ہم بھٹک گئے ہیں
16 دسمبر 2019 2019-12-16

سانپ کا شمار زہریلے حشرارت الارض میں ہوتا ہے۔ ڈسنا اس کی فطرت اور جبلت میں شامل ہے۔ بڑے سے بڑا پہلوان، مضبوط اعصاب کا مالک شخص، طاقتور اور بارعب انسان سانپ کا نام سنتے ہی دہل جاتا ہے۔ اس کا لاشعور میں سمایا سارا خوف اور موت کا ڈر یک بارگی سمت اس کے شعور میں آجاتا ہے۔ اس کا تحت الشعور اس وقت اس کا ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ میں نے سانپ میں تین خوبیاں دیکھی ہیں اور گاہے گاہے تجربہ کر کے ہوش ربا نتائج بھی اخذ کیے ہیں حالانکہ میں ماہر حیوانات نہیں ہوں (مگر میں جس سماج اور معاشرے کا باسی ہوں وہ حیوانوں سے بھی بدتر معاشرہ ہے)۔ سانپ کی پہلی خوبی یہ ہے کہ اگر کوئی حاملہ عورت سانپ کو دیکھ کر چیخنا چلانا شروع کر دے تو سانپ اپنی آنکھیں بند کر کے وہاں سے رفو چکر ہو جاتا ہے بلکہ بعض نام کے انسانوں کی رائے ہے کہ وہ اندھا ہو جاتا ہے۔ میرے اس تجربے اور قول سے بہت سے لوگ اتفاق رائے کا اظہار کریں گے۔ دوسری بات سانپ دودھ کا بہت شوقین ہے۔ (اس کو بھی بہت نام نہاد انسانوں کی طرح بھینسوں کا دودھ پینے کی رعایت ہے) جس گھر میں سانپ بسیرا کر لے اور وہاں سے جانے کا نام نہ لیں (حالانکہ سانپ کا تعلق قبضہ مافیا سے نہیں ہے اور نہ ہی اسے بحریہ ٹاؤن اور لینڈ مافیا سے کچھ لینا دینا ہے) تو گھر کے باسی کسی کونے میں تھوڑا سا دودھ نمک ڈال کر رکھ دیں تو سانپ دودھ پی کر اس گھر کی دہلیز پر چھوڑ جائے گا۔ تیسری اور آخری خوبی جس کا راقم الحروف چشم دید گواہ ہے کہ سانپ بچوں کے ساتھ کھیلتا ہے۔ دیہاتوں میں اکثر کئی بار ایسا ہوتاہے کہ ماں بچے کو جھولے میں ڈال کر مال ڈنگر والی حویلی یا کھیتوں میں چلی جاتی ہے، واپس آ کر کیا دیکھتی ہے کہ بچہ سانپ کے ساتھ کھیل رہا ہے ۔ کسی بڑے کو دیکھ کر سانپ فوراً کسی کونے کھدرے کی راہ لے لیتا ہے اور دیکھنے والا دیکھ کر حیران و ششدر رہ جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت انگشت بدنداں ہو کر رہ جاتا ہے۔

قارئین مجھے اس بات کے کہنے میں کوئی عار اور تکلیف محسوس نہیں ہو رہی کہ ہم جس معاشرے میں رہ رہے ہیں وہ حیوانوں سے بھی بدتر معاشرہ ہے۔ مجھے اس معاشرے کو انسانوں کا معاشرہ کہتے ہوئے گھن آتی ہے۔ جنگل کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے۔ غیر مسلم معاشرے میں بھی اخلاقیات ہوتی ہیں۔ اس معاشرے میں بھی انسانیت پائی جاتی ہے۔ غیر مہذب اور غیر ترقی یافتہ معاشرے میں بھی کوئی قاعدہ اور کلیہ ہوتا ہے۔ چرند اور پرند کی زندگیوں میں بھی کوئی اصول کار فرما ہوتا ہے مگر ہم تمام حدیں پار کر چکے ہیں اور ہمارے اندر انسانوں کی بجائے درندوں نے جنم لیا ہے۔

حملہ کسی ہسپتال پر ہو یا کسی تھانے پر، ہاتھ کسی غریب پر اٹھے یا امیر پر، بال فیاض الحسن چوہان کے کھینچے جائیں یا دشمن کے، ٹانگوں سے پکڑ کر کسی وزیر کو گھسیٹا جائے یا ووٹر کو، جوتا کسی وزیراعظم کو مارا جائے یا کونسلر کو ، گریبان کسی قاضی کا پکڑا جائے یا مدعی کا، دنیا کا کوئی آئین اور قانون انسان کو دست درازی اور زبان درازی کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ اگر ملک عزیز کے علاوہ کسی ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے میں ایسا عمل ظہور پذیر ہوا ہے یا کوئی آلہ کار بنا ہے تو اس ملک کے آئین نے اسے آڑے ہاتھوں لیا اور آئندہ ایسا فعل دہرانے کی کسی کو جرأت نہ ہو سکی۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن برپا ہوا، ہم کوئی انصاف نہ کر سکے اور کوئی آئین نہ بنا سکے۔ سانحہ ساہیوال ہوا ہم نے انصاف کی دھجیاں بکھیر دیں۔ اندرون سندھ میں معصوم بچی کو سنگسار کیا گیا ہماری غیرت کو کچھ نہ ہوا۔ آئے دن معصوم بچوں کی لاشیں کوڑے کے ڈھیروں سے ملتی ہیں اور ہم شبنم کے قطرے جتنے بھی آنسو نہیں بہاتے۔ بے قصور لوگوں کو پولیس مقابلوں میں لبیک اجل کہنے پر مجبور کرتے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اور ہم پل بھر میں ان تمام سانحات و واقعات کو قصۂ پارینہ راہ کی حتمی شکل دے کر اپنے فرائض منصبی سے سبکدوش ہو جاتے ہیں۔ اس وقت معاشرے کے پڑھے لکھے اور مہذب لوگوں میں شمار ہونے والے لوگوں میں وکیل اور ڈاکٹر خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ ان دونوں احباب کے پاس دنیا ملک عزیز کی جامعات کی بہترین ڈگریاں ہیں مگر یہ دونوں احباب اس معاشرے کے ماتھے کا بدترین جھومر بن چکے ہیں۔ (اس کی صرف ایک وجہ ملک میں لاقانونیت ہے) پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کا حملہ کرنا، ڈاکٹروں کو زدو کوب کرنا اور مریضوں پر تشدد کرنا غلیظ ترین معاشرے اور سیاہ ترین دور کی عکاسی کرتا ہے۔ زمانہ جہالت میں بھی مختلف قبائل کے کچھ آئین تھے۔ معاشرے میں کوئی رواداری تھی مگر ہمارے ہاں اس کا بھی کوئی تصور نہیں ملتا۔ جنگوں میں بھی بوڑھوں، بیماروں، بچوں اور عورتوں پر حملہ کرنے اور قتل کرنے سے منع فرمایا گیا تھا مگر میرے اس اسلامی ملک میں یہ دستور بھی نہیں ہے کہ انسانوں پر رحم کیا جائے۔ جنگ میں تو زخمیوں کی مرہم پٹی اور پانی پلانے کا بھی رواج تھا مگر وطن عزیز میں ایسا بھی اصول بھی کار فرما نہیں۔ بھیڑیا تو بھیڑ اور بکری پر حملہ کرنے کو پسند کرتا ہے مگر وطن عزیز میں ایسی کوئی قید نہیں ہے۔ ہم تمام حدود و قیود کے خود بانی ہیں اور بانیٔ پاکستان کو شرمندہ کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رہے۔ ۔ حکومتیں جمہوریت پسندوں کی ہوں یا عسکریت پسندوں کی، حکومتوں میں حصہ بیوروکریسی کا ہو یا ڈکٹیٹروں کا، اسٹیبلشمنٹ نے مثبت کردار ادا کیا ہو یا منفی، سارے کا سارا نقصان ملک کا ہوا، معاشرے کا ہوا اور غریب افراد کا ہوا ہے۔ غریب شہر سوکھے ٹکڑے کھانے پر اور فاقے پر مجبور اور امیر شہر کے کتوں کو گوشت اور گھوڑوں کو مربہ جات نصیب ہوئے۔ غریب شہر کے تن پر کپڑا نہ ہو اور امیر شہر نے ہر روز برانڈڈ سوٹ پہنا۔ غریب شہر کی بیٹی تار تار کو ترسی اور امیر شہر نے ہزاروں ایکڑ کپاس لگائی۔ اس ملک میں نہ جمہوریت پنپے گی اور نہ ہی ریاست مدینہ وجود میں آئے گی۔ وہی پرانے چہرے ہوں گے اور کھوکھلے نعرے ہوں گے اور لولا لنگڑا نظام حکومت ہو گا۔ وہی دشت ہو گا وہی پیاس ہو گی۔ وہی بھوک ہو گی ۔ وہی انسانیت کی تذلیل ہو گی۔ وہی غریب عوام ہو گی کیونکہ ہم بھٹک گئے ہیں۔


ای پیپر