جی ڈی اے کا چارٹر آف ڈیمانڈ
16 دسمبر 2019 2019-12-16

ڈیرھ سال حکومت کے بعد وزیراعظم عمران خان نے سندھ میں موجود اپنے سیاسی اتحادیوں کو ملاقات کا وقت دیا۔ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران جی ڈی اے رہنما ایاز لطیف پلیجو نے پندرہ نکاتی چارٹر آف ڈمانڈ پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ سندھ میں جہالت، کرپشن، تشدد اور خراب حکمرانی کے خاتمے کے لئے منصوبہ بندی کیا جائے۔ وفاقی ملازمتوں، ترقی اور صنعتی پیکیج کا اعلان کیا جائے۔ سی پیک میں پورا حصہ دیا جائے، سندھ میں غیر قانونی مقیم تارکین وطن کو واپس ان کے ممالک میں بھیجا جائے۔ پانی کی تقسیم میں سندھ کے ساتھ بین الاقوامی قانون کے تحت انصاف کیا جائے۔ دریائے سندھ پر کوئی ڈیم یا کینال نہ بنایا جائے۔

پیر پاگارا کی قیادت میں قائم یہ اتحاد مختلف بااثر افراد، گروپوں اور جماعتوں پر مشتمل ہے، جس کا ایک نکاتی ایجنڈا پیپلزپارٹی کی مخالفت ہے۔ یہ مخالفت بھی صرف انتخابات کے موقع پر کی جاتی ہے۔ اس کے بعد ہر فرد اور گروپ اپنے طور پر کام کرتا رہتا ہے۔ باقی تمام عرصہ غیر فعال ہونے کی وجہ سے اس اتحاد کی مربوط پالیسی بنتی ہے اور نہ عوام کے مسائل کے لئے آواز اٹھا پاتا ہے۔

جب انتخابات سر پر آتے ہیں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ سندھ میں کوئی موثر متبادل نہیں۔لہٰذا پیپلزپارٹی کو ہی قبول کر لیا جاتا ہے۔پیپلزپارٹی پر ایک طرف یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ وڈیروں کی پارٹی ہے، لیکن اس کے متبادل کے طور پر آنے والے پیپلزپارٹی سے بھی زیادہ وڈیرے ہیں۔ سیاسی طاقت زمینداروں، گدی نشینوں کے گرد گھومتی ہے جو صرف اپنے سیاسی اور معاشی مفادات کو ہی دیکھتے ہیں۔ ان میں سے کچھ پیپلزپارٹی میں ہیں کچھ اس کے مخالف لابی میں ہیں۔ ایسے میں کوئی نئی لہر جو عوام کو پرانی زنجیروں سے آزاد کر پائے ایک خواب سا لگتا ہے۔ یہ دلچسپ امر ہے کہ وفاقی حکومت میں سندھ سے حکومت کے پارلیمانی اتحادی ایم کیو ایم اور فنکشنل لیگ جبکہ قومی عوامی تحریک وغیرہ صرف سیاسی اتحادی سمجھی جاتی ہے۔

وفاقی حکومت کے حامی گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ اس اتحادنے دو انتخابات لڑے لیکن اسے کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ ہوتی بلکہ وقت کے ساتھ اس کی مقبولیت میں کمی آئی ۔ اسمبلی میں اس کی نشستیں کم ہوئیں، ووٹ بینک سکڑا۔ یہاں تک کہ اتحاد میں شامل جماعتوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی۔ اب صوبائی خواہ قومی اسمبلی میں اس کی چھوٹی سی نمائندگی ہے۔ سیاسی طور پر قومی عوامی تحریک کے سرگرم ہونے کی وجہ سے نظرآتا ہے جن کی خواہش ہے کہ یہ اتحاد انتخابات کی موسم کے علاوہ بھی نظر آئے۔ ایاز لطیف پلیجو جی ڈی اے کے باقی افراد سے مختلف ہیں، ان کی تربیت سیاسی کارکن کی ہے، جو عوام کو سرگرم کرتا ہے اور اس سے رول ادا کراتا ہے۔ جبکہ اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں و افراد ان سے مختلف ہیں۔ جن کو عوام صرف انتخابات کے موقع پر ہی یا آتے ہیں۔ ایاز لطیف پلیجو کو گرینڈ نیشنل الائنس میں رہ کر کئی چیلینجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف وہ خود اور یہ اتحاد سندھ کے عوام کے بھلے کے لئے کوئی موثر کردار ادا نہیں کرپارہا ہے۔ اس کی وجہ اس اتحاد میں شامل افراد و گروپوں کی روز مرہ کے مسائل سے لاتعلقی ہے، وہ خود کو صرف پارلیمنٹ کی حد تک محدود رکھے ہوئے ہیں لیکن وہاں بھی کوئی موثر کردار ادا نہیں کر رہے ہیں۔ دوسرا یہ کہ ان اپنی ترقی پسندانہ امیج کو نقصان پہنچ رہا ہے کیونکہ وہ ایک ایسے اتحاد کا حصہ ہے جو سندھ میں رجعتی سیاست کی علامت سمجھے جاتے ہیں اور جمہوری حکومتوں کو خلاف رہے ہیں۔ ایاز لطیف پلیجو کو مشکل صورتحال درپیش تھی لہٰذا انہوں نے حال ہی میں جی ڈی اے کے ایک وفد کے ساتھ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کر کے انہیں 15 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔ یہ درست ہے کہ یہ چارٹر ایاز لطیف پلیجو یا س طرح کے دیگر افراد نے اپنی سیاسی ساکھ بچانے کے لئے کیا لیکن یہ حکمران جماعت تحریک انصاف کو یاد دلاتا ہے کہ وہ سندھ کے عوام کو درپیش سنجیدہ مسائل ہیں جس میں وفاقی حکومت کا بھی رول ہے۔ بظاہر ان مسائل کو وفاقی حکومت پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت کے کھاتے میں ڈال کر اپنی ذمہ داریوں سے بری ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔

وزیراعظم کو پیش کئے گئے ان مطالبات کے حوالے سے دو باتیں انتہائی اہم ہیں۔ اول یہ کہ یہ مطالبات ٹھوس شواہد، اعداد و شمار اور ان کے حل کے فریم ورک کے بغیر پیش کئے گئے ہیں۔لہٰذا ان مطالبات پر سنجیدہ غور کا امکان کم نظر آتا ہے۔ دوم یہ کہ ان مطالبات کو گرینڈڈیموکریٹک الائنس کی اعلیٰ قیادت اور دیگر اہم اراکین کی کتنی حمایت حاصل ہے؟

چارٹر آف ڈیمانڈ میں تیل، گیس کے قدرتی وسائل کی آمدنی سندھ کو منتقل کرنے کامطالبہ اہم ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد قدرتی وسائل صوبائی اختیار ہے پھر وفاق اس کی انتظام کاری اور کنٹرول کے لئے محکمے اور ادارے کیوں باقی رکھے ہوئے ہے؟ ان شعبوں ابھی تک وہ فیصلے کئے جارہے ہیں جن کا انہیں آئینی طور پر اختیار ہی نہیں۔ لاڑکانہ میںایچ آئی وی پھیلنے کی ہنگامی صورتحال پر وفاقی حکومت نے کوئی قدم نہیں اٹھایا۔گرینڈ الائنس نے وفاقی حکومت سے مداخلت کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک اور مطالبہ پسماندہ علاقوں کی ترقی میں وفاقی حکومت کے رول سے متعلق ہے۔ تھر میں قحط ، بارشوں کی تباہی اور ٹڈی دل کے حملے کی ہنگامی صورتحال پر بھی وفاق کا رول نظر نہیں آیا ۔ مطلب اگر سندھ میں کہیں ہنگامی صورتحال بھی پیدا ہوتی ہے تو وہاں بھی وفاقی حکومت نہیں پہنچتی۔ سندھ کے بارے میں جو مطالبات جی ڈی اے نے پیش کئے ہیں وہی مطالبات پیپلزپارٹی بطور پارٹی اور صوبائی حکومت کے وقت بوقت وفاق سے کرتی رہی ہے۔

اگر ان مطالبات کو فریم ورک میں لایا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ وفاق نے سندھ میں ترقایتی منصوبوں کے لئے تحریک انصاف حکومت نے کم پیسے مختص کئے۔ مشترکہ مفادات کی کو ونسل اور قومی مالیاتی کمیشن کے اجلاس نہیں بلائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اس چارٹر آف ڈیمانڈ پر کوئی تبصرہ کیا اور نہ کوئی کمیٹی بنائی۔ ایسے میں جی ڈی اے سندھ میں سیاسی ساکھ کھونے لگے گا۔


ای پیپر