اچھی صحافت کرنا چاہتے ہو؟
16 فروری 2020 2020-02-16

شورش کاشمیری نے بہت پہلے کہا تھا، ’ میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو،گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں‘، میں جب حالات حاضرہ کے پروگراموں میں ریٹنگ کی دوڑ دیکھتا ہوں کہ اسی ریٹنگ کی بنیاد پر اشتہاری ادارے اپنے کلائنٹس کومشورہ دیتے ہیں کہ وہ کس ٹی وی چینل پر اور کس پروگرام کے دوران اپنے اشتہارات چلوائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اس کا پیغام پہنچ سکے تو شدید احساس زیاں اور دل گرفتگی کے عالم میں اس شعر میں سیاست کی جگہ صحافت لکھنے کو غیر موزوں اور غیر حقیقی نہیں بلکہ وقت کی ضرورت پاتا ہوں۔

میں نے زندگی کے برس ہا برس اس پروفیشن کو دے دئیے۔ میں نے اسے پرنٹ سے الیکٹرانک اور پھر سوشل میڈیا میں ڈھلتے اوربدلتے ہوئے دیکھا ہی نہیں بلکہ اس کا حصہ رہا ہوں۔یہاں کاروبارِ زندگی کتنی جلدی تبدیل ہوا ہے اس کا اس پروفیشن سے باہر لوگوں کو اندازہ بھی نہیں ہوسکتا۔ پرنٹ میڈیا میں صحافی کو چوبیس گھنٹے کے بعد ایک مرتبہ کٹہرے میںآنا پڑتا تھا جب رپورٹنگ کی میٹنگ ہوتی تھی۔ وہاں ’مسنگ نیوز‘ کی ایک فہرست ہوتی تھی اور ہر بیٹ کا رپورٹر لولی لنگڑی وضاحتیں پیش کر رہا ہوتا تھا کہ اس سے یہ خبر کیوں مِس ہوئی۔ کوئی کہتا تھا کہ وہ خبر جو اس نے نہیں دی مگر دوسرے اخبار نے دے دی ، وہ جھوٹی ہے۔ کبھی یہ وضاحت ہوتی تھی کہ میں یہ خبر بہت پہلے دے چکا، فلاں خبر کا حصہ تھی، وغیرہ وغیرہ مگر الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر یہ احتساب دنوں اور گھنٹوں بعد نہیں بلکہ منٹوں اور سیکنڈوں میں ہوتا ہے۔ کسی بھی چینل پر سرخ پٹی چلتے ہی صحافی کو اسائنمنٹ ڈیسک یا نیوز روم سے سیکنڈوں کے اندر فون آجاتا ہے کہ یہ خبر کہاں ہے کہ اگر ہم نے یہ خبر نہ دی تو ناظرین ہمارے چینل پر نہیں ٹھہریں گے۔

چینل پر ناظرین کو ٹھہرانے کی خاطر مقابلے کی یہ فضا پروگرامنگ میں بھی آ گئی ہے۔ اب ریٹنگ ایجنسیاں پبلک میٹر ز کے ذریعے ہر روز اور ہر گھنٹے کے بارے میں بتاتی ہیں کہ کون سا پروگرام کتنے فیصد ناظرین نے دیکھا یعنی اب آپ کے کام کے معیار کا اندازہ ’تماش بینوں‘ کی تعداد سے ہو گا اور آپ کو علم ہی ہے کہ تماش بینوں کا مزاج مختلف ہوتا ہے۔ تماش بینی تو لفظ ہی تماشا سے منسلک ہے لہٰذا جہاں زیادہ اچھا تماشا ہو گا وہاں اتنے ہی زیادہ تماش بین ہوں گے۔ آپ ایک تجربہ کیجئے، ایک چبوترے پر کھڑے ہوجائیے، تحمل اور تدبر کے ساتھ کسی بھی اہم ترین سماجی ، معاشی یاسیاسی معاملے پر بات شروع کر دیجئے، لوگ آپ کو دیکھیں گے، ٹھہرنے کے بجائے بور یت کا اظہار کرتے ہوئے آگے گزر جائیں گے۔ اب اسی تجربے کو ’ کانٹینٹ‘ تبدیل کر کے دہرائیے،کھڑے ہوتے ہی بازو چڑھا لیجئے، چہرے پر سختی لائیے اور اونچی آواز میں گالیاں بکنا شروع کر دیجئے آپ توجہ حاصل کر لیں گے ،چلیں، آپ ایک مہذب آدمی ہیں، ایسا نہیں کر سکتے تو اپنی جگہ پر ایک خواجہ سرا کھڑا کر دیجئے، میوزک پر ٹھمکے لگنے کی دیر ہے، لوگوں کا رش دیکھئے ۔ یہی ہماری صحافت ہے ،میں شورش کاشمیری کا شعرترمیم کے ساتھ دوبارہ پیش کر دیتا ہوں، ’ میری وطن کی صحافت کا حال مت پوچھو، گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں‘۔

سیاست، مذہب، سماج یا معیشت کے مسائل پر پروگرام میں پینلسٹ بہت تیاری کے ساتھ مدلل گفتگو کر رہے ہیں ، آپ ایک اینکر ہیں، آپ کو لگے گا کہ یہ پروگرام نہیں بلکہ لیکچر ہو رہا ہے لہٰذاجہاں یہ ضروری ہے کہ سکرین پرایسے جانے پہچانے چہرے ہوں جو یاوہ گوئی میں ماہر ہوں، موقف بیان کرنے اور دلیل دینے سے زیادہ دوسروں کی ایسی تیسی کرنا زیادہ بہتر جانتے ہوں تو آپ کا پروگرام کامیاب ہوسکتا ہے ورنہ کوئی ریٹنگ نہیں ہوگی چاہے آپ جتنی مرضی اچھی بات کر لیں۔ ہمارے دوست زعیم قادری بہت ہٹ ہوا کرتے تھے اور اب فیصل واوڈا بھی ریٹنگ لیتے ہیں، شیخ رشید بوجوہ ہمیشہ سے ہی مقبول ہیں۔ دوسرے، آپ سٹوڈیو میں جانے پہچانے چہروں کے ساتھ پروگرام نہیں کرپاتے بلکہ پبلک میںنکل جاتے ہیں توجب تک آپ کو وہ لوگ نہیں ملتے جو نواز شریف، عمران خان، آصف زرداری یا کم از کم عثمان بزدار کوہی منہ بھر کے گالی نہ دیں، ایسی بات نہ کریں جس پر دو، چار ، چھ مرتبہ بیپ نہ لگانی پڑے تو پروگرام کیسے ہٹ ہوسکتا ہے، جی ہاں، آپ کسی کمیونٹی کے حقیقی مسائل پر بات کر لیجئے مجال ہے کہ کوئی اسے دیکھنے، سننے یا پسند کرنے کی حماقت کرے،کرنٹ افئیرز کے پروگرام بھی صحافت کے بجائے تماش بینی کے اصولوں کے مطابق رکتے ، چلتے اور دوڑتے ہیں۔

میں یہ نہیں کہتا کہ اچھا کانٹینٹ بالکل رسپانس نہیں لیتا ، لیتا ہے مگر یہ شرح دس میں سے ایک کی ہوسکتی ہے مگر دوسری طرف کامیابی کی شرح دس میں پانچ نہیں بلکہ آٹھ ، نو اور دس کی ہے جب آپ ایک بوٹ میز پر رکھ لیتے ہیں ، بہرحال چھوڑئیے، ایک طریقہ اور ہے کہ آپ ایک روشن اور رنگین سیٹ پر ایک خوش شکل عورت کو میک اپ سے لتھیڑ کر بٹھا دیجئے۔ ایک کانٹینٹ رائٹر سے کچھ بھی الم غلم لکھوائیے اور اس سے غصے کی ایکٹنگ کرواتے ہوئے پرامپٹر سے پڑھوا دیجئے اس کا رسپانس ریٹ ایک سینئر جرنلسٹ کے کسی پروگرام میں تہذیب کے ساتھ کئے ہوئے تجزئیے سے ہزار گنا بہتر ہوسکتا ہے۔ حالات حاضرہ بھی صحافت سے باہر نکل کر ڈرامے کی حدود میں داخل ہوچکے ہیں اور جو جتنا اچھا ڈراما پروڈیوس کرلیتا ہے وہ اتنا ہی اچھا اینکر بن کے سامنے آتا ہے۔اب ریٹنگ اور مقبولیت کے معیار سوشل میڈیا سے بھی طے ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قادر پٹیل کی وہ تقریر سپر ہٹ ہوجاتی ہے جس میں ذومعنی فقرے ہوتے ہیں اور پھر اس پر پروگرام ہوتے ہیں۔ ہمارے حالات حاضرہ کے پروگراموں نے ہمارے سٹیج ڈراموں سے بھی اثر لیا ہے یعنی اگر پاپولر پروگرام کرنا ہے تو جگتیں بھی ضروری ہیں۔

آپ مثال دے سکتے ہیں کہ کچھ سنجیدہ پروگرام بھی کسی وقت مقبول ہوجاتے ہیں مگر ان میںسنسنی خیزی انتہائی ضروری ہے۔ پی آئی اے ، اسٹیل ملز اور ریلوے میں خسارے کی وجوہات پر پروگرام میں جب تک ایسی سنسنی خیزی شامل نہیں کریں کہ بہت کچھ لوٹ لیا گیا یا مستقبل قریب میں ان اداروں میں قیامت آنے والی ہے تب تک پروگرام ہٹ ہونے کی اُمید مت لگائیں۔ کیا آپ نے جرائم کی ری اِنیکٹ منٹ پر مبنی پروگرام دیکھے ہیں۔ چوری، ڈاکا، قتل اور آبروریزی کیسے ہوئی، اس پر سٹار پلس کے ڈراموں جیسا میوزک اور ایفیکٹس لگتے ہیں، ایک قاتل ، ڈاکو یا زانی اپنے تجربے کو بیان کرتا ہے تو اس سے چسکے لئے جاتے ہیں۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا ہے کہ ہم اپنے ناظرین کا سنجیدہ صحافت اور بامعنی گفتگو کا ٹیسٹ ڈویلپ نہیں کرپائے اورہماری کاروباری مجبوریوں نے ہمیں سڑک اور تھڑے پر لاکھڑا کیا ہے۔بالغ صحافتی روئیوں میں ’ ہارڈ ٹاک ‘ کا مطلب لہجے اور الفاظ کا سخت ہونا نہیں بلکہ سوال اور مواد کا ٹھوس ہونا ہے مگر ہمارے ہاں اس کا مطلب یہ ہے کہ موقع ملتے ہیں اینکر خود بھی گالی دے دے۔ ایسے میں کوئی اینکر یہ کہے کہ وہ پاپولرازم سے باہر نکل کر حقیقی صحافت کرے گا تو پہلے مرحلے میں اسے چاہئے کہ وہ گالیوں اور الزامات کے لئے تیار رہے اوردوسرے اپنے لئے کسی دوسری نوکری ، دھندے یا کاروبار کا بندوبست رکھے۔


ای پیپر