انتہا پسندی کہاں سے کہاں تک
16 دسمبر 2019 2019-12-16

وقت کرتا ہے پرورش برسوں

حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

حالیہ دنوں میں لاہور میں دل کے ہسپتال میں جو ہوا اس کی مثال کم از کم ہسپتالوں کی تاریخ میں تو نہیں ملتی۔ جس دن PIC کی OPD میں وکلاء پر ہسپتال کے عملے نے تشدد کیا تھا۔ اتفاق سے میں اور میرا بیٹوں جیسا دوست عثمان غنی ایڈووکیٹ PIC گئے تھے۔ مجھے وحید اسسٹنٹ ٹو ڈاکٹر احمد نعمان اور ڈاکٹر محمد اظہر کی والدہ کا افسوس کرنا تھا اور اپنے عزیز درویش منش ڈاکٹر شکیل قادر صاحب سے ملنا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے فون پر بتایا کہ اُن کی ڈیوٹی OPDمیں لگ گئی ہے لہٰذا وہاں آجائیں۔ ابھی میں OPD کے گیٹ پر تھا تو گیسٹ بند تھا لوگ کھڑے تھے استفسار پر کہ گیٹ کیوں بند ہے ملازمین نے گیٹ تھوڑا سا کھول دیا میں اندر قدم رکھ ہی چکا تھا کہ سامنے سے چند وکلاء گولی کی رفتار سے بھاگتے ہوئے آ رہے تھے، پیچھے انہیں مارنے والے تھے کہ گیٹ بند ہو گیا اور مجھے عثمان غنی نے بازو سے پکڑ کر واپس کھینچا کہ سر آپ اندر نہ جائیں البتہ گیٹ بھی بند تھا میں نے ڈاکٹر کو فون کیا انہوںنے پوچھا کہ آپ نے کالی پینٹ تو نہیں پہنی ہوئی میں نے کہا سفید شرٹ بھی ہے تو بولا کہ اندر نہ آئیے گا ادھر وکلاء کے ساتھ جھگڑا ہے، ہنگامہ جاری ہے اس حوالے سے ویڈیوز وائرل ہو گئیں اس کے بعد کے واقعات پر بھی خصوصاً ہر چینل پر خوب زیر بحث رہے۔ یہاں تک کہ وکلاء کو اپنا دفاع کرنا مشکل ہو گیا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے ہسپتال ہی تھی مریض تھے ورنہ ڈاکٹروں کے رویے اور کمالات سے کون واقف نہیں۔ حکیم لقمان کی پیروی کن کے ہاتھ آ گئی۔ دوسری جانب حضرت جعفر طیارؓ جو حبشہ کے شہنشاہ نجاشی کے دربار میں ہجرت حبشہ کے موقع پرمسلمانوں کے وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے مسلمانوں کا مؤقف بیان کیا وہ مؤقف بیان کرنا دراصل مسلمانوں کی وکالت تھی جس طرح دوسری انسانی خدمات پیشوں میں بدلتی چلی گئیں اسی طرح اسلامی نقطہ نظر سے حضرت جعفر طیارؓ کا بھی عصرحاضر میں پیشہ کی صورت اختیار کر گیا۔ طبیب ہونا بھی فقر کی ایک صفت تھی اور فقر بھی دکھی انسانیت کے روحانی علاج کا ایک طریقہ تھا جو بعد ازاں پیشے بن گئے آج عاملوں، بابو اور روحانی لوگوں کے بل بورڈ لگے دکھائی دیتے تھے اور مسیحائی بھی برائے فروخت ہے۔ مظلوم کی زبان بننا عبادت ہے یہ عبادت کبھی وکلاء کا خاصہ تھا۔ مسیحائی ایک انمول مرتبہ تھا جو وقت کے ساتھ ساتھ پیشہ بن گئی۔ مریض گاہک اور مؤکل مظلوم در مظلوم ہو گئے۔ حضرت لقمان اور جعفر طیارؓ کی پیروی کرنے والوں نے اس کو پیشے کے طور پر استعمال تو کیا مگر وطن عزیز کچھ اس انداز سے کہ انسانیت شرما جائے بلکہ حیوانیت بھی خاموش ہو جائے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے 25 سال پہلے نئی نئی وکالت شروع کی تو سینئر وکلاء اداس ہو جایا کرتے کہ یہ پیشہ اب پہلے جیسا نہیں رہا لیکن ان وقتوں میں مجسٹریٹ دفعہ 30 کی عدالت بھی عدالت لگتی تھی۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور سیشن جج کی عدالتیں کمال درجہ کی عظمت کی عکاس تھیں ججز اور وکلاء کے انداز قابل تحسین و ستائس ہی نہیں قابل تقلید تھے۔ وکلاء کبھی تھانوں میں سرکاری دفاتر میں نہیں جایا کرتے تھے اور یونیفارم میں تو بالکل نہیں جایا کرتے۔ عدالتی وقت کے بعد کوئی وکیل اپنے یونیفارم میں نہیں رہتا تھا۔ مگر بیوروکریسی، اداروں اور حکمران طبقوں کی بے حسی نے وکلاء ہی کہا معاشرے کے ہرشعبے کے لوگوں کو سڑک پر آنے کے لیے مجبور کیا یہاں تک کہ معاشرت تباہ ہو گئی۔ پھر مشرف کا دور آیا کہ رات کے دو بجے بھی یونیفارم نہیں اتارا گیا۔ شادی بیاہ بھگتائے گئے جبکہ دوسری جانب جعلی ادویات، جعلی ڈاکٹر پرائیویٹ ہسپتال ولیمہ ہاؤس بن گئے سرکاری ہسپتال قتل گاہیں بن گئیں ڈاکٹروں کے رویوں کے سامنے فرعون معصوم دکھائی دیتے گئے۔ یہ سب انتہا پسندی اوپر سے شروع ہوتی ہے جب ایک طالع آزما ڈنڈے کے زور پر 10، 3، 11، 9 سال کے لیے بلا جواز آجائے تو پھر لوگ سہمتے ہیں کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس ستم ظریفی یہ ہے کہ ڈکٹیٹرز پھر مشورہ کرتے ہوں گے لیکن جمہوری رہنما کی خوشامد پسندی کی نویں آسمان پرپہنچ جاتی ہے۔ بیوروکریسی کے اعلیٰ افسران کو ریٹائر ہونے پر پتہ چلتا ہے کہ ٹماٹر کا کیا بھاؤ ہے ، گوشت کا کیا ریٹ ہے ، بجلی کے بل ، سوئی گیس کے بل، پٹرول کتنے کا لیٹر ہے یہی حال عدلیہ کے لوگوں کا ہے یہ تو خیر رائڈر آف دی نیشن ہیں ایف آئی اے بنائی گئی اُس کے ماتحت آنے والے محکمے اُس کی چراہ گاہ بن گئے ایف آئی اے کو کوئی پوچھنے والا نہ تھا نواز شریف اپنے دوسرے دور میں اس حکم کو ختم کرنے لگے تھے کہ اس کا کچھ فائدہ نہیں البتہ اگر ختم کریں تو کرپشن کم ہو سکتی ہے جبکہ نقصان کوئی نہیں، کسٹم انٹیلی جنس ، اینٹی سمگلنگ نے سمگلنگ کو بڑھاوا دیا، اینٹی کرپشن نے کرپشن کو بڑھاوا دیا۔ پھر نیب گی قیامت صغریٰ سیاسی مخالفین کو دبانے کے لیے متعارف ہوئی اس نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا عدلیہ کی آزادی کی تحریک نے عدلیہ کو غلام بنا دیا ۔ جج بولا نہیں کرتے مگر میڈیا پر چھانے کا ایسا رواج ہوا کہ سوموٹو، ریمارکس اور صوابدیدی اختیارات قوانین کی نئی تشریح اور صدیوں کے رائج قانون کے سکیم بدل دیئے گئے پھر ردعمل ہوا کہ عدلیہ آزادی کی تحریک میں وکلاء سیاسی طور پر استعمال کیاگیا۔ اس کے بعد پھر جب جمہوری حکمرانی کا دور شروع ہوا تو 126 دن کے دھرنے میں پارلیمنٹ ، عدلیہ، انتظامیہ ڈھیر ہو گئے۔ کسی کی عزت محفوظ نہ رہی۔ سارا معاشرہ میڈیا پر آ گیا۔ چند لوگ اکٹھے ہوئے سڑک بلاک کی اور حق اظہار رائے کے نام پر تباہی مچا کر رکھ دی۔ حکومتی ترجمانوں اور وزراء کے بیانات مولا جٹ، نوری نت اور کامیڈی شو کو پیچھے چھوڑ گئے۔ وزیراعظم مخالفین کی نکلیں اتارنے لگے۔ سیکڑوں میڈیا چینلز ہیں اور سچائی ناپید، ڈھٹائی، بے حسی، خوف، لاقانونیت، میڈیا فوبیا، نفرت، حسد، مخالفت نے ہمارے رویوں کو انسانی معاشرے کی حدوں سے باہر نکال دیا۔ مہنگائی ، بیروزگاری، بے بسی، بے کسی، بے انصافی ، بے روزگاری نے عوام کا کچومر نکال کر رکھ دیا۔ تشدد اور تشدد انتہا پسندی اور بس انتہا پسندی ہر فرد کا روز گار بن گیا۔ آج چپڑاسی سے لے کر وزیراعظم اور صدر تک، سپاہی سے آئی جی تک، بابو سے چیف سیکرٹری تک کوئی ایک نہیں جو انتہا پسندی کے 107بخار میں مبتلا نہ ہو۔ لکھاریوں کی قلمیں ، کرپانیں بن گئیں، حکمرانوں کی زبانیں قوانین بن گئیں، زندگی کی بنیادی ضروریات عوام کی حسرتیں بن گئیں، ایسی ابتری میں نے تو اپنی زندگی میں دیکھی نہ سنی۔ جب تک قانون کی حکمرانی نہیں ہوتی ادارے، عوام، پیشے اور پیشہ ور آپس میں گھمسان کے رن میں مبتلا رہیں گے۔ حکمران اپوزیشن بھی کرنا چاہتے ہیں اور حکومت بھی جبکہ ان پر ذمہ داری ہے کہ بکھرے ہوئے عوام کو قوم بنائیں۔ سانحہ پی آئی سی ہسپتال میں انتظامیہ ، صوبائی حکومت اور پولیس کی مجرمانہ غفلت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔


ای پیپر