Look, importance, sea, Dr Zahid Munir Amir
16 دسمبر 2020 (12:12) 2020-12-16

م بحرایجین کے کنارے کنارے چلتے چلے گئے ۔سمندرکے دوسری جانب دور عمارتوں اور زندگی کے رنگ ہویداتھے۔محیط بیکراں اور بحرناپیداکنار کا نظارہ میرے لیے ہمیشہ ہی حیرتوں کے دَر کھولتاہے ۔ایک زمانے تک میں یہ سوچتاتھا کہ کاش کبھی ایساہوکہ میں سمندر کے اندراترکر اس کی تاریکیوں میں پوشیدہ اجالے تلاش کروں لیکن جب میں بحرالابیض المتوسط کی گہرائیوں میں اُترا تو یہ دیکھ کرحیرتوں کا ایک نیا جہان ہویدا ہواکہ سمندر کے اندرتو کوئی تاریکی نہیں سمندرکے اندرتو چمکتا آفتاب ایسے ایسے اجالے بکھیرتاہے بعض صورتوں میں زمین والوں کی نگاہیں بھی جن سے آشنانہیں ہوتیں ۔مجھے سمندر کی وسعتوں میں ڈوبتادیکھ کر میزبانوںنے یاددلایاکہ ہمیں کھانابھی کھاناہے ۔ خلقیدہ میںہماری میزبانی صدرذیلی کمیٹی پاکستان کمیونٹی یونان مرزاجاوید اقبال اور راجہ صداقت کررہے تھے ۔ کھانے کے لیے جس ہوٹل کا انتخاب کیاگیااس کے بڑے بڑے دریچوں سے سمندرگویا ہوٹل کے اندر آیاچاہتاتھالیکن سمندرکو اس ارادے سے روکنے کے لیے ایک بڑا درخت، ساونت بن کرہوٹل اور سمندرکے درمیان کھڑاہوگیاتھا۔ میںنے اس ساونت سے تعارف کے لیے میزبانوں سے اس کانام پوچھا ،اس کانام تو معلوم نہ ہوسکا البتہ انہوں نے یہ بتایاکہ اسے وسیلیو دیندروکہاجاتاہے یعنی درختوں کا بادشاہ ان کاخیال تھا کہ یہ چنارکا درخت ہے لیکن اس میں سرخی کی تو کوئی علامت نہیں تھی کہ ہم اہل پاکستان تو چنارکو آتش چنارہی کے حوالے سے جانتے ہیں خواہ وہ شیخ عبداللہ ہی نے کیوں نہ لکھی ہو۔درختوں کے اس بادشاہ کے ساتھ ایک اور درخت بھی سرجوڑے کھڑاتھا چونکہ پاکستان میں یہ درخت میرے گھر میں بھی تھا اس لیے میںنے اسے فوراً ہی پہچان لیا۔یہ لوکاٹ تھا لیکن ہمارے ہاں کے لوکاٹ کے درخت سے بہت بزرگ تر،یوں لگتاتھا جیسے پاکستان سے یہاں پہنچتے پہنچتے لوکاٹ بہت بوڑھاہوگیاہے ۔ 

کھانے کی میزپر ایک بڑاسا کاغذ بچھاہواتھا،آپ ٹشوپیپرکہہ لیجیے لبنان میں کھانے کے ظروف پر تہنیتی عبارتیں دیکھی تھیں یہاں یہ کام ٹشو پیپرسے لیاجارہاتھا۔میں نے میزبانوں سے اس کانام پوچھا تو انھوںنے بتایاکہ اسے طرابیزہ وخلتی کہاجاتاہے۔ یونان اور پاکستان کے کھانے کے ادب آداب میں پائے جانے والے اشتراکات واختلافات پر باتیں ہوتی رہیں ۔کھانے کے بعد ہمیں ابھی خلقیدہ کو مزیددریافت کرناتھا اس لیے ہم یہاں سے اٹھے اور خلقیدہ کی ایک نئی جہت میں روانہ ہوگئے ۔یہ پرانا خلقیدہ تھا تاریخ  میں جس کا 

ذکرمختلف یونانی ناموں سے ملتاہے ۔ہم جہاں پہنچے وہاں ہمارے سامنے ایک مسجدکی عمارت تھی۔ پرانے پتھروں کی تعمیر،پورے ہال پر دودرجوں میں مدوّرگنبد،جس کے دائیں بائیں دوچھوٹے گنبد، قرمزی رنگت اطراف و جوانب سے کہنگی اور عدم توجہی کے آثار ہویدا دروازہ  مقفل … بتایا گیا کہ یونان کی دوسری تمام مساجدکی طرح یہ مسجدبھی بندہے ۔دروازے پر کسی زمانے میں لکھاگیا مسجدکانام   Emir Zade Mosque درج تھااس نام کو اگر ہم اپنے رسم خط میں لکھیں تو غالباًیہ امیر زادہ مسجد بنے گا میںنے ادھر ادھردیکھاتو ایک جگہ سنۃ ثلث وثلثین والف لکھاہوا مل گیا۔ جس کامطلب ہے یہ مسجد ۱۰۳۳ھ میں تعمیرہوئی ۔مسجدکے اندرجانے کی سعادت سے تو ہم محروم تھے کہ مقفل ہونے کے باعث اس کی اجازت تھی نہ امکان البتہ اس کے حوالی کو دیکھا ۔مسجدکی دیوارپر بکھرے رنگوں اور بھدے اندازسے اسرائیل کا پرچم بنایاگیاتھاشایداس اہتمام سے مسجدکے مسلم زائرین کوکوئی پیغام دینامقصودہو۔باہر مسجدکی عمارت سے جداسنگ سفیدکی ایک تعمیرنمایاں تھی۔یہ وضوخانہ تھاعمدہ اورنفیس تعمیر،ایک جانب تاریخ تعمیر اور تعمیرکرانے والے کانام درج تھاعمّرَھذہ الچشمۃ حسبۃََ لِلّٰہ ابراھیم بن محمدوکیل سنۃ ۱۱۷۶ھ۔ جس سے ظاہر تھاکہ یہ وضوخانہ مسجد کی تعمیرپر ایک صدی سے بھی زیادہ کا عرصہ گزرجانے کے بعد بنایاگیا۔ہوسکتاہے یہ تعمیرجدید ہو اس سے پہلے کا چشمہ قائم نہ رہاہویا اسے گراکر یہ نیاچشمہ بنایاگیاہو۔اس مسجد کا ذکر ترک سیاح اولیا چلبی نے بھی کیاہے۔اولیاچلبی (۱۶۱۱ء…۱۶۸۴ء)کی کتاب پر اس کانام اولیا چلبی محمدظلی ابن درویش درج ہے  اس نے چالیس برس تک ممالک عثمانیہ کا سفرکیاتھاجس کی روداد دس جلدوں کے سیاحت نامہ سی میں محفوظ ہے۔کتاب کانام تو  سیاحت نامہ ہی ہے ترکی زبان میں ’’سی‘‘کا اضافہ اسم معرفہ بنانے کے لیے کیاجاتاہے۔اولیا چلبی نے اس مسجدکی تعریف کرتے ہوئے لکھاہے:

Andan Emirzâde câmi'i, gâyet musanna'dir. ) Evliya Çelebi Seyahatnamesi 8' kitap Page 102(

 مسجدکے دروازے کی درزوں سے ہال کو جس قدردیکھاجاسکتاتھا ہم نے دیکھا۔ اگریہ دروازہ کھلاہوتاتو اس کے اندرجاکردوگانہ اداکیاجاتالیکن اب دیکھنابھی تو انہیں دورسے دیکھاکرنا کی کیفیت تھی۔ ظہرکا وقت تھا مقفل دروازے کے باہر کھڑے ہو کر صدیوں کی اس بے اذان فضامیں حذیفہ نے اذان کے کلمات بکھیرے اور نماز کی امامت کی سعادت میرے حصے میں آئی ۔کیمرے والوں نے ہم پر کیمرے تان لیے۔شاید انہیں توحیدفی التثلیث کایہ منظرتاریخی دکھائی دے رہاتھا۔نمازکے بعد مسجدکے اطراف و جوانب پر نظرڈالی تو مسجدسے متصل عین اس کی بغل میں ایک صاف ستھراکلیسادکھائی دیا ۔ کلیسا عبادت کے لیے کھلاتھا لیکن مسجد بند…کلیساکی عمارت اورنظم بست وکشادسے یہ ظاہر تھا کہ مسجدکے ساتھ کی گئی یہ تعمیرجدیدہے۔مجھے دمشق کی جامعہ امویہ یادآئی ۔خلیفہ وقت نے جس کی تعمیرکے لیے اہل کلیساکی جانب سے اجازت نہ ملنے پر تمام تر اقتدار واختیار کے باوجود تعمیرمسجدکا ارادہ ترک کردیاتھا اور جب ایک مدت کے بعدمسجد تعمیرہوئی تو اس شرط پر کہ مسجداور کلیسادونوں بہ یک وقت موجود اورعبادت کے لیے کھلے رہیںگے،یوں صدیوں تک مسجدسے اذان کی صدائیں اور کلیساسے گھنٹیوں کی آوازیں برابر بلندہوتی رہیں درآں حالیکہ یہ وہ دورہے جب مسلم اقتدارکا سورج نصف النہارپرتھا۔ مسلم تاریخ رواداری اور برداشت کی ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے کاش کوئی آنکھیں کھول کر پڑھے …میرے سامنے جو منظرتھااسے دیکھ کر مجھے شکیب 


ای پیپر