حکومتی اتحادی بھی حکومت کیخلاف باتیں کر رہے ہیں:قمر زمان کائرہ
16 دسمبر 2019 (21:40) 2019-12-16

شیخوپورہ:پاکستان پیپلزپارٹی سینٹرل پنجاب کے صدر قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ چوہدری شجاعت حکومتی اتحادی ہوتے ہوئے بھی یہ کہنے پر مجبو کہ ر ہیں کہ اس ملک کو 2چارمہینوں میں سنبھالا تواے یہ اتنے بڑئے کیچڑ میں لے کر داخل ہوجائیں گے کہ پاکستان کو چلانے کے قابل ہی نہیں رہے گا۔

قمر زمان کائرہ نے کہا ساتھیوں ہم سب نے مستقبل کو بچانے کے لیے اس حکمران سے جان چھڑوانی ہے جس کی جدوجہد کا آغاز لیاقت باغ سے کیاجائے گا یہ سکینڈ فیز ہے جسکا آغاز27دسمبر کو ہوگا اوران شا اللہ مارچ میں مارچ کرکے اس حکمران سے جان چھڑوالینگے،اس سے جان چھڑوانی ہے سلیکٹیڈ سے جان چھڑواناان سے جان چھڑوانا اور ان کو اپنے کام پر لگانا ہے جو ان کی ڈیوٹی ہے،جو اپنی ڈیوٹی کریں،ایجنسیاں اپنی،سیاستدان اپناکام کریں،آج پاکستان کو اس کیچڑ سے نہیں نکال سکتے تو پھر یاد رکھوں اب پاکستان کی اپوزیشن بھی نہیں ہے،عالمی ادارے بھی کہہ رہے ہیں پاکستان کی قومی پیدوار گررہی ہے اگلے سال مزید گرجائے گی اور کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے ٹیکس پورے نہیں ہوسکتے،پاکستان کومزید قرضے لینے پڑیں گے،یہ روز ہمارے خلاف دعوئے کرنے والے پاکستان پیپلزپارٹی نے6ارب روپے کا قرض لیا،میاں نواز شریف نے14ہزار ارب روپے کا قرض لیا،انہوں نے پچھلے ایک سواسال میں 13ہزار ارب روپے کا قرض لے لیا ہے اور مزید قرض لینے ہیں،اس لیے جب پاکستان قرض کا ہدف پورانہیں کرپائے گا تو پیدوار بھی گرجائے گی،اورہماری مزید فیکٹریاں بند ہوجائے گی اورپاکستان میں مزید مہنگائی ہوجائے گی

قمرالزمان کائرہ کاکہناتھا کہ ان کی ناقص پالیسیوں پر پوری دنیا سراپا احتجاج اورحیران ہے،اورآج ہمارئے لیے لمحہ فکریہ یہ ہے،کہ پاکستان جس کرائسز کا شکار ہوگیا ہے،وہ بہت ہی گہرا ہے،پتہ نہیں ہم اس باہر آبھی سکتے ہیں کہ نہیں،لیکن یہ طے شدہ ہے،کہ آج پاکستان لوگ اوربیرونی طاقتیں بھی ایک ہی بات کررہیں ہیں کہ اگر پاکستان کی ساری سیاسی جماعتیں ساری طاقتیں،اکٹھے ہوکر سرجوڑ کر بیٹھے اور کام کریں توپھر شاید پاکستان بحران سے نکل جائے،انہوں نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو اپنی عورت سے صلح نہیں رکھ سکتا وہ اورباقیوں کے ساتھ کیسے صلح رکھ سکتا ہے۔

،انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بنک کہہ رہا ہے جو بیرون ملک پیسہ گیا جائز طریقہ سے باہر گیا ہے اور پاکستان واپس نہیں آسکتا، اسی لیے اب خان صاحب نے 200ارب روپے کانام لینا چھوڑ دیا ہے،10ارب ڈالر جو پاکستان سے باہر جاتا ہے،وہ جائز پیسہ ہے جوا ب بھی جارہا ہے اسے ہم نہیں روک سکتے،خان صاحب نے زندگی کی ہر چیز مہنگی کردی ہے،سبزیاں مہنگی،تیل،گیس اورجتنی بھی چیزیں مہنگی ہیں اورجتنی پالیساں بنائی ہیں یہ بات آپ سنتے ہیں تیل مہنگا کیا،اسکا اثر عام آدمی پر نہیں ہوگا،بجلی مہنگی کی اس کااثر عام آدمی پر نہیں ہونے دینگے،گیس مہنگی کی اس کا اثر عام عادم پر نہیں پڑنے دینگے،ٹیکس لگائے اس کااثر عام آدمی کی زندگی پر اثر نہیں ہوگا،عمران خان اب تو اسٹیٹ بنک کا گورنر کہہ رہا ہے،کہ پاکستان کی حکومت نے اب تک جتنی پالیسیاں بنائی ہیں اس کے اثرات عام افراد کی زندگی کومتاثر کررہی ہیں تلخیاں بڑھ گئیں ہیں،اور اسکا بہت بڑا شکار عام آدمی ہوا ہے


ای پیپر