ترک صدر کی کشمیریوں کی حمایت پر بھارت آگ بگولہ
16 فروری 2020 (10:50) 2020-02-16

نیو دہلی: ترک صدر رجب طیب اردوان کی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ، ترک صدر کی کشمیریوں کی حمایت پر بھارت آگ بگولہ ہو گیا۔ جبکہ کشمیریوں نے ترک صدر کی تقریر کو خوب سراہا۔

واضح رہے کہ ترک صدر نے پاکستان کے دو روزہ دورے کے دوران پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کشمیر ترکی کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا پاکستان کے لیے ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کے مسلئہ کشمیر کا حل جبری پالیسیوں سے نہیں بلکہ انصاف کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کے بھارت کے یک طرفہ اقدامات سے کشمیریوں کی تکالیف میں اضافہ ہوا ہے۔ مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ میں ترکی نے اپنا بھرپور موقف اپنایا ہے۔

بھارتی حکومت سے ترک صدر کی حمایت برداشت نہ ہوئی۔ وزارت خارجہ کے جاری کردا ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ترکی داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرے اور درست حقائق کی صحیح تفہیم پیدا کرے۔ رویش کمار کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر بھارت کا ایک اہم حصہ ہے اور مقبوضہ کشمیر سے متعلق ترک صدر کے تمام منسوبات کو مسترد کرتے ہیں۔

ادھر سید فیض نقشبندی کا کہنا تھا کے کشمیریوں نے پاکستان پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ترک صدر کی کشمیر سے متعلق تقریر کو بہت سراہا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکی کو چین اور ملائیشیا کے ساتھ مل کر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر پر اور ممالک سے رجوع کرنا چاہیے۔


ای پیپر