہ پاک کے نزدیک بہترین انسان وہ ہے جس کا وجود دوسروں کے لیے نفع بخش ہو۔ پاکستان کو ریاستِ مدینہ میں تبدیل کرنے کے لیے ہمیں ایک دوسرے کے لیے سودمند اور نفع بخش ہونا چاہیے۔

٭محبت ہو جانے میں ارادے کا عمل دخل نہیں ہوتا۔ محبت تو ایک کشف ہے، ایک ایسا الہام جو دلوں پر نازل ہوتا ہے۔

٭نیکی اُس خوشبو کی مانند ہے جو نیت کے پھل سے پھوٹتی ہے، جتنی نیت صاف ہو گی اُتنا ہی پھول خوشبودار ہوگا۔

٭انسان کی خواہش کا پیالہ کبھی نہیں بھرتا کیونکہ اس میں ناشکری کے سوراخ ہوتے ہیں جو اس کو بھرنے نہیں دیتے۔

٭زندگی کو اچھے لوگوں کی تلاش میں نہ گزار دو بلکہ خود اچھے بن جائو شاید کسی کی تلاش پوری ہو جائے۔

وہی محفوظ رکھے گا، مرے گھر کو بلائوں سے

جو بارش میں شجر سے گھونسلا گرنے نہیں دیتا

٭…٭…٭


ای پیپر