Asif Inayat columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
16 فروری 2021 (11:41) 2021-02-16

جب امریکی صدر نے اپنے آخری ایام میں اپنی پسند کے جج کی تقرری کی، یہ تیسری تقرری تھی جو ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے لیے کی۔ امریکی انتخابات کے نتائج کو ٹرمپ کا حریص کھلاڑی اور باغی مزاج نہیں مان رہا تھا مجھے امریکہ میں امریکی شہری بن چکے دوستوں اور ایک روحانی شخصیت محترمہ تسنیم  مالک بہن نے کہا کہ ٹرمپ آسانی سے شکست تسلیم نہیں کرے گا۔ ان کا خیال تھا کہ امریکی عدلیہ میں اس کی بڑی حمایت ہے۔ میں نے جواب دیا کہ امریکی عدلیہ کسی قیمت پر ایک شخص کی دوستی کی خاطر اپنے نظام کو قربان نہیں کرے گی۔ میں کوئی نجومی تو نہیں ہوں مگر سمجھتا تھا کہ امریکہ کو گوربا چوف کا قرض واپس کرنے کے لیے ٹرمپ دیا گیا تھا  اور یہ بھی کہا تھا کہ شاید یہ ان صدور میں ہو جو مدت پوری نہ کر سکے اور مواخذہ کا سامنا کرے گامدت تو امریکی اداروں نے اپنے حصار میں امریکہ اور نظام کو بچانے کے لیے مکمل کرا دی مگر مواخذے کے تیر کے سامنے ٹرمپ خود آ گیا۔ 

بات عدلیہ سے چلی تھی جب قاضی القضاۃ ثاقب نثار تھے ۔جی او آر میں سب کی افطاری شاید یہ چیف صاحب کے ہاں ہو گی میرے دوست نے افطاری کے بعد اپنی جگت سنائی کہ کھانے کے بعد چائے وغیرہ کا دور تھا اوپن ایئر میں تھے۔ تو ملازمین میں سے کسی کے سانپ کی آواز لگانے پر سانپ سانپ کی دہائی مچ گئی تو میں نے (یعنی اس نے) پھبتی کسی کہ یہاں سانپ کا کیا کام؟ واقعی ہماری اشرافیہ اعلیٰ بیورو کریسی جی او آراور اقتدار کے ایوانوں میں سانپوں کی ضرورت نہیں ہوا کرتی۔ سرکاری غلامی کے دنوں میں اپنے ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ کے استفسار پر کہ آپ کو کہاں تعینات کیا جائے۔ میں نے درخواست کی کہ مسجد کے دروازے پر ڈیوٹی لگا دی جائے وہ حیران ہوئے کہ وہاں کیا کریں گے میں نے کہا کہ مجھے منافقین کو مسجد کے اندر جانے سے منع کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے انہوں نے قہقہہ لگایا اور کہنے لگے کہ آپ تو مسجد خالی کرادیں گے۔ 

دراصل منافقین اب طوائفوں کی طرح اپنی اداؤں کو زیادہ دیر چھپا نہیں سکتے۔ یہ ہماری معاشرت کی اکثریت کی صفت بن چکی ہے، ایک دفعہ ہم چند کولیگز دفتر میں بیٹھے ہوئے تھے۔  8/10لوگوں میں 3/4ہاتھ اپنے آپ کو ہاتھ دیکھ کر تقدیر بتانے کے ماہر ہونے کے دعویدار تھے۔حالانکہ وہ بھی ہاتھ دکھانے یا ہاتھ کرنے کے ماہر تھے بہرحال میں نے ہمارے ایک کولیگ پرنسپل اپریزر کا ہاتھ پکڑ لیا اور مشاہدہ شروع کر دیا وہ استفسار کرنے لگے کہ آپ بھی دیکھ لیتے ہیں ؟ میں نے اثبات میں جواب دیا اور ان کے ہاتھ کا مشاہدہ کیا کوئی دو منٹ بعد میں نے کہا کمال ہے آپ کا ہاتھ لاجواب ہے آپ خوش قسمت ترین انسان ہیں۔ لائق بھی ہیں اور متقی بھی ہیں دولت کا شمار مشکل ہے۔ تنخواہ حج و عمرہ کے لئے اور باقی جائیداد کے ترکہ کے لئے رکھتے ہیں۔ہر دنیاوی نعمت اور دینی شناخت بھی ہے۔ دوسرے سب متوجہ ہو گئے اور سننا شروع ہو گئے کہ محترم کی کیا ایسی قسمت ہے جو میں نے لاجواب اور بے مثال کہہ دیا۔ انہوں نے پوچھا کچھ تو بتائیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ اتنے خوش نصیب ہیں کہ اگر یہ ہاتھ سعودیہ میں ہوتا تو آپ کے ساتھ نہ ہوتا۔ قہقہہ بلند ہوا بہرحال وہ صاحب نوکری کے آخری ایک سال میں حج کر کے واپسی پرتائب ہوئے اور پھر نوکری چھوڑ دی جو سال بعد ویسے ہی برابر ہونے والی تھی۔ہمارے ہاں کرپشن کے خلاف راگ الاپنے والے اگر سعودیہ میں ہوتے تو ہاتھ ساتھ نہ رہتے اور چائنہ میں 

ہوتے سر تن پہ نہ رہتے۔ جناب بھٹو صاحب کے خلاف 1977کی تحریک سیاسی سے تحریک نفاذ نظام مصطفی میں بدل گئی ۔ مقصد تو جناب بھٹو صاحب کا اقتدار ختم کرنا تھا۔ گرفتاریاں کافی ہو چکی تھیں۔ میرے ابا جی اور اعظم بھائی شہیدؒ کے اعلیٰ حکام اور جیل حکام سے اچھے مراسم رہے ہیں۔اندرون شہر سے ایک خاتون جس کا بیٹا پہلے بھی کئی بارمختلف جرائم میں جیل جا چکا تھا۔ اب کی بار تحریک نفاذ نظام مصطفی کے لیے قومی اتحاد کے حامی بلکہ مسلم لیگ کا حامی ہونے کی وجہ سے جیل میں تھا وہ عورت ہمارے گھر آئی اور میری اماں جی کے پاس بیٹھی تھیں میرے ابا 

جی سے اپنے بیٹے کے لئے جیل حکام سے کچھ سفارش کرا کر سہولت چاہ رہی تھی۔ میرے ابا جی نے پوچھا بہن جی تم لوگ واقعی نظام مصطفی کا نفاذ چاہتے ہو کہنے لگی (بھراوا اسی منڈے ٹنڈے کرانے نیں) بھائی صاحب ہم نے لڑکوں کے ہاتھ کٹوانے ہیں؟

دراصل اس کا بیٹا جیب تراشوں کا استاد تھا جناب بھٹو صاحب کے اقتدار کے خاتمے تک اللہ نے ہدایت دی پھر وہ  ترقی کر کے غنڈہ گردی میں بڑے رتبے پر فائز ہو گیا۔ 

آتے ہیں موضوع کی طرف جسٹس رستم خان کیانی چیف جسٹس لاہور تھے ایوبی مارشل لاء آ گیا بریگیڈ یئر صاحب تشریف لائے اور پروٹوکول آفیسر سے کہا کہ ہم تمام ہائی کورٹ کا دورہ کرنا مانگتا ہے۔ وہ چیف صاحب کے پاس گیا کیانی صاحب نے کہا اسے میرے پاس لے کر آؤ بریگیڈیئر صاحب تشریف لائے تو کیانی صاحب نے کہا کہ آپ کے پاس 5 منٹ ہیں ہائی کورٹ لاہور سے نکل جائیں ورنہ ہائی کورٹ کی لاک اپ میں ہوں گے۔ بریگیڈیئر صاحب بات سمجھتے سمجھتے ہائی کورٹ سے باہر نکل چکے تھے۔ بعدمیں ایوب خان گورنر ہاؤس آئے تو کیانی صاحب بھی ملاقات کے لیے گئے ایوب خان نے کہا سنا ہے ہمارے بریگیڈیئر صاحب کے ساتھ یہ واقعہ ہوا ہے تو انہوں نے معذرت کی جناب وہ تو بریگیڈیئر تھا آپ بھی ہوتے تو یہی جواب ہوتا۔ 

کیانی صاحب کے بعد جسٹس صمدانی،جسٹس سعید حسن ملک اور پھر چراغ اداس ہو گئے البتہ مسٹر جسٹس فائز عیسیٰ نے چراغوں میں تیل ڈالنے کی کوشش کی حالانکہ جسٹس صدیقی والا چراغ گل ہوچکا تھا۔ عدلیہ کا" لازوال" کردار رہا ہے۔ وزیراعظم خواہ مخواہ کہتے ہیں دو قانون ایک طاقتور کے لیے ایک کمزور کے لیے حالانکہ ہماری عدلیہ نے مولوی تمیز الدین کا داغ دھوتے ہوئے دنیا کے اپنے وقت کے نمبر1 سیاسی رہنما جناب بھٹو کو سولی چڑھایا۔ خط نہ لکھنے پر وزیراعظم گھر بھیجا، بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر بھی وزیراعظم گھر بھیجا اور انصاف کا یہ عالم تھا کہ ایک بڑا پٹیشنر عدالتی اشتہاری تھا جس کی پٹیشن پر منتخب وزیر اعظم کی چھٹی کرائی۔مگر موجودہ وزیراعظم کے لئے اٹارنی جنرل سے جج کہتے ہیں کہ آپ وزیر اعظم کے لئے استثنا کیوں نہیں مانگتے؟ لہٰذا استثنا مانگا اور دے بھی دیا گیا۔

میں تو اکثر کہتا ہوں کہ وطن عزیز ایک میگا تھیٹر ہے کوئی جج ہے کوئی بیورو کریٹ ، کوئی صنعت کار کوئی دانشور ،کوئی پارلیمنٹیرین ،کوئی سیاستدان بس مظولم اور محکوم اصلی ہیں۔ اس ماحول میں جسٹس فائز عیسیٰ اصل جج بننے کی کوشش نہ کریں ورنہ عشق کا امتحان مزید مطالبہ بھی کر سکتا ہے۔ لہٰذا سچی مچی کچھ نہیں کرنا بس سکرپٹ کے مطابق اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔چیف صاحب کو لگے ہاتھ اسی آرڈر میں وزیراعظم کو بھی پابند کرنا چاہیے تھا کہ وزیراعظم فائز عیسیٰ کے لئے متعصبانہ رویہ اور ذہن رکھتے ہیںلہٰذا وزیراعظم اور ان کے ماتحت حکومتی مشینری جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف کسی کاروائی میں شریک نہ ہوں۔

مسٹر جسٹس فائز عیسیٰ کوجسٹس کارنیلیس کا کہا ہوا کہ جو نام کبھی ایف آئی آرز میں ہوا کرتے تھے اب بینچ میں ہیں کے علاوہ جسٹس منیر احمد، جسٹس ثاقب نثار، جنرل ایوب خان، یحییٰ، ضیاء الحق، مشرف کے ساتھ ساتھ میر جعفر نجفی اور شیکسپئیر کے ڈرامے سیزر کا مکالمہ بروٹس یو ٹو (Brutus You Too) اور سیزر  کا خنجر کھا کر کہنا then fall ceasar تو یاد آیا ہو گا؟


ای پیپر