آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع ،تفصیلی فیصلہ جاری
16 دسمبر 2019 (17:37) 2019-12-16

اسلام آباد: آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا ،43صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ میں کہا گیا کہ 6 ماہ میں اگر قانون سازی نہ ہوئی تو صدر نئے آرمی چیف کا تقرر کریں گے۔

تفصیلات کے مطابق فیصلے میں کہا گیا کہ عدالتی تحمل کو غیر مقبول نظریہ ضرورت کے ساتھ نہ جوڑا جائے، ادارہ جاتی پریکٹس قانون کا مو¿ثرمتبادل نہیں ہوسکتا۔ ادارہ جاتی پریکٹس کے تحت ایک جنرل 3 سال کی مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائرڈ ہوتاہے۔

آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 3 سال کی توسیع دی گئی لیکن قانون کے تحت جنرل کے عہدے کے لیے ریٹائرمنٹ کی عمر یا مدت ملازمت نہیں دی گئی۔کیس کی دوسری سماعت کے موقع پر درخواست گزار نے زبانی پٹیشن واپس لینے کی اپیل کی تاہم عدالت نے درخواست گزار کی پٹیشن واپس لینے کی اپیل مسترد کردی۔

فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت نے قوانین پر عمل کرنا ہے، افراد کو دیکھنا ہے۔ ہمارے سامنے مقدمہ تھا کہ کیا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کی جاسکتی ہے جبکہ آرمی چیف کی تعیناتی، ریٹائرمنٹ اور توسیع کی ایک تاریخ رہی ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ آرمی چیف کی تعیناتی اور ریٹائرمنٹ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اضافی نوٹ میں جسٹس منصور علی شاہ کے تحریری فیصلے کی تائید کرتے ہوئے لکھا کہ آپ جتنے بھی اوپر ہوں قانون آپ سے اوپر ہی ہوتا ہے۔


ای پیپر