Non-Muslim, societies, better, Muslim societies,
16 دسمبر 2020 (11:30) 2020-12-16

’’اگر مسلم معاشروں اور غیر مسلم معاشروں کا موازنہ کیا جائے تو ہمیں غیر مسلم معاشرے زیادہ بہتر حالت میں کیوں نظر آتے ہیں؟‘‘  یہ ایک تبصرہ نما سوال ہے‘ جو پنڈی سے ہمارے واصفی دوست صغیر احمد ستی کی بیٹی انعم صغیر نے ارسال کیا۔ یہ سوال کیا ہے‘ ایک مکمل موضوع ہے۔ ایسے سوال اٹھانے والے بچوں کو داد دینی چاہیے کہ وہ آزادانہ طور پر سوچنے کی خو رکھتے ہیں، یہی خو‘ اُن میں فکر کی خوشبو پیدا کرتی ہے۔ بنیادی تصورات اگر واضح ہو جائیں تو افکار الجھتے نہیں۔ افکار کی تطہیر عمل کی تطہیر کا باعث بنتی ہے اور عمل کی تطہیر بالآخر کردار کی تطہیر کا۔ اس لیے سب سے پہلے خیال کی الجھنوں کا سلجھنا ضروری خیال کیا جاتاہے۔ تطہیر‘ پاک کو غیر پاک سے جدا کرنے کا عمل  ہے۔ 

اس سوال کا جواب اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہمیں پاکیزگی اور صفائی میں فرق معلوم نہیں ہو جاتا، جب تک ہم گناہ اور جرم میں فرق کا ادراک نہیں کر لیتے، جب تک ہم فلاح اور کامیابی میں فرق قائم کرنے کے قابل نہیں ہو جاتے …اور جب تک ہم زندگی اور موت کی حدود اور تعریف متعین نہیں کر لیتے۔

جاننا چاہیے کہ دین ہمیں پاکیزگی دینے ، گناہ سے بچانے، فلاح عطا کرنے اور موت سے نکال کر ہمیشہ کی زندگی دینے کے لیے عطا ہوا ہے۔ لازم نہیں کہ کامیابی فلاح کے ہم قدم ہو، لازم نہیں کہ گلی کوچوں کی صفائی ہمارے لیے پاکیزگی کی ضامن بھی ہو ، لازم نہیں کہ جرم سے بچنے والا گناہ سے بھی بچ جائے اور ہرگز لازم نہیں کہ خوشحال زندگی ایک خوشگوار موت لے کر آئے …اور یہ بھی لازم نہیں کہ ہر موت زندگی کا اختتام ہی ہو۔ عین ممکن ہے‘ ایک شخص مفلوک الحال ہو لیکن متقی وپرہیز گار ہو، اور اس کے برعکس بھی ممکن ہے۔ عین ممکن ہے‘ ایک شخص مجرم ہو لیکن توبہ کے بعد گناہ سے پاک ہو چکا ہو، عین ممکن ہے ایک شخص سرتاپا عطر میں ڈوبا ہوا ہو‘ لیکن پاکیزگی کی خوشبو سے محروم ہو، اس طرح عین ممکن ہے ایک شخص ہمیں مرتا ہوا دکھائی دے لیکن اسے حیاتِ جاوداں میسر آ رہی ہو۔ جب تک ہم ان تمام ممکنات پر غور نہیں کر لیتے ‘ہماری نظر ظاہر میں الجھ کر رہ جائے گی اور ہم ظاہر کے پیمانے پر باطن کو ماپنے کا ظلم کریں گے۔ یہاں یہ بات بھی اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ دین پر چلنے کا لازمی نتیجہ دنیاوی ترقی اور کامیابی نہیں۔ ایک کامیاب شخص دوسروں کو دھوکہ دے کر بھی کامیاب ہو سکتا ہے۔ایک مالدار ملک دوسرے ملکوں کا مالی استحصال کرنے سے بھی امیر ہو سکتا ہے۔ سود خود کی خوشحالی مقروض کی بدحالی کے نتیجے میں ہوتی ہے۔ 

 یہ دنیا عالمِ اسباب ہے، قوانین ِ فطرت اس عالم کا بنیادی آئین ہے، آئین بنانے والا اپنے آئین میں بار بار مداخلت نہیں کرتا۔ یہ اللہ کی بنائی ہوئی تقدیر ہے۔ تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے کہ جو فرد یا قوم ان قوانین ِ فطرت کی پاسداری کرے گی‘ کامیابی اُس کے مقدر میں ہوگی۔ قوانین ِ فطرت مادّی بھی ہیں اور اخلاقی بھی۔ مادّی قوانین ِ فطرت پر چلنے سے مادّی ترقی ملتی ہے، اور اخلاقی قوانین پر چلنے سے معاشرتی برتری حاصل ہوتی ہے۔ اخلاقی قوانین دین کا حسن اور حصہ تو ہیں لیکن یہ گمان کر لینا درست نہیں کہ دین صرف ایک مجموعہ اخلاقیات ہے۔ دین میں عبادات اور احکامِ شریعت بطور محکمات موجود ہیں۔  دین بنیادی طور 

پر ہمیں اپنے نفس کی پاکیزگی کا حکم دیتا ہے، وہ اسے ہی فلاح کہتا ہے…’’فلاح پا گیا وہ ‘جس نے پاکیزگی اختیار کی‘‘ دین محض ایک معاشرتی اور سیاسی اصلاحی تحریک کا نام نہیں، نبی صرف مصلح و مفکر نہیں ہوتا بلکہ اسے اصطلاحاً نبی کہا ہی اس لیے جاتا ہے کہ وہ عالمِ ناسوت میں رہنے والوں کو عالمِ غیب کی خبر دیتا ہے۔ غیب کا عالم وہ ہے جہاں ہمارے حواسِ خمسہ اور عقلی صلاحیتیں نہیں پہنچ سکتیں، مثلاً فرشتے، جنت ، دوزخ ، پل صراط ، میزان ، قیامت، اور پھر حقیقتِ اولیٰ یعنی عالم الغیب ذاتِ الہ العالمین!! دین ہماری روح کو جِلا بخشنے کیلئے آیا ہے، تاکہ روح بیدار ہو جائے اور ایمان اپنے مشاہدے کا ذایقہ بھی چکھے۔ کسی نبی نے اپنی قوم کو سائنس کا نصاب نہیں پڑھایااور نہ وہ اس کام کے لیے مبعوث ہی ہوئے تھے۔ سائنس ہم نے خود پڑھنی ہے، عالمِ اسباب کی تحقیق ہم خاکی انسانوں کے ذمے ہے۔ اب کسی نبی نے مبعوث نہیں ہونا ‘ اب من و سلویٰ نہیں اترنا، ہم نے اپنے کھیتوں میں خود ہی ہل چلانا ہے۔ کھیتوں میں ہل اور ٹریکٹر ہمیں خود ہی نے خود بنانا اور پھر چلانا ہے۔ اشیا بنانے کا ہنر (ٹیکنالوجی) عالم ِ اسباب سے تعلق رکھتا ہے اور یہاں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تخصیص نہیں۔ عالم ِ اسباب میں مادّی قوانینِ فطرت سب کے لیے یکساں ہیں۔ اس لیے کسی قوم کی معاشی ترقی کو اس کے مذہب سے جوڑنا درست نہیں، لاطینی امریکہ میں عیسائی غریب ہیں‘شمالی امریکہ میں امیر، بدھسٹ تائیوان اور کوریا میں ترقی یافتہ ہیں، برما اور بھوٹان میں غریب، اسی طرح مسلمان ملائشیا اور ترکی میں امیر ہیں، افریقہ میں غریب!  عالمِ اسباب میں گاڑیاں ، طیارے اور میزائل وظیفے پڑھنے سے نہیں بننے کے۔ یہاں جو بڑھ کے اٹھا لے‘ مینا اسی کا ہے۔ ہمیں دشمن کے مقابلے میںاپنے گھوڑے تیار رکھنے کا حکم ہے۔ اگر تیاری نہ کی تو متقی لوگوں کی جماعت باطل پرستوں سے شکست کھا سکتی ہے۔ قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ اگر کلمہ پڑھنے سے عالمِ اسباب میں فایدے کے باب میں کچھ فرق محسوس ہو‘ تو کون کافر ہوگا جو کلمہ پڑھ کر فایدہ نہ اٹھائے۔ فایدے کا کلمہ کسے راس نہیں؟ ایسے میں ہدایت کیلئے قوانین ِ فطرت ہی کافی ہوتے اور انبیا کی بعثت کی ضرورت نہ ہوتی۔ عالم ِ اسباب ‘عالم ِ غیب پر ایک پردے کے حیثیت رکھتا ہے، اس پردے کی موجودگی میں انبیا کی ذات پر ایمان لانے سے غیب پر ایمان مکمل ہوتا ہے۔ 

اسی طرح اخلاقی قوانین کا معاملہ ہے۔ جو قوم یا فرد ان اخلاقی قوانین پر کاربند ہو جاتی ہے‘ اسے دوسروں پر اخلاقی فتح حاصل ہو جاتی ہے۔ دنیا کی امامت کرنے والی قوموں کے پاس عام طور اخلاقی فتح بھی ہوتی ہے۔ اخلاقی قوانین میں سر فہرست عدل و انصاف ہے۔ آپ معاشرے میں عدل و انصاف کی جادوئی چھڑی لے آئیں‘ چند عشروں کے بعد آپ کا معاشرہ خوشحال ہو جائے گا۔ آپ سچ بولنا شروع کر دیں‘ لوگ آپ پر یقین کریں گے، اور یہ  یقین credibility ہر قسم کے کاروبار کے لیے ایک اثاثہ بنے گی۔ بڑے بڑے مالیاتی  ادارے صرف کریڈیبلیٹی پر چل رہے ہوتے۔ اُدھر ہوا خراب ہوئی، اِدھر ہوا نکل گئی۔ اگر سیاست میں عدل آ جائے تو ملک کا سیاسی نظام بہتر ہو جاتا ہے، اگر قوانین پر عمل درآمد شروع ہو جائے تو معاشرتی نظام بہتر ہو جاتا ہے، اگر مادّی اور مالی قوانین پر پہرہ دیا جائے تو مادّی ترقی کے ثمرات ملنے لگتے ہیں۔ کلمے کا ثمر مرنے کے بعد ملے گا۔ کلمہ جس جنت کی چابی ہے‘ وہ قیامت قائم ہونے کے بعد ملے گی۔ یہ اندازِ فکر درست نہیں کہ ہم کلمہ پڑھنے والے ہیں، اس لیے ہمیں اس دنیا میں ہاتھ ہلائے بغیر خوشحالی میسر آجائے گی۔ 

 عدل و انصاف، ایفائے عہد اور راست گوئی وہ اخلاقی قوانین ہیں جن پر کلمہ پڑھے بغیر بھی لوگ عمل کر رہے ہیں، کتنی ہی قومیں ہیں جو کسی بھی الہامی ہدایت کو نہیں مانتیں لیکن انہوں نے اپنے ہاں ایک خوشحال وپُرامن ریاست قائم کر رکھی ہے، وہ مجموعی طور پر دھوکہ نہیں دیتے، جھوٹ نہیں بولتے اور ان کی عدالتیں انصاف مہیا کر رہی ہیں۔ صاحبِ نہج البلاغۃ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا قولِ حکمت ہے ’’حکومتیں کفر کے ساتھ تو چل سکتی ہیں لیکن ظلم کے ساتھ نہیں‘‘  عدل و انصاف وہ بنیادی اخلاقی قوانین ہیں ‘جو کسی قوم کو آگے بڑھ کر دوسری قوموں کی امامت کے لیے اخلاقی جواز مہیا کرتے ہیں۔ 

سبق پھر پڑھ صداقت کا عدالت کا شجاعت کا 

لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا

ہمارا دین ہمیں سچ بولنے کا صلہ آخرت میں بھی دینا چاہتا ہے، وہ ہمیں ہمارے نفس کے دھوکے سے بچانے کے لیے ہمیں بتا رہا ہے کہ جس نے دھوکہ دیا‘ وہ ہم میں سے نہیں ہے، بتایا جا رہا ہے کہ جس میں عہد نہیں‘ اس کا کوئی دین نہیں، جس میں امانت داری نہیں‘ اس میں ایمان نہیں… قرآن میں واضح حکم ہے’’ عدل کرو‘ یہ تقویٰ کے قریب ترین ہے‘‘ ، اور ہم ہیں کہ بس صوم و صلوٰۃ اور سر پرٹوپی کو تقویٰ کی علامت سمجھ بیٹھے ہیں۔ بابا بلھے شاہؒ ہمارے تقویٰ کا پردہ چاک کر گئے ہیں :  

سر تے ٹوپی تے نیت کھوٹی

وہ دین جو ہمیں انصاف سے بھی بڑھ کر عدل کے مقام پر فائز کرتا ہے ، اور پھر عدل سے ایک منزل آگے احسان کے مقام سے آشنا کرنا چاہتا ہے‘ ہم اس کے ابتدائی درجے ‘انصاف پر بھی قائم نہ رہ سکے۔ اسلام کے بنیادی اور آفاقی پیغامِ عدل و احسان کوخود مسلمان حکمرانوں نے کس بے دردی سے پامال کیا، اسلام ہی کے نام پر بادشاہتیں اور آمریتیں قائم کر لی گئیں،  ملوکیت میں سب سے پہلے عدل کا خون ہوتا ہے۔شاہانِ وقت ‘ میرٹ پامال کرنے کواپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں اور ہر شعبے میں نااہل کو اہل پر مسلط کر دیا جاتا ہے، ایسے میں معاشروں کو ترقی دینے والے جوہرِ قابل کہاں سے میسر آئیں گے۔

اپنی غلطیاں اپنی جگہ‘ لیکن من حیث القوم اپنی تحقیر کسی طور جائز نہیں۔ کلمے والے کسی نظام میں کمزور رہ سکتے ہیں، ان میں ہزار خامیاں ہو سکتی ہیں لیکن ان کی کامیابی کا حتمی ہدف آخرت میں کامیابی ہے اور یہی چیز ایک مسلم کو غیر مسلم سے ممتاز کرتی ہے، اسلئے ان کا تقابل غیرمسلموں سے نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ اور اللہ کے رسول ؐ سے محبت ہمیں غیر مسلموں سے جدا کرنے کے لیے کافی ہے۔ اللہ نہ کرے ‘ہمارا حال کبھی ان لوگوں کی طرح ہو‘جن کے متعلق جلال میں فرمایا گیا ہے’’کیا تم نے نہیں دیکھا‘جنہیں کتاب کا ایک حصہ ملا ہے اور وہ جبت اور طاغوت پر ایمان 


ای پیپر