داغ
16 دسمبر 2019 2019-12-16

ہمیں یہ تو معلوم نہیں کہ ریاست کے وہ شہری جو ایک سرکاری ہسپتال میںشرپسندوں کے حملے کے نتیجہ میں جاں بحق ہوئے وہ کس کے ہاتھوں پے اپنا لہو تلاش کریں گے کیونکہ اس بلوہ میں شریک زیادہ تر افراد کا تعلق تعلیم یافتہ طبقہ سے تھا جن سے کسی بے گناہ انسان کی جان لینے کی توقع تو نہیں رکھی جا سکتی، بالخصوص وہ افراد جو حالت مرگ میں ہوں ان سے ہمدردی کی بجائے انکی جان لینے کا ماحول پیدا کرنے کا خیال کیونکر ان کے دل میں آسکتا ہے،لیکن چشم فلک نے دیکھا کہ زندان لاہور کی سرزمین پرتعلیم یافتہ گروہوں کی نذر وہ مریض ہو گئے جو دل کے عارضہ میں مبتلا تھے،اس معرکہ آرائی کو پورے عالم نے بچشم خود دیکھا،لواحقین کی آہوزاری،بھگدڑ کا عالم، اس سارے منظر نامے نے ہمارا مہذب قوم ہونے کا بھرم ختم کر دیا ،کیا اب کسی کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ ہمارا نظام تعلیم اچھے افراد تیار کر رہا ہے،اگر معیار گریجویشن ہی ہے تو بر سر پیکار افراد اس پیمانے پے پورے اتر رہے تھے، اگر معاملہ طاقت کے اظہار کا تھا مقابلہ تو ناتواں نے خوب کیا والا منظر تھا، اگر اپنی اپنی سپرمیسی کا کسی کو زعم تھا تو بھی اس سانحہ نے سب عیاں کر دیا ،ریاست کی رٹ کو چیلنج کر کے زیادہ طاقت ور ہونے کا برملا عندیہ دیا گیا، اس کے اندر اپنی ریاست قائم کر کے ازخود بدلہ لینے کی نئی طرح ڈالی گئی، یہ سب کچھ معزز اراکین بار کے ہاتھوں انجام پایا ہے جو انصاف کی فراہمی کے علمبردار جانے جاتے ہیں، اس سے بڑا المیہ یہ ہو گا کہ بیچارے لواحقین کو انصاف لینے کے لیے بھی ان کی مدد درکا رہو گی جنہوں نے انکے پیاروں کو موت کی نیند سلا دیا ہے، اگر یہ بھی صاحب ثروت ہوتے تو اپنے علاج کے لیے دیار غیر سدھار جاتے جہاں اس نوع کے بلوہ کے حملہ کا کوئی شائبہ تک نہ ہوتا، جن کی آنکھوں کے سامنے کسی کی بہن، بھائی اور ماں نے دم توڑا ہے انھیں کیسے قرار آئے گا، یہ خود سے سوال کریں گے کہ وہ آئین پاکستان کہاں ہے جس میں بلا امتیاز شہریوں کے بنیادی حقوق کی فراہمی کا تذکرہ موجود ہے، جن عدالتوں میں اسکی پاسداری کا چرچا کیا جاتا ہے ، ان مریضوں کی ناک سے آکسیجن کے ماسک کھینچنے والے وہی نہیں تھے جو اس آئین کی حرمت پے مٹ مرنے کے لیے تیار ہوتے ہیں؟ پھر اس روز انھیں کیا ہوا کہ انھوں نے انسانیت ہی اپنے پیروں تلے روندڈالی، وہ کیاخوف ناک منظر تھا جب بے بسی میں مریض اور مسیحا اپنی اپنی زندگی کی بقا ء کے لیے بھاگ رہے تھے،ہمارا گمان ہے اگر دشمن ملک کی افواج بھی خدانخواستہ حملہ کرتی تو وہ بھی کم از کم ہسپتال کے ان مریضوں کا ضرور خیال کرتی۔

کہا جاتا ہے کہ قوم کے ان مسیحائوں اور بار کے ممبران کے مابین تلخی کا سب کو اندازہ تھا برا ہو سوشل میڈیا کا جس نے آگ پر تیل کا کام کیا اور بے گناہ انسان بے بسی کے عالم میں موت کے منہ میں چلے گئے،لیکن اس ساری کہانی میں وہ بڑے کہاں گم ہوگئے جو ان کی سرپرستی اور قیادت کا دعوی کرتے تھے، وہ اس نازک صورت حال سے کیوں بے خبر رہے ؟کیا ان فرائض میں شامل نہ تھا کہ ان سب کو ایک میز پر بٹھا کر معاملہ رفع دفع کرواتے اور عین اس وقت جب یہ لشکر چڑھائی کرنے جارہا تھا ان کے عزائم اس وقت بھی سوشل میڈیا سے عیاں تھے تو ان کو حرکت میں آنا چاہیے تھا، فی زنانہ روابط قائم کرنا کون سا مشکل تھا، جب پورا عالم ان کے غضب ناک ارادے دیکھ رہا تھا تو انکی قیادتیں کیوں لا علم رہیں؟ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی اس سرگرمی سے صرف نظر کرتے دکھائی دیئے تاآنکہ اس گروہ نے سات کلومیٹر کا پیدل سفر طے کر کے شفاخانہ پر حملہ کر دیا، ہمارا میڈیا جو پل پل کی خبر سے آگاہ کرتا ہے اس پر مقتدر حلقوں نے کیوں کان نہ دھرے؟ ان سوالات کا جواب ان تمام پے قرض ہے جو ان مریضوں کی موت کا سبب بنے۔وہ وزاء کرام جنہوں نے اس جھگڑے میں کود کر معاملہ کو ٹھنڈا کرنے کی کاوش کی لائق تحسین ہیں اگر اس سے قبل وہ متحرک ہو جاتے تو اس قوم کو بڑی شرمندگی سے بچا لیتے۔

عوامی سطح پر کالے کوٹ والوں کے خلاف کافی غم وغصہ پایا جاتا ہے،ہرچند انکے ’’پیٹی بھایئوں‘‘ کا یہ کہنا ہے کہ حملہ آور وکلاء کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں لہذا سب کے بارے میں اک رائے قائم کرنا درست نہیں ،ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ ان صاحبان کی تعداد بھی انگلیوں پے گنی جاسکتی ہے جو اپنے رفقاء کے اس فعل کی مذمت کرنے کاحوصلہ کر رہے ہیں، غالب تعداد نے تو اخلاقی طور ان لواحقین سے اظہار ہمدردی بھی نہیں کیا جن کے عزیز اس دنیا سے رخصت ہو گئے، عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ اس برادری میں بہت سے ایسے افراد بھی موجود ہیں جن سے انکی اپنی برادری کی عزت محفوظ خیال نہیں کی جاتی اب یہ بھی’ لشکر‘‘ کی سی صورت اختیار کرتے جارہے ہیں، ان باتوں کا تذکرہ میڈیا پے وکلا ء برادری ہی سے سننے کو ملا،اگر اس طرز کی صورت حال ہے کہ ہر طبقہ اس ریاست میں اپنی ریاست بنا کر اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے قانون کو ہاتھ میں لیتا ہے یا دھونس دھاندلی سے کمزور کو دبانے کے لیے اپنے عہدہ کا استعمال کرتا ہے تو ان ذمہ داران کو اس سے آگاہ ہونا چاہیے جو گورننگ باڈی کو کنٹرول کرنے کا اختیار رکھتے ہیں اگر اس سے پہلے انکو من مانی پر روکا ہوتا تو آج وکلاء برادری کی یہ سبکی نہ ہوتی،وقت تو اپنی رفتار چل چکا ،جانے والے بھی رخصت ہوئے لیکن وہ اک پیغام ہمارے نام کر گئے کہ اگر اب بھی آپ نے اس دشت گردی پے چپ سادھ لی تو پھر ہر فرد قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے میں کوئی عیب محسوس نہیں کرے گا،اس سے کسی کو بھی انکار نہیں کہ اگر بروقت معاملہ کی سنگینی کا اندازہ لگا لیا جاتا تو اس بڑے حادثہ سے بچا جا سکتا تھا ۔

شاید یہ پہلا واقعہ نہیں جس نے قوم میں اضطراب پیدا نہ کیا ہو،آرمی پبلک سکول پے حملے سے لے کر، ساہیوال کے سانحہ تک، اور ماڈل ٹائون میں دہشت گردی سے لے کرنقیب اللہ کے قتل تک کے نتائج اور انصاف کی خواہش ہر محب وطن شہری اپنے من میں رکھتا ہے،جب بڑے لوگوں کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لئے غیر معمولی انتظامات کئے جاتے ہیں توعام شہری مایوس ہو جاتا ہے، اسکا ایمان پختہ ہو جاتا ہے کہ یہاں عدالتیں افراد کی سماجی حثیت کو سامنے رکھ کر انصاف فراہم کرتی ہیں، کیا ہی اچھا ہوتا کہ محترم چیف جسٹس اس واقعہ کا از خود نوٹس لیتے اور وکلاء کی بڑی تعداد ان بے گناہ افراد کو انصاف فراہم کرنے کے لئے مفت اپنی خدمات پیش کرتی تو ان کے بارے میں سماج میں نرم گوشہ ضرورپیدا ہوتا، اس سنہری موقع کو ضائع کر دیا گیا ہے انکی پیشانی پر یہ داغ اس وقت تک رہے گا جب تک عدالتوں کی طرف سے مرحومین کو انصاف نہی مل جاتا،دیکھنا یہ ہے کہ اب کون کس کو پیارا ہوتا ہے اور کون انصاف کے کٹہرا میں کھڑا ہوتا ہے۔ یہ بال اب قوم کے مسیحائوں اور قانون کے رکھوالوں کی کورٹ میں ہے۔


ای پیپر