senate elections,horse trading,awais ghauri columns,urdu columns,epaper
16 فروری 2021 (11:39) 2021-02-16

والٹیئر ایک خدا پر یقین رکھتے تھے لیکن وہ عیسائی دیوتا کی طرح لوگوں کی زندگیوں میں ذاتی طور پر شامل خدا پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ اسے Deism کہتے ہیں۔ جب وہ پیرس میں فوت ہوا تو والٹیر کو چرچ میں دفن کرنے کی اجازت نہ دی گئی کیونکہ وہ عیسائی خدا کو نہیں مانتا تھا۔

والٹیئر نے کہا تھا کہ ’’اللہ تعالیٰ ایک گھڑی ساز کی طرح ہے ، وہ گھڑی جس میں بہت سے کوائل، سپرنگز، گیئرز، گراریاں ہیں۔ یہ بہت پیچیدہ چیز ہے مگر بننے کے بعد وہ ہمیشہ چلتی رہتی ہے۔ لیکن گھڑی ساز موجود ہے، یعنی کہ ایک ایسی قوت ہے جس نے وہ اصول بنائے تھے مگر باقی کام فزکس کا ہے۔ بیشک آپ گڑگڑاتے رہیں،آپ دعائیں کرتے رہیں مگر جو پہلے طے ہو چکا ہے اس کو وہ گھڑی ساز نہیں بدلے گا‘‘۔

دل میں شادیانے بج رہے ہیں، موسم چاہے حبس زدہ ہے لیکن امید کی روشنی نظر آنے پر دل باغ باغ ہے۔ اک امید سی بندھ گئی ہے کہ اس قوم کو گدھے اور زیبرے میں فرق محسوس ہونے کے عمل کا آغاز ہوا چاہتا ہے۔ جہاں دماغ بند کر دئیے گئے ہوں، برین واشنگ کر دی گئی ہو، پیسے سے منہ بند کر دئیے گئے ہوں، لوگ پرتعیش زندگی کے اسیر ہو چکے ہوں یا اس کی امید پر جھوٹ بول رہے ہوں وہاں سچ پھیلنے کا عمل سست ضرور ہو چاتا ہے مگر رکتا نہیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا رہتا ہے ویسے ہی سچ پھیلتا رہتا ہے۔ 

ہمارے وہ یار دوست جن کی جون بدل چکی ہے۔ جو اسی راہ پر چل نکلے ہیں جس پر چلتے چلتے ہمارے پائوں شل ہو چکے ہیں، وہی راگ الاپ رہے ہیں جو ہم سب کا خاصا رہا ہے مگر افسوس کہ اس بار بھی ان کا استدلال کمزور ہے۔ معذرت کے ساتھ اس دفعہ بھی انہوں نے مرض کی ٹھیک تشخیص نہیں کی۔ وہ رگ اس بار بھی ان کے ہاتھ نہیں آئی جس سے انہیں اصل حالات کا اندازہ ہو سکتا۔ یہ کوشش تو ہمیشہ کی طرح بے سود ہی ٹھہرے گی کہ انہیں ’’ا ب پ ‘‘سے سمجھایا جائے سو ہم براہ راست مسئلے کی طرف آتے ہیں۔ اس بار کے الجھائو کو سمجھنے کیلئے ایک لطیفہ یاد آ رہا ہے۔

گاہک : بھائی تمہیں تھپکی مارنے سے کیسے معلوم ہو جاتا ہے کہ تربوز میٹھا اور لال نکلے گا ؟

تربوز والا : یہ تو پتہ نہیں لیکن میرے باپ نے مجھے سمجھایا تھا کہ دو کو تھپکیاں مارو ، پھر تیسرا تربوز گاہک کو پکڑا دو ، گاہک خوش ہو جائے گا۔ 

پاکستان کی صورتحال بھی ایسی ہی ہے۔ پہلا تربوز نواز شریف ، دوسرا زرداری اور تیسرا عمران خان۔

اور تربوز والے نے یہی کیا ، عوام کو تیسرا تربوز پکڑا دیا۔ عوام خوش ،پتا تو اس وقت چلا جب تربوز کو کاٹا گیا‘‘۔

پی ٹی آئی کی تعریف میں زمین اور آسمان کے قلابے ملانے والے ، اپنے والدین کو عمران خان کیخلاف بات کرنے پر اولڈ ایج کہنے والے ، دوستوں کی محفلوں میں گھنٹوں تبدیلی کی حمایت میں دلائل گھڑنے والے آج جب ہر دلیل کا انجام دیکھ چکے ہیں اور ان کے پاس اپنی رائے سے رجوع کرنے کے علاوہ اور کوئی موقع نہیں رہا تو انہوں نے یہ راستہ اختیار کیا ہے کہ وہ عمران خان تو چلو مان لیا برا نکلا ، لیکن وہ نواز شریف اور زرداری جیسا برا ہی نکلا ہے۔

اصولاً تو ہمارے ان یار دوستوں کو بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، اپنی اخلاقی اقدار کو ثبوت دیتے ہوئے سب سے پہلے اس بات کا اعتراف کرنا چاہیے تھا کہ ’’ہم سے غلطی ہوئی کہ ہم نے پی ٹی آئی کے نعروں پر یقین کیا ، پی ٹی آئی کے نعرے غیر حقیقی اندازوں اور جھوٹ پر مبنی تھے اور ہم سے انہیں سمجھنے میں مکمل طور پر غلطی ہوئی ‘‘۔ 

بات کا آغاز تو اپنی غلطی کو ماننے سے ہونا چاہیے تھا لیکن ہو یہ رہا ہے کہ عمران خان تو چلو برا نکلا لیکن وہ نواز شریف ، زرداری اور دیگر سیاستدانوں جیسا ہی برا ہے۔ یعنی عمران خان کی بے جا حمایت کو تسلیم کرنے کے بجائے اب بھی بودی قسم کی دلیلوں کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 

کہا اور سنا جاتا ہے کہ نیت کا حال اللہ کے سوا اور کوئی نہیں جانتا اور شہریار آفریدی کا کہنا ہے کہ انہوں نے جان اللہ کو دینی ہے اس لئے وہ جھوٹ نہیں بولتے۔ چونکہ ملکی سیاست ایک گندے جوہڑ میں بدل چکی ہے ، بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے پرندے ڈالیاں بدلتے نظر آرہے ہیںسو جہاں اتنی باتوں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے وہیں اگر پی ٹی آئی کو بھی نیک نیتی پر شک کا فائدہ دینے کی کوشش کر لی جائے تو کیا حرج ہے؟۔ 

2018 میں سینٹ الیکشن کی ویڈیو لیک ہونے کے بعد فضا میں اک اداسی سی پھیل گئی ، دل مغموم ہو گیا ، سب کچھ مسموم محسوس ہونا لگا۔ دل غم کے اسی بھنور میں پھنسا رہتا وہ تو اللہ بھلا کر مہوش حیات کا جنہوں نے سوشل میڈیا پر آکر رقوم تقسیم کرنے کی ویڈیو سے پیدا ہونے والے زخم پر پھاہا رکھا۔اللہ حق مغفرت ضرور کریں گے ، عجب عذاب مرد و خواتین سے پالا پڑ گیا ہے۔ پوری قوم اس اخلاق سے گری ہوئی ویڈیو(رقوم تقسیم کرنے والی)پر مغموم ہے۔ بھلا پیسے لیکر اپنا ووٹ بیچنے والے پی ٹی آئی کے ممبران کا قصور ہی کیا ہے جو سب نے انہیں فٹ بال سمجھ کر پریکٹس شروع کر دی ہے۔ 

پی ٹی آئی کی طرف سے اس بار بھی وہی بودا سا استدلال سامنے آیا۔ پیسے دینے والے حکمران پارٹی کے ، وصول کرنے والے پی ٹی آئی کے جبکہ عمران خان نے کرپشن کیخلاف اس جنگ پر ایک ٹویٹ کر دی اور یہ اعلان فرما دیا کہ ’’دیکھا ہم اسی لئے کہتے تھے کہ سینٹ میں کھلے عام رائے دہی ہونی چاہیے تاکہ کوئی کرپشن نہ کر سکے ‘‘۔عمران خان نے اس بار معاشی ترقی بیان کرنے کی طرح کوئی ثبوت یا اعداد شمار نہیں دئیے اور نہ ہی ان اصحاب کے نام بتائے۔سو ہم ان کی روحانی شخصیت کے اور ان کے احترام میںیہ بات بھی تسلیم کر لیتے ہیں۔

اطمینان ہے کہ جان سے پیارے پاکستان میں ستر سال بعد پہلا پودا لگ چکا ہے ، آگہی کا پہلا پودا جو پاکستان کی بربادی کے تناوردرخت کے مقابل پنپنا شروع ہو چکا ہے۔ وہ بیج جو پاکستان دو لخت ہونے پر بھی نمو نہ پا سکا ، غیروں کی جنگیں لڑنے اور اپنی غیر ضروری مہمات کے نتیجے میں کہیں بنجر زمین پر سڑتا رہا آج پہلی بار نمو پا چکا ہے۔ پاکستان سے محبت کرنے والے ، پرجوش نوجوان گدھے کو زیبرا سمجھنے میں مصروف ہیں تو اس میں ان کا قصور نہیں لیکن سوچئے آنیوالے پانچ ، دس سال میں جب یہی نوجوان دنیا گھوم چکے ہوں گے ، کچھ کتابیں پڑھ چکے ہوں گے ، تاریخ سمجھنے والے کچھ لوگوں میں بیٹھ چکے ہوں گے تو ان کے سوچنے کا انداز کیا تبدیل ہو گا یا نہیں۔ ایک پنجابی شعر یاد آرہا ہے۔

پانی پاک پیون دا کائینی 

کہ تئیں خلقت تسی مرے 

اوتئیں کھوہ وی پاک نہ تھیسی 

جے تئیں کھوہ وچ کتا کھڑے

تشریح :پینے کا پاک پانی میسر نہیں ہے ، یہ مخلوق کب تک پیاسی مرے گی؟ لیکن کنواں اس وقت تک پاک نہیں ہو گا جب تک کنویں میں مردہ کتا پڑا ہے۔ 


ای پیپر