وکیلواور ڈاکٹروکچھ شرم کرو رحم کرو!
16 دسمبر 2019 2019-12-17

ہم جب گورنمنٹ کالج لاہور جسے اب ”جی سی یو“ کہا جاتا ہے، میں پڑھا کرتے تھے، نامور صوفی دانشور اشفاق احمد کے پاس اُن کے گھر واقع (داستان سرائے) ماڈل ٹاﺅن لاہور جاکر بہت وقت اُن کے ساتھ گزارتے، اُن کی ”سیانی باتیں“ سنتے اور کسی حدتک اُن پر عمل کی کوشش بھی کرتے۔ وہ ایک بات بہت زور دے کر کہا کرتے تھے ” پاکستان کو جتنا نقصان پڑھے لکھے لوگوں نے پہنچایا ہے ان پڑھوں نے اُس کے مقابلے میں عشرِ عشیر بھی نہیں پہنچایا، .... یہ وکلاءگزشتہ ہفتے لاہور کے دل کے ہسپتال پر جو چڑھ دوڑے، اور وہ ڈاکٹر جو محض ان کے خوف سے مریضوں کو چھوڑ کر بھاگ گئے، اور جو مریضوں کو ہمیشہ ”گاہک“ کی نظروں سے دیکھتے ہیں، اور ان ڈاکٹروں اور وکیلوں کی بداخلاقیوں سے ملک کو عالمی سطح پر بدنامی ہورہی ہے، ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے، یہ سب کوئی ان پڑھ، جاہل تو نہیں ہم اپنی اس بات اور مو¿قف پر ڈٹے رہیں کہ اِس ملک سارے مسائل کی جڑ تعلیم کی کمی ہے، میرے خیال میں یہ کہنا خود ایک جہالت ہے۔ میرے نزدیک فساد کی اصل جڑ یہی تعلیم ہے جو تربیت سے مکمل طورپر محروم ہے۔ ہم جب چھوٹے تھے تعلیم کے ساتھ تربیت کا لفظ جُڑا ہوا ہوتا تھا، جب سے تعلیم سے تربیت اُٹھ گئی خالی تعلیم نے ہمارا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا، ہرتعلیمی ادارے کا اپنا ایک نصاب ہے، غریبوں کے لیے اور تعلیم ہے، دولت مندوں کے لیے اور ہے، بہت زیادہ دولت مندوں کے لیے اور ہے، اسی طرح ہمارے مدرسوں میں مذہبی حوالے سے کئی نصاب ہیں جو ہمیں مکمل مسلمان نہیں بنارہے، شیعہ ، سنی، وہابی ، دیوبندی، اللہ جانے کیا کیا بنارہے ہیں ؟۔ اور ہمارے حکمران بار بار یہ کہہ کر ہمیں اُلو بنارہے ہیں کہ ”ملک میں یکساں نظام تعلیم ونصاب ہونا چاہیے“ ....بھئی یہ کرنا کس نے ہے؟۔ خالی باتوں سے کام چل سکتا ہوتا ہمارے حکمرانوں خصوصاً ہمارے موجودہ وزیراعظم کی خالی باتوں سے پاکستان اب تک جاپان، چین اور جرمنی سے آگے نکل چکا ہوتا۔ یہ شعر ہمارے موجودہ حکمرانوں پر بڑا فِٹ بیٹھتا ہے ” یہ درست ہے کام چلایا باتوں سے ہم نے ....اگرچہ بات بھی آئی ہمیں بنانی کہاں“ .... یوں محسوس ہوتا ہے پورا معاشرہ حالت نزع میں ہے، کسی کو کوئی ہوش نہیں، کوئی ستو پی کر سویا ہوا ہے تو کوئی کچھ اور پی کر سویا ہوا ہے، سب اپنے اپنے حال میں اپنے اپنے مال میں مست ہیں۔ دوسری طرف غریب بے چارہ احتجاج کی سکت بھی نہیں رکھتا، وہ بے چارہ بس اللہ کی طرف دیکھ رہا ہے کہ کب موت اُس کی زندگی آسان کردے، جیسا کہ سیف الدین سیف نے کہا تھا ” موت سے تیرے دردمندوں کی .... مشکل آسان ہوگئی ہوگی“ ....اسلام میں خودکشی اگر جائز ہوتی، پاکستان میں غریب ، بے بس، مظلوم اور انصاف سے محروم لوگوں کے جو حالات بنے ہوئے ہیں آدھی سے زیادہ آبادی خودکشی کرچکی ہوتی، اس پر بھی نااہل حکمران یہ کریڈٹ لیتے، فردوس عاشق اعوان یا فیاض الحسن چوہان پریس کانفرنس کرتے کہ ” دیکھا ہماری حکومت نے آبادی کا مسئلہ کیسے حل کردیا۔“ ایک تو لوگوں کو روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں اوپر سے وہ اس خوف میں بلکہ بری طرح اس خوف میں مبتلا ہیں اُن کے ساتھ سرکاری یا غیر سرکاری طورپر کوئی ظلم زیادتی، ناانصافی ہوجائے تو کس کا دروازہ وہ کھٹکھٹائےں گے؟۔کوئی طاقت فوری طورپردکھائی نہیں دیتی جو فوری طورپر اُنہیں انصاف فراہم کرسکے، اُن کے زخموں پر مرہم رکھ سکے .... کسی ملک کا عدالتی نظام اُس ملک کے بے بس، مظلوم ولاچار لوگوں کے لیے بڑا حوصلہ واُمید افزا ہوتا ہے، ہمارے نظام عدل نے باقی سارے نظاموں کا بیڑا غرق کرکے رکھ دیا ہے، ہمارے ججز صاحبان فرماتے ہیں ”وہ قانون کے مطابق انصاف کرنے کے پابند ہیں“۔ وہ کون سی ”پارٹی“ کے قانون کے مطابق انصاف کرنے کے پابند ہیں ؟ یہ نہیں بتاتے۔ اس ملک میں سب سے زیادہ طاقتور ”پارٹی“ کون سی ہے، جس کی چلتی ہے، یہ راز اب کوئی ڈھکا چھپا نہیں رہا۔ ہماری عدلیہ زیادہ تر اُس قانون کے مطابق انصاف کرنے کی پابند ہے جسے جب چاہیں اپنی مرضی کا کوئی رنگ وہ دے لیتے ہیں۔ جیسے ہمارے اکثر مولوی صاحبان اپنی مرضی و مفاد کے مطابق دلیلیں ڈھونڈ کر اُنہیں قرآن و حدیث کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں، اور ہمارے اکثر جاہل عوام ان پر

آنکھیں بند کرکے یقین کرلیتے ہیں، کہتے ہیں کسی ملک کا صرف ایک نظام عدل درست ہو اس کے باقی سارے نظام خود بخود درست ہو جاتے ہیں۔ افسوس ہمارا نظام عدل درست ہونے کے بجائے بگڑتا جارہا ہے۔ اور اس سے جُڑے ہوئے باقی سارے نظام بڑی تیزی سے تباہی کے آخری دہانے کی جانب بڑھ رہے ہیں، اور اس ملک کے عدالتی، سیاسی، فوجی، انتظامی اور صحافتی ”نیروز“ اپنی اپنی شاخوں پر بیٹھے بانسری بجا رہے ہیں، کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے اس ملک میں چیف جسٹس کا عہدہ گزشتہ برس ہا برس سے خالی پڑا ہے، یہ جو کچھ وکیلوں نے کیا، اور جوکچھ ڈاکٹرز کرتے رہتے ہیں، کسی مہذب معاشرے میں ایسی مثالیں ملتی ہیں؟۔ اِس کے باوجود اس ملک کے وکلاءاور ڈاکٹرز یہ چاہتے ہیں دنیا میں اُن کی عزت ہو؟ ۔ پہلے اپنے ملک میں تو اپنی عزت وہ بنالیں، پھر دنیا میں بھی بن جائے گی .... فی الحال ان دونوں شعبوں کی وجہ سے دنیا بھر میں ہم ذلیل ہی ہورہے ہیں۔ ہمارے وکیلوں اور ڈاکٹروں کے درمیان بداخلاقی کی ایک دوڑ لگی ہوئی ہے، گزشتہ کچھ دنوں سے دونوں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں تھے، وکلاءکو مبارک ہو بداخلاقی کی یہ ”ریس“ اُنہوں نے جیت لی ہے، اب بداخلاقی کی بلند ترین چوٹی پر جاکر وہ کھڑے ہوگئے ہیں، اب جو چاہیں پاپڑ وہ بیل لیں، عدلیہ کے روایتی کردار سے جتنی چاہیں مدد وہ لے لیں، قانون کو گھر کی لونڈی کی طرح جتنا چاہیں وہ استعمال کرلیں، معاشرے میں تھوڑا بہت جو مہذب پن جو رہ گیا ہے اس نے اُنہیں مکمل طورپر مسترد کردیا ہے۔ اب وہ جہاں جائیں گے، خیر سے مزید بے عزت ہی ہوں گے،پہلے بھی اُن کے حالات کچھ اچھے نہیں تھے، لوگ اُنہیں اپنے گھر کرائے پر دینے سے پہلے ہزار بار سوچتے تھے، اُنہیں اپنی بیٹیوں یا بیٹوں کے رشتے دینے سے پہلے ہزار بار سوچتے تھے، اُن کے ساتھ کوئی لین دین کرتے ہوئے ہزار بار سوچتے تھے، حتیٰ کہ اُنہیں اپنے کیس دیتے ہوئے ہزار بار سوچتے تھے کہ وکیل صاحب اُن کی مخالف پارٹی سے کہیں مل تو نہیں جائیں گے؟ لاہور کے دل کے ہسپتال پر حملے نے معاشرے میں ان کی رہی سہی جو ساکھ تھی اُسے بھی راکھ میں ملا دیا ہے، کالی کرتوتوں کی طرح اب اپنے کالے کوٹ بھی یہ چھپاتے پھرتے ہیں، اتنا ظلم کسی مہذب معاشرے میں وکیلوں نے ایک ہسپتال پر حملے کی صورت میں کیا ہوتا وہاں کی عدلیہ ہماری عدلیہ کی طرح مصلحتانہ وزنانہ انداز ورویہ اختیار کرنے کے بجائے ذمہ داروکلاءاور ان کے حمایتیوں کو سبق سکھا دیتی۔


ای پیپر