”روح کو رُوح رواں رکھنے والا “
16 دسمبر 2019 2019-12-17

قارئین محترم ،روح کے بارے میں ، میں نے جوسلسلہ تحقیق وتشریح شروع کیا ہواہے، اس کے مطابق قرآن پاک میں سورة النساءمیں فرمان الٰہی ہے ”اے اہل کتاب اپنے دین میں غلو(یعنی حدسے زیادہ مبالغہ آرائی) نہ کرو اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کرو، مسیح عیسیٰ ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا، کہ اللہ کا ایک رسول تھا، اور ایک فرمان تھا، فرمان یعنی کلمہ، اللہ تعالیٰ کے ایک فرمان (کلمہ) حضرت مریمؑ کے رحم پہ نازل فرمایا، جس کی وجہ سے وہ بغیر شوہر کے حمل ٹھہر جانے کا سبب بنا۔ کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ تو کسی بھی چیز کے بنانے کے لیے ”کن“ کہتا ہے، تو وہ وجود میں آجاتا ہے، ”کن فیکون“ کہہ کر تخلیق کائنات وانسان کو تو بے شمار قدرت حاصل ہے، اللہ تعالیٰ نے اسی طرح حضرت مریمؑ کے لیے حکم نازل فرمایا ، اور وہ حمل سے ہو گئی، ارشاد قرآنی ہے، ایک رُوح تھی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے، جس نے مریم کے رحم میں بچے کی شکل اختیار کرلی۔ روح کا لفظی مطلب ہے، جان ، رسول پاک کی حدیث ، مسلم و بخاری کی روایت ہے، کہ جنگ بدر کے ایک مقتول کو ایک گڑھے میں ڈال دیا گیا تھا رسول پاک ایک دفعہ گڑھے کے قریب آکر کھڑے ہوئے، اور ان کے ناموں کے ساتھ فرمایا، کیا تم نے اپنے اللہ تعالیٰ کے وعدے کو سچا پایا ؟

حضرت عمرؓنے بارگاہ نبوی میں عرض کیا، آپ ان سے خطاب فرمارہے ہیں، جن کی لاشیں بھی سڑچکی ہیں، حضور نے فرمایا، اے عمر اس خالق برحق کی قسم جس نے مجھے رسول برحق بناکر معیوب فرمایا، میری بات کو وہ تم سے بھی زیادہ سنتے ہیں، مگر جواب دینے سے قاصر ہیں۔ حضور کا فرمان ہے، کہ جب لوگ مردے کو دفن کرکے واپس آرہے ہوتے ہیں تو مردے ان کے جوتوں کی آواز بھی سنتے ہیں، حضور نے اپنی امت کو یہ بھی تلقین کی ہے، جس پر ہم سب شاذ وناذ ہی عمل کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ جب مردوں کو سلام کریں، تو ان کا نام لے کر خطاب کریں، اور کہا کریں اسلام علیکم اے اہل ایمان تم پہ سلامتی ہو۔ تمام اسلاف وعاملین اس بات پہ متفق ہیں، مردے آنے والے کو پہچانتے ہیں اور انہیں دیکھ کر خوش ہوتے ہیں، اور اگر کوئی شخص صاحب میت کے قریب نماز پڑھتا ہے ، تو وہ اسے دیکھتا ہے، اور خوش ہوتا ہے، اور رشک بھی کرتا ہے ۔

قارئین کرام، یہ تحریر میں اپنی جانب سے نہیں، بلکہ تحقیق قرآن وحدیث ، امت مسلمہ کے مشہور اور دین کی شہرہ آفاق شخصیت علامہ حافظ ابن قیمؒکی کئی سالوں کی کاوش وکوششوں سے استفادہ حاصل کرنے کی سعادت حاصل کررہے ہیں۔

قارئین کرام، میں یہاں ضمناً عرض کردوں، کہ جس ملک میں حاکم صحیح معنوں میں مسلمان ہو، احکام دین پہ عمل پیرا ہو، اس کا نفاذ ملک میں نافذ کرے، وہ اسلام کو جنرل مشرف کی طرح ” روشن خیال“ نہ بنادے، اور نہ ہی وہ سعودیہ میں تبدیل شدہ ملک کا منظر وحالات اور ”ٹرمپ“ کے ایجنڈے پہ عمل نہ کرے، حالانکہ افغانستان میں امریکی ظلم وجبر کے نتیجے میں بقول رحیمی امریکی فوج پہ جوقہر الٰہی نافذ ہوا ہے اس کی وجہ سے امریکی جریدے Washington examinrنے حال ہی میں اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ افغان جنگ میں زخمی ہونے والے سینکڑوں امریکی فوجی اپنے اعضائے رئیسہ سے محروم ہوچکے ہیں، سینکڑوں امریکی فوجی افغان جنگ میں بچے نہ پیدا کرسکنے کی دائمی بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں، سینکڑوں امریکی فوجی جسم کے مختلف اعضا گنوانے کے بعد جنسی لحاظ سے بھی معذور ہوچکے ہیں اور ان کی تعداد 1367ہے، نفسیاتی معذور اس کے علاوہ ہیں، 2001سے امریکی وحشی افغان شہریوں کو بے آبرو کرنے پہ مصروف ہیں اسی بداخلاقی جنگی حکمت عملی کے تحت مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی ملوث ہیں اور بھارتی جنرل نے اس کا حکم دیا ہے، اگر آپ مجھے لکھنے کی اجازت دیں، تو ایسا حربہ امیر عبداللہ نیازی نے ڈھاکہ میں استعمال کیا تھا، جس کی وجہ سے بالآخر پاکستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا تھا، امریکی فوجی تو افغانستان میں اپنے کٹھ پتلی رینک افسروں کے ساتھ بھی ملوث رہے ، بلکہ وہ اور بعض ناخلف لوگ افغان لڑکیوں کو امریکی اڈوں تک خود بھی پہنچاتے رہے، اور ایسا کیوں ہوتا رہا، بقول سید مظفر علی شاہ :

ضرورت زندگی کی جو ہوا ہے

ہماری دسترس سے ماوراہے

بجا مرنا کوئی آسان نہیں ہے

مگر جینا بہت مشکل ہوا ہے

امریکی اڈوں پہ یہ سلسلہ تب بند ہوا، جب طالبان نے ان مراکز پہ فدائی حملے کرنے شروع کردیئے، مگر اس کے باوجود کابل شہر کے نواح میں کئی فائیو سٹار ہوٹلز ، شراب خانے، اور گرین ویلج اور ریسٹورنٹ بنانا شروع کردیئے اور وہاں عیاشی خانے بنا لیے۔ مجھے خدشہ ہے کہ میں اپنے موضوع سے ہٹ نہ جاﺅں، فی الحال اس بات پہ غور کریں کہ ٹرمپ کھربوں ڈالرز گنوا کر اور خود دیوانہ پن سے دیوالیہ پن میں کیوں مبتلا ہوگیا ہے، کہ اب وہ ہرقیمت پہ واپس اپنے وطن جانا چاہتا ہے۔ افغانستان میں یہ ابتلا اور وبال کیوں آیا تھا، صرف اور صرف اس لیے کہ شاہ افغانستان ظاہر شاہ کے دور میں دنیا بھر سے سیاح تفریح اور عیاشی کے لیے آتے تھے، جسے عرب کی بعض ریاستوں میں دنیا بھر سے سیاح اپنی شیطانی تسکین کے لیے وہاں لاکھوں کی تعداد میں آتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ بادشاہ کی بیوی دوبئی سے فرار ہوگئی ہے۔

کامیاب ریاست کے لیے اگر برطانیہ کے ونسٹن چرچل، اور فرانس کے صدر ڈیگال ”انصاف“ کو اتنی اہمیت دے سکتے ہیں، تو اسلامی مملکت میں عادل حاکم کا اثر یہاں تک ہوتا ہے، اس کی جھلک دیکھئے حضرت عمر ؓ کے دور میں ایک دفعہ ایک دور دراز جنگل وبیابان میں ایک بھیڑیں چرانے والے چرواہے نے اعلان کردیا کہ حضرت عمرؓ انتقال فرما گئے ہیں ، جب اس سے لوگوں نے پوچھا کہ تم تو دارالخلافے سے کوسوں میل دور ہو تمہیں کیسے پتہ چلا کہ خلیفہ وقت کا انتقال ہوگیا ہے، تو اس نے کہا کہ آج میری ایک بھیڑ کو بھیڑیئے نے کھالیا ہے، اس سے قبل کبھی بھی بھیڑیئے کو اتنی جرا¿ت نہیں ہوئی تھی۔ لہٰذا میرا دل گواہی دیتا ہے کہ ہمارا عدل وانصاف کرنے والا حکمران فوت ہوگیا ہے، اور قارئین اس چرواہے کی بات سوفی صد سچ نکلی .... واقعی حضرت عمرؓ انتقال فرما گئے تھے۔ ریاست مدینہ کی فلاحی مملکت کو بنانے کا مرحلہ اولین یہی ہے، کہ اس کے لیے لازم ہے، کہ انصاف کا نزول ونفاذ نیچے سے نہیں، اوپر سے ہو، تو خود بخود اللہ سبحانہ وتعالیٰ اس کی برکات وثمرات نیچے چوکیدار اور چرواہے تک بھی پہنچا دیتا ہے، حضرت علامہ اقبال ؒفرماتے ہیں :

”روح اسلام“ کی ہے نورخودہی، نارخودی

زندگانی کیلئے نار خود نوروحضور!


ای پیپر