Shakeel Amjad Sadiq columns,urdu columns,epaper,urdu news papers
16 فروری 2021 (11:31) 2021-02-16

ملتان، ڈیرہ غازی خاں اور تونسہ شریف(جی جی وہی تونسہ شریف جو نامور شاعر، استاد، ادیب، دانشور، محقق اور ماہر تعلیم جناب ڈاکٹر طاہر تونسوی والا تونسہ ہے۔ عیسیٰ خیلوی صاحب کا پیرخانہ بھی ہے، حالانکہ وہاں فکر تونسوی صاحب بھی پائے گئے ہیں) دنیا کا وہ واحد شہر ہے جہاں لوگ غم کے موقع پہ عطاء اللہ کو سنتے ہیں اور رونے لگتے ہیں، اور خوب روتے ہیں۔۔ گلے لگ لگ کر روتے ہیں۔۔ بلکہ ’’وین‘‘ بھی ڈالتے ہیں۔۔۔۔ دھمال اور وجد کی انہونی سی کیفیت بھی طاری کرلیتے ہیں۔۔ جبکہ خوشی کے موقع پہ بھی عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کو سنتے ہیں اور پھر سے رونے لگتے ہیں ۔ اس کیفیت میں وین اور وجد کی کیفیت منہا ہوجاتی ہے۔ لبوں سے مسکراتے ہیں اور آنکھوں سے برسات کا کام لیتے ہیں۔ میرا ایک ملتان کا سرائیکی دوست عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی کے گانے سنتے ہوئے رویا کرتا تھا( آج کل وہ ڈائریکٹر تعلقات عامہ اور اچھا تخلیق کار ہے) جب میں نے اس سے پوچھا کہ مجھے بتائو کس لڑکی نے تم سے بے وفائی کی ہے ۔۔ یا زمانے نے کوئی دکھ دیا ہے جو تم عطاء اللہ خان عیسی خیلوی کے اداس، دکھ بھرے اور پُرسوز گیت سنتے رہتے ہو تو اس نے یہ انکشاف کیا کہ ’’بے وفائی تو کسی نے نہیں کی حتیٰ کہ اسے تو کبھی محبت بھی نہیں ہوئی۔ پر پھر بھی لالہ (عطاء اللہ) کے گانے سنتے ہوئے مجھے لگتا ہے جیسے کوئی مجھے چھوڑ گئی ہے اور ہجر کی سوغات میرے پلے باندھ گئی ہے۔‘‘

جی قارئین ! یہ وہی عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی ہیں جنہوں نے نئے پاکستان کی بنیاد کھودنے میں پہلا تیشہ اپنے ہاتھ میں پکڑا تھا اور فرہاد کی طرح کوہکنی کی اور آئے گا عمران۔۔۔ بنے گا نیا پاکستان گا کر دودھ کی نہر کھود ڈالی۔ عیسیٰ خیلوی نے نہر تو کھود ڈالی مگر خود اس دودھ کی مٹھاس اور لذت سے ناآشنا رہے۔ عیسیٰ خیلوی صاحب وہ پیاسے نکلے جو کنویں کے پاس رہ کر بھی ایک قطرے سے بھی فیض یاب نہ 

ہوسکے۔ عیسیٰ خیلوی صاحب کے قریبی لوگوں کا خیال ہے کہ مخالفین نے عمران خان کی سماعتوں میں زہر گھولا ہے کہ عیسیٰ خیلوی صاحب تعلقات سے زیادہ مفاد پرستی کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمارے بزرگ اس موقع پر ایک بات بتایا کرتے تھے کہ کسی نے ایک ’’لائی لگ ‘‘شخص سے کہا! ارے بھائی وہ دیکھو! وہ دیکھو! کتا تمہارا کان کاٹ کر بھاگ گیاہے۔ اس شخص نے اپنے کان کی طرف توجہ نہ دی فوراً کتے کے پیچھے بھاگ کھڑا ہوا۔ دروغ بر گردن راوی( یہ روایت ضعیف بھی ہوسکتی ہے ) عیسیٰ خیلوی صاحب اگر مفاد پرست بھی ہوں بعض لوگوں کے مطابق اس کے دوست اس کے اے ۔ٹی۔ایم ہیں ۔ وہ سنگ دل بھی ہوں ، پیسے کے پجاری بھی ہوں (جو ہر سیاستدان ہے) کسی کا ٹکے کا کام کرکے راضی نہ ہوں۔ کسی کو کوئی فائدہ بھی نہ دیتے ہوں۔ انہوں نے کوئی فلاحی کام نہ کیا ہو۔ انکے شعراء ان سے حددرجہ نالاں ہوں۔ ان کے سازندے لاکھ ان کے رویے سے گریہ گر ہوں۔ وہ پی ٹی آئی کے کئی کارکنوں کو ایک آنکھ نہ بھاتے ہوں۔ امجد خان کی لالہ سے لاکھ مخالفت سہی افضل عاجز کی تحریروں میں لاکھ عیسیٰ خیلوی کی مخالفت کی بو آتی ہو۔۔۔ عصمت گل خٹک لاکھ اینٹی عیسیٰ خیلوی ہووہ لاکھ عیسیٰ خیلوی کو ڈراتے دھمکاتے ہوں کہ وہ عیسیٰ خیل سے عیسیٰ خیلوی تک کتاب لکھ کر ان کا سارا کچا چٹھا کھول دیں گے۔ عمران خان کو ان تمام باتوں پر کان نہیں دھرنا چاہیے تھا۔ عمران خان کو اپنے ویژن کے مطابق ’’یوٹرن‘‘ لینا چاہیے تھا۔ بعض یوٹرن حادثے کا سبب بھی بن جاتے ہیں اور ہماری نظر میں عمران خان کا یہ یوٹرن کوئی سمجھ داری کا ثبوت نہیں ہے حالانکہ کامیاب مرد کے پیچھے بیوی کا ہاتھ ہوتا ہے۔ عمران خان کی کامیابی کے پیچھے جس بیوی کا ہاتھ ہے بعینہی ایسی ہی ایک بیوی کا ہاتھ عطاء اللہ عیسی خیلوی کے پیچھے تھا اور بھرپور طریقے سے تھا۔ جس نے عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی سے پی ٹی آئی کے لیے ایک ترانہ گوایا۔ اسی ترانے نے قوم کی روح کو گرمایا اور پی ٹی آئی کی بھرپور کامیابی کا سبب بنا اسی ترانے کی پاداش میں عمران خان کا وزیراعظم بننے کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا۔ بقول تجمل کلیم

کانواں تک نوں ذات پیاری

بندہ سُن کے مر نیئں جاندا؟

ایسے ہی مواقع کے لیے غالب نے کہا تھا

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا

غالب کو بُرا کیوں کہو؟ اچھا ہے مرے آگے

کچھ نہ ہوتا! عمران خان اتنا ہی خیال کر لیتے کہ عیسیٰ خیلوی میرے قبیلے کا فرد ہے۔ اکبر الہ آبادی نے کہاتھا کہ ’’تو بھی گریجوایٹ میں بھی گریجوایٹ ،علمی مباحثہ ہو ذرا پاس آکے لیٹ۔ حالانکہ دونوں احباب نیازی قبیلے کے غیور پٹھان ہیں اور دونوں کی ’’خاتونِ خانہ‘‘ ایک ہی ضلع اور ایک ہی خاندان کی چشم و چراغ ہیں۔ افسوس در افسوس خان صاحب اس رشتے کا ہی لحاظ رکھتے ہوئے عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی کو سینٹ کا ٹکٹ عنایت کردیتے۔ اب لالہ جی اپنی بیوی کو کیا منہ دکھاتے ہوں گے؟ کہ آپ کے کہنے پر میں نے ترانہ گا کر دھوم مچادی اور واقعی عمران خان آگیا۔ مگر مجھے فرنٹ فٹ سے بیک فٹ پر کردیا۔ جہاں شبلی فراز کو احمد فراز کا بیٹا ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ وہاں عیسیٰ خیلوی کو میانوالی کا ’’شناختی کارڈ ‘‘ اور فخر پاکستان ہونے کا اعزاز اور حق حاصل ہے۔ تو انہی بنیادوں پر سینٹ کا ٹکٹ مل سکتا تھا۔ مگر عیسیٰ خیلوی کی پارٹی نے ان کے ساتھ بھرپور بے وفائی کی ہے۔ میری عیسیٰ خیلوی صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اپنا باجا اور طبلہ اٹھائیں اور اپنا گیت ’’بے وفایوں تیرا مسکرانا بھول جانے کے قابل نہیں ہے‘‘ گا گا کر ان کی بے وفائی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے نظر آئیں تا کہ عمران خان کو اپنے ’’یوٹرن‘‘ کا اندازا ہوجائے ۔ میں اور میرا ملتان کا سرائیکی دوست آپ کے گیتوں پر پھر سے رونا شروع ہوجائیں۔ 


ای پیپر