سبز پاکستان اور انتشار پسند عناصر
16 دسمبر 2019 2019-12-16

ان دنوں پاکستان میں عجیب طرح کی صورت حال ہے۔پچھلے چند روز میں انتہائی پسندی اور قوتِ برداشت کی کمی کی وجہ سے دو ایسے واقعات پیش آئے کہ جن پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔دکھ تو اس بات پہ ہے کہ یہ دونوں واقعات تعلیم یافتہ اور انتہائی مہذب طبقے کی طرف سے ہوئے جس کی وجہ سے تعلیم کے لفظ پر سوالیہ نشان لگ گیا۔ پاکستان کے وہ طبقے جنہیں کسی بھی ریاست میں بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے وہ طبقے ہی ملک میں افراتفری اور ملکی انتشار میں پیش پیش نظر آ رہے۔ابھی ہم ’’لال لال ہوگا‘‘کے نعروں اور اس کشمکش سے باہر نہیں نکلے تھے کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں اس نعرے کے سے پروان چڑھنے والی نسل کی طرف سے ردِ عمل سامنے آ گیا اور یہ ردِ عمل اس طبقے کے خلاف آیا جو ملک میں سبز ہونے کا نعرہ لگا رہا ہے ‘جس طبقے کا خیال ہے کہ یہ ملک اگر اسلام کے نام پر بنا ہے تو یہاں سسٹم اور نظام بھی وہی ہونا چاہیے اور اس بات میں بلاشبہ کوئی دو رائے نہیں کہ یہ ملک قرآن و حدیث کی ترویج اور اسلامی تجربہ گاہ کے طور پر بنایا گیا تو پھر اس میں کیسے کسی اور ازم کی گنجائش باقی بچتی ہے۔سیکولر ازم ہو یا ماڈرن ازم‘اسلام ازم کے سامنے یہ سب ازم کھو چکے ہیں ۔وہ طبقہ جو مغربی تعلیم و ترقی کا حامی تھا اور جس کا خیال تھا کہ قائد ایک سیکولر ملک چاہتے تھے اور وہ اس کے تناظر میں قائد کی ایک تقریر کا بھی حوالہ دیتے ہیں‘وہ طبقہ اب اس بند گلی میں داخل ہو چکا ہے جسے واپسی کا کوئی راستہ نہیں مل رہا۔میں نے اپنے ایک کالم میں اس بات کا انتہائی تفصیل سے ذکر کیا تھا کہ جو طبقے ایشیا کو سرخ کرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں ان کے پاس حقیقت میں نہ تو کئی نظریہ ہے اور نہ ہی کوئی واضح دلیل‘سوائے اس کے کہ وہ نئی نسل سے ان کی زبان‘کلچر اور تہذیب چھیننا چاہتے ہیں۔میں ایسے بونے دانشورانِ مغرب سے کہا کرتا ہوں کہ آپ جس لولے لنگڑے نظریے کی ترویج کرنا چاہتے ہیں وہ تو ایشیا میں آنے سے پہلے ہی دم توڑ چکا سو ایشیا کیوں کسی کے اتارے ہوئے کپڑے قبول کرے۔جب ایشیا کے پاس اپنا مکمل ایک نظامِ جمہوریت اور نظامِ ریاست موجود ہے جو چودہ سو سال پہلے دنیائے عالم کے رہنما ہمارے نبیﷺ دے کر جا چکے تو اسے کسی اور نظام کی کیا ضرورت ہے۔کچھ روز قبل اسلامک یونیورسٹی میں ایک مذہبی جماعت کی طرف سے لگائے کتاب میلے اور ایجوکیشن پر جس طرح مخالف گروپ نے حملہ کیا ‘اس سے یہ بات تو واضح ہو گئی کہ تعلیم نہ تو ہمیں شعور دے سکی ہے اور نہ ہی ہمارے اندر قوتِ برداشت پیدا کر سکی۔یہی وجہ ہے کہ ہم ہمیشہ یہ کہتے اور سنتے آئے ہیں کہ طلبہ تنظیمیں اگر اپنے کارکنان کی ذہنی تربیت نہیں کر سکیں‘اگر انہیں انتہا پسندی سے دور نہیں لے جا سکیں تو ایسی یونینز کا پاکستان میں کوئی مستقبل نہیں اور نہ ہی ہمیں ایسے تنظیموں کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ بین الالقوامی اسلامی یونیورسٹی میں ایجوکیشن ایکسپو اور کتاب میلے پر حملہ کرنے والا وہ طبقہ جس کا خیال ہے کہ ایشیا اب مغربی کلچر کا متحمل ہو گیا ہے اسے اپہنے نقطہ نظر پر یقینا غور کرنا ہوگا۔طفیل الرحمن ہاشمی کی وفات سے ایک بات تو واضح ہو گئی کہ ایشیا کو سرخ بنانا ایک مشکل ترین مسئلہ ہے کیونکہ ابھی ایسے جانباز موجود ہیں جن کا ایمان ہے کہ یہ ملک سبز ہونے کے لیے ہی بنا ہے۔میں ابھی ڈاکٹرز گردی اور وکیل گردی کے واقعے سے باہر نہیں آ پایا تھا کہ محمد ضیغم مغیرہ کے توسط سے سانحہ اسلامی یونیورسٹی کی خبر ملی۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ایک طرف ڈاکٹرز اور وکیل اس ملک کا امن خراب کرنے میں لگے ہیںتو دوسری جانب وہ طبقہ جسے اقبال نے قوم کا مستقبل کہا تھا وہ لسانی اور ذاتی تعصب میں ایک دوسرے کی جان لینے پر تل گیا۔آپ ڈاکٹرز اور وکلاء کے بے حسی دیکھیے کہ دونوں محض ذاتی جنگ میں نشانہ عام آدمی کو بنا رہے ہیں اور یہ ایک متفقہ حقیقت ہے کہ یہ دونوں طبقے ریاست کو بلیک میل کرنے اور ریاستی جبر بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کرتے رہے۔آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اور خود فیصلہ کریں کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کا مریضوں سے کیا رویہ ہوتا ہے۔میں درجنوں واقعات لکھ سکتا ہوں جس میں ڈاکٹر گردی کو خود دیکھا اور اس پہ احتجاج کیا۔یہ لوگ حقیقت میں ہسپتالوں میں بیٹھے انتہائی بے حس ہو جاتے ہیں‘یہ مریضوں کو یوں ٹریٹ کرتے ہیں جیسے یہ ان کی جاگیر ہوں یا مریض ان کے غلام ہوں۔ہسپتالوں کے سٹاف رومز میں بیٹھے سگریٹ پینے‘موبائل پہ چیٹ کرنے اور گیمز کھیلنے میں مصروف ہوں گے مگر جب کوئی عام آدمی ان سے اپنی مرض کی بات کرے گا یہ اس سے اتنے سخت رویے میں بات کرتے ہیں کہ مریض سہم جاتا ہے۔یہی کچھ وکیل کرتے ہیں۔وکلاء حضرات بازار میں ہوں یا دفاتر میں‘یہ ہر آدمی کو اپنا کلائنٹ سمجھ لیتے ہیں اور یہ ہر آدمی سے یوں سلوک کرتے ہیں جیسے وہ انتہائی کم تر درجے کا شہری ہے اور یہ خود کسی اور ہی سیارے کی مخلوق۔ایسا کیوں ہے؟اس کی وجہ وہ عدم برداشت اور انتہا پسندی ہے جو تعلیمی نظام کو بھی تباہ کر گئی اور ہمارے پڑھے لکھے طبقوں کا بھی بیڑا غرق کر گئی۔یقین جانیں اس وقت اس ملک کو جس چیز کی سب سے ذیادہ ضرورت ہے وہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کی جانی والی کوششیں ہیں کیونکہ ڈاکٹرز ہوں یا وکیل‘طلبہ یونینز کے ارکان ہوں یا لسانی و صوبائی تعصب میں گھری ہوئی نوجوان نسل ‘سب کو اس ملک کے لیے سوچنا ہوگا‘سب کو اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ یہ ملک جسے ہمیں سرسبز و شاداب کرنا ہے اس کے لیے ہمیں اپنی جانوں کا نذرانہ بھی دینا پڑے تو ہمیں پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے کیونکہ ہماری جانیں نوجوان طفیل الرحمن ہاشمی سے زیادہ قیمتی تو نہیں ہو سکتیں۔وہ خوبصورت نوجوان جو اپنے گھر سے تعلیم کی ڈگری لینے آیا تھا اور جاتے ہوئے سبز عمامہ پہنا اور داعی اجل کی آواز پہ لبیک کہہ گیا ۔یہ سبز عمامہ سبز پاکستان کا استعارہ ہے جسے ہم نے اپنے ذہنوں سے فراموش کر دیا۔میری موجودہ حکومت سے گزارش ہے کہ خدارا اس ملک سے انتشار پسند عناصر کے خاتمے کے لیے کوئی لائحہ عمل تیار کیا جائے کیونکہ یہ انتشار پسند انتہائی خاموشی سے اس ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے‘اس ملک کی تہذیب اور ثقافت کو مٹانے اور اسے تباہی کے دہانے پر لے جانے میں اپنا انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔مختلف شکلوں میں موجود ‘مختلف شعبوں میں بیٹھے ایسے تمام متعصب اور انتشار پسند عناصر کا قلع قمع کرنا ہوگا کیونکہ یہ وقت کی انتہائی اہم ضرورت ہے۔ایسے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر نشانِ عبرت بنایا جائے تا کہ باقی عوام کو اس بات کا احساس ہو جائے کہ یہ ملک دنیائے عالم کے لیے ایک مثال بنے گا‘ایک ایسا ملک جہاں ایک ایسا نظامِ جمہوریت قائم ہوگا جو اسلامی قوانین کی پاسداری کرے گا۔یہاں ایک ایسا نظامِ حکومت ہونا چاہیے جہاں تمام انسانوں کو انسان کہلانے کا حق دیا جائے اورتمام طبقو ں کو وہ حقوق دیے جائیں جو اسلامی ریاست میں دیے جاتے تھے۔اگر ایسا ہوا تو ہی یہ اسلامی ریاست ہے ورنہ نعرے لگانے والے پہلے بھی آتے رہے اور بعد میں بھی آتے رہیں گے‘ہمیں صرف کام چاہیے اور وہ کام تبھی ممکن ہے جب ہمیں ذاتی دشمنی سے آزاد ہو کر ملک و قوم کے بارے میں سوچیں گے۔


ای پیپر