اقوام متحدہ اور کشمیر ۔ یہ نصف صدی کا قصّہ ہے
16 اگست 2019 2019-08-16

انڈیا کے 5 اگست کے فیصلے کی بدولت مسئلہ کشمیر 50 سال بعد ایک بار پھر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ایجنڈے پر واپس آ گیا ہے جو مظلوم کشمیریوں کے لیے امید کی کرن ہے ۔ یوں کہنا چاہیے کہ کشمیر 1947 ء کے تقسیم ہند کے فارمولے کی پوزیشن پر بحال ہو چکا ہے ۔ اور عین ممکن ہے کہ اب معاملہ انڈیا کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ اقوام متحدہ کے عالمی تنازعات کے حل کی فہرست نکال کر دیکھیں تو اس کے غیر حل شدہ تنازعوں میں کشمیر پہلے نمبر پر آتا ہے ۔ ایک بار پھر کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ اقوام متحدہ کے ہاتھ میں ہے یعنی بات 72 سال پہلے جہاں سے چلی تھی پھر وہیں پہنچ گئی ہے بقول۔

دوسری طرف کشمیر کا محاصرہ جاری ہے ٹیلی فون رابطہ دنیا سے منقطع ہے خبروں کا مکمل بلیک آئوٹ جاری ہے کرفیو چل رہا ہے پورا علاقہ ایک بہت بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ خوراک کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے ۔سڑکیں بند ہیں ایمبولینس کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں۔ انڈیا کے بدنام زمانہ جاسوس جو آجکل نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر ہیں وہ کئی دنوں سے کشمیر میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں کشمیری احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں گھروں میں گھس کر نوجوانوں کو اٹھا لیا جاتا ہے لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں سنگین خلاف ورزیوں پر چیخ رہی ہیں امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے کشمیر کو جہنم قرار دیا ہے مگر پھر بھی دنیا خاموش ہے ۔

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکہ چین روس برطانیہ اور فرانس ہیں اس وقت صدارت پولینڈ کے پاس ہے ۔ چین پاکستان کی حمایت کرے گا برطانیہ امریکہ اور فرانس کے بارے میں خیال ہے کہ وہ پاکستان کی مخالفت نہیں کریں گے امریکہ افغانستان میں پاکستان کا تعاون چاہتا ہے ۔ اس لیے پاکستان کو ناراض نہیں کرے گا ۔ برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن عمران خان سے زمانہ طالب علمی میں کرکٹ سیکھا کرتے تھے جو اب بھی عمران خان کے گہرے دوست ہیں۔ فرانس نے میرٹ پر ووٹ دینا ہے جو فطری طور پر پاکستان کے حق میں ہو گا ۔ روس کے بارے میں صورت حال مشکوک ہے اصل میں انڈیا کی پوزیشن اس چالاک حسینہ کی ہے جو بیک وقت دو آشنائوں کے عشق میں گرفتار ہے نہ وہ امریکہ کو جانے دیتے ہیں اور نہ ہی روس کو چھوڑنا چاہتے ہیں۔ روس ایک طرف تو پاکستان سے تعلقات چاہتاہے دوسری جانب پاکستان کی مخالفت کر کے اپنی امکان شکست کا حساب برابر کرنا چاہتا ہے ۔ سفارتی کوششیں جاری ہیں کہ وہ ویٹو نہ کر دے۔

انڈیا نے 72 سال گزرنے کے بعد بالآخر زبردستی کشمیر پر قبضہ کر لیا اور اس کی آئینی حیثیت جو کہ خود مختار ریاست کی تھی وہ ختم کر دی اس کی وجہ یہ ہے کہ 1947 سے 50 سال تک تو انڈیا میں بی جے پی یا وجود ہی نہیں تھا اس کے بعد بی جے پی کو پہلی بار 1998 ء میں اقتدار ملا جب واجپائی وزیر اعظم بنے مگر بی جے پی کی حکومت بہت کمزور تھی اسی طرح 2014 ء میں نریند مودی وزیر اعظم بنے مگر انہیں 2/3 اکثریت حاصل نہیں تھی 2019 ء کے عام انتخابات میں مودی نے بھر پور طریقے سے کشمیر کارڈ اور ہندو کارڈ کھیلا اور انتخابی منشور میں اعلان کیا کہ اگر انہیں 2/3 اکثریت ملی تو وہ آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کو حزف کر دیں گے بد قسمتی سے انہین مطلوبہ اکثریت حاصل ہو گئی ۔ مودی کے انتخابی منشور کے جواب میں کشمیر کی تمام سیاسی قیادت نے فیصلہ کیا تھا کہ اگر 370 کو ختم کر کے زبردستی کی گئی تو کشمیری فی الفور آزادی کا اعلان کر دیں گے یہی وہ وجہ تھی کہ اس وقت کشمیری قیادت نظر بند ہے اور ان کی آواز باہر نہیں آ رہی کیونکہ کشمیر ہندوستانی فوج کے محاصرے میں ہے ۔

اگر کشمیر میں شخصی آزادی بحال ہو جائے اور میڈیا کوریج کی اجازت ہو تو آپ دیکھیں گے کہ کس طرح کشمیری اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اقوام متحدہ میں سکیورٹی کونسل کشمیریوں کی حمایت کر ے گی ۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ سکیورٹی کونسل نے ہنگامی اجلاس پاکستان کی درخواست پر غیر معمولی حالات کے پیش نظر بلایا ہے ۔ پاکستان کے اندر بھی بہت سے حکومت مخالف طبقے یہ سمجھتے تھے کہ اقوام متحدہ پاکستان کی درخواست کو مسترد کر دے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ اس کا اخلای فائدہ یہ ہوا ہے کہ کشمیر کو متنازعہ تسلیم کیا گیا گویا اقوام متحدہ زبردستی قبضے کو تسلیم نہیں کرتی۔ اس سے انڈیا کو سفارتی شکست ہوئی ہے اور انہیں اپنی Blunder کا احساس ہو چکا ہے ۔ خدانخواستہ اگر ووٹنگ میں پاکستان کو شکست ہو بھی جاتی ہے تو باقی یعنی اصل آپشن پھر بھی موجود رہیں گے کشمیریوں کی طرف سے مزاحمت کا ایک نیا باب اب شروع ہو گا۔ اس مزاحمت کے پریشر کے آگے اقوام متحدہ کے لیے اپنے ضمیر کو دبانا ممکن نہیں رہے گا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ مودی کے اس آمرانہ اقدام کو انڈیا کے اندر بھی پزیرائی نہیں مل سکی اس بھارتی فیصلے سے انڈیا جو کہ اقوام متحدہ میں ویٹو پاور حاصل کر نے کے خواب دیکھا کرتا تھا وہ خاک میں مل جائیں گے۔ ضمنی طور ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اقوام متحدہ کے مستقل ممبر ممالک کو سیاسی دور اندیشی کا مظاہرہ کرنا ہی پڑے گاکہ وہ کوئی ایسا غلط اور ماورائے انصاف فیصلہ نہ کر دیں۔ جس کے نتیجے میں دو نیو کلیئر ہمسایوں کے درمیان جنگ چھڑ جائے۔ اقوام متحدہ نے اگر فیصلہ پاکستان یا کشمیریوں کے خلاف کرنا ہوتا تو وہ پاکستان کی درخواست منظور ہی نہ کرتے اور یہ معاملہ یہاں ختم ہو جاتا مگر ایسا نہیں ہوا۔

پاکستان محض اقوام متحدہ پر انحصار نہیں کرے گا اگر تو فیصلہ حق میں آ جاتا ہے تو یہ انصاف اور جمہوریت کی فتح ہو گی البتہ آگے اسے ویٹو کیا گیا تو پاکستان اس نا انصافی کو قبول نہیں کرے گا۔ یہاں پر بطور خاص جنرل ریٹائرڈ طارق خان کا دفاعی تجزیہ کا حوالہ دینا مناسب ہو گا انہوں نے Theory of enjoyment & pain کا فلسفہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ یہ مت سمجھیں کہ جو شخص ناجائز قابض ہو وہ منت سماجت سے آپ کی جائیداد واپس کرے گا۔ اگر کوئی شخص آپ کے گھر میں گھس کر آپ کے بیڈ روم پر قبضہ کر کے وہاں رہائش اختیار کرے گا تو منت سماجت سے وہ کبھی نہیں مانے گا کیونکہ وہ اس سہولت کو Enjoy کر رہا ہے ۔ ہاں یہاں رہنے سے اگر آپ اس کے لیے ایسے حالات پیدا کر دیتے ہیں کہ اس کی Enjoyment کے مقابلے میں اس کی Pain یا تکلیف بڑھ جائے تو وہ نکلنے پر مجبور ہو جائیگا یہ مثال انہوں نے کشمیر پر دی ہے کہ وہاں انڈیا کو جب تک درد نہیں ہو گا مت سوچیں کہ وہ یہ علاقہ خالی کرے گا۔


ای پیپر