میں وزیر خزانہ نہیں، وزیر خالی خزانہ تھا، اسد عمر
16 اگست 2019 (21:59) 2019-08-16

اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسد عمرنے کہا ہے کہ عمران خان نے ٹھان لی ہے کہ وہ ایک بہترین وزیراعظم بنیں گے اور وہ ان پانچ سالوں میں بن کر بھی دکھائیں گے۔

ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مختلف لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ تو وزیر خزانہ بن رہے ہیں میں جواب میں انہیں یہی کہتا تھا کہ میں وزیر ِ خالی خزانہ ہوں کیونکہ اس وقت ملک کا خزانہ بالکل خالی ہو چکا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے اور وزیراعظم سخت فیصلے لے رہے ہیں تاکہ جلد از جلد حالات کو بہتر بنایا جا سکے اور ان غیر مقبول فیصلوں کی وجہ سے ان کی سیاسی ساکھ بھی متاثر ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی نے ورلڈ بینک کے لئے کام کیا ہے یا آئی ایم ایف میں کام کیا ہو۔

نجکاری کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کچھ اداروں میں ایسا کرنا ضروری ہے اور کچھ میں ضرورت نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت آمدنی کا جو ہدف رکھا گیا ہے وہ بہت بڑا چیلنج ہے، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)شبر زیدی کی جتنی بھی حمایت کی جائے وہ کم ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ پی ٹی آئی کے چاہنے والوں میں بھی تبدیلی آئی ہے، اگر ہوائی اڈے جاﺅں تو وہاں پر کھڑے گارڈز، مارکیٹ میں کھڑے عام لوگ مجھے آ کر کہتے ہیں کہ مشکل وقت ضرور ہے مگر گھبرانا نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی امیدوں کا بہت دبا ﺅہوتا ہے، رات کو سونے سے قبل یہ ضرور سوچتا ہوں کہ کیا ہم ان کی امیدوں پر پورا اتر سکیں گے۔پے پال کے حوالے سے سوال پران کا کہنا تھا کہ بہت کوشش کی کہ یہ لوگ پاکستان آئیں مگر وہ بہت نخرے کر رہے ہیں، امید ہے کہ اس کا کوئی متبادل جلد لے کر آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ میں اس وقت اسلام آباد کے ماسٹر پلان کے علاوہ دس کروڑ گیلن پانی کی اسکیم، نوجوان مراکز اور کرکٹ اسٹیڈیم پر کام کر رہا ہوں تاکہ پی ایس ایل کے میچز بھی یہاں ہو سکیں۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا حسِ مزاح بہترین ہے، جب سے کابینہ چھوڑی ہے تب میں وزیراعظم سے معیشت پر بات نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ ورلڈکپ کے حوالے سے ہماری بہت بات چیت ہوتی تھی، بھارت کے خلاف میچ میں جو ٹیم کھلائی گئی انہیں بالکل پسند نہیں آئی وہ مجھ پر غصہ کر رہے تھے کہ یہ کیسی ٹیم کھیلا دی ہے۔

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ عمران خان پرامید تو بہت ہوتے ہیں مگر وہ کسی کام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے بہت جان مارتے ہیں۔پارٹی میں رہنماﺅں کے اختلافات سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک جمہوری پارٹی ہے، اصل سوال یہ ہے کہ دونوں رہنما ملک اور پارٹی کے لئے کیا کردار ادا کر رہے ہیں، جہانگیر ترین ہوں یا شاہ محمود دونوں پارٹی اور ملک کی خاطر ایک صفحے پر ہوتے ہیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں انہیں میں بہت پسند کرتا ہوں سیاسی طورپر تو ہم ایک دوسرے کو نہیں بخشتے مگر ذاتی طور پر ہمارا اچھا تعلق ہے۔

ایک سالہ کارکردگی کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا پہلا سال تھوڑا سخت ہوتا ہے چیزوں کے بارے میں زیادہ سمجھ نہیں ہوتی اس میں کوئی شک نہیں کہ بہتری کی گنجائش تھی مگر اس کے باوجود یہ سال اچھا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی شروعاتی دنوں میں جو فواد چوہدری نے میڈیا کے حوالے سے اقدام کیا وہ اصولی طور پر باکل ٹھیک تھا مگرسخت تھا جن کے ذریعے پیغام پہنچایا جانا تھا انہیں ہی ناراض کر دیا گیا۔

شادی کے حوالے سے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میں اور میری اہلیہ جامعہ میں ساتھ پڑھتے تھے، وہ مجھ سے دو سال جونیئر تھیں، ہماری پسند کی شادی ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سینما میں ایک ساتھ کافی اچھی فلمیں آئی تھیں تاہم اس کے بعد اس میں کچھ کمی آئی ہے، مجھے زیادہ تر سائنس فکشن فلمیں پسند ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں ٹی وی چینلز زیادہ نہیں دیکھتا، زیادہ تر نیٹ فلیکس پر فلمیں دیکھ لیتا ہوں اور انگلش ڈرامہ سیریز میں وائکنگز، سوٹس اور نارکوس میری پسندیدہ سیریز ہیں۔انہوں نے کہا کہ موسیقی سننے کا بہت شوق ہے اور اس میدان میں پاکستان میں ساحرعلی بگا بہترین کام رہے ہیں۔


ای پیپر